ڈیرہ اسماعیل خان میں خون جماتی سردی اور شدید دھند بھی پولیو ورکرز خدمت سے نہ روک سکی۔
شدید سردی میں بھی نئی نسل کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے مشکلات کو بھی شکست دے دی۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں انسداد پولیو مہم کے فرنٹ لائن ورکرز مشکل موسم میں بھی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دو گھنٹے کی مسافت میں دریائے سندھ عبور کرکے ان ورکرز نے 1100بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے ہیں۔
شدید سردی اور دھند میں بھی ٹیمیں اپنے مختص علاقوں میں سرگرم عمل ہیں۔
دریائے سندھ کے دوسری جانب کشتیوں پر اس مشکل موسم میں سفر کرنا کوئی معمولی بات نہیں لیکن سلام
ہے ان ورکز کو جو اپنی زندگیوں کی پروا کیے بغیر اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا رہے ہیں۔

خیال رہے ملک بھر میں 11 جنوری سے پانچ روز مہم جاری ہے
2021 کی پہلی انسداد پولیو مہم میں ملک بھر کے چار کروڑ سے زائد بچوں کو ویکسین کے قطرے اور
وٹامن اے کی خوراک دی جا رہی ہے۔
مہم میں 2 لاکھ 85 ہزار فرنٹ لائن ورکرز حصہ لے رہے ہیں ویکسین سے بچوں کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوگا۔
پولیو ورکرز کورونا کی موجودگی میں مہم میں حصہ لے کر معاشرے کے لیے عظیم مثال قائم کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے بھی شمالی علاقہ جات میں برف پر چلتے ہوئے پولیو کارکن نے کئی کلو میٹر سفر کیا اور بچوں کو
ویکسین کے قطرے پلائے تھے۔
پولیو ٹیم کی دل گی بچے کے پیچھے درخت پرچڑھ گئی
اسی طرح جمرود میں اپریل 2019 میں پولیو ٹیم نے درخت پر چڑھ کے بھی بچوں کو ویکسین کے قطرے پلائے تھے۔
دوسری جانب ایسے بھی انسانیت دشمن لوگ موجود ہیں جو ٹیم کے اراکین پر حملے اور جھوٹے
من گھڑت پروپیگنڈے بھی کر رہے ہیں۔
اسی مہم کے دوسرے روز کرک میں دہشت گردوں نے ایک ٹیم پر گولیاں چلادی تھیں جس میں ایک
پولیس اہل کار شہید ہوا۔
دہشت گردی اور حملوں کے باوجود سرد ترین موسم کی سختی جھیلتے ہوئے کارکن مہم کامیاب بنا رہے ہیں۔
خبروالے کی پوری ٹیم کا ملک بھر میں کام کرنے والے ایسے محب وطن کارکنوں کو سلام ہے۔
