واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی یونیورسٹی ’ییل ‘کے پروفیسر نکولاس کرسٹاکیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس پر قابو پائے جانے کے بعد دنیا فحاشی و جنسی بے راہ روی کی گہرائیوں میں ڈوب جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر 2024 ء اخلاقی پستی میں گرنے کا سال ہوگا۔ نکولاس کرسٹاکیس امریکی یونیورسٹی ییل میں معاشیات، ادویہ اور نیچرل سائنس کے پروفیسر ہیں۔ انہوں نے سابقہ ادوار میں وباؤں کے مشاہدے اور انسانی برتاؤ کا تجزیہ کرتے ہوئے کورونا وبا کے بعد کے دور کا خاکہ کھینچا ہے۔ پروفیسر نکولاس نے اپنی کتاب ’اپولوز ایرو : دی پروفاؤنڈ اینڈ اینڈیورنگ امپیکٹ آف کورونا وائرس آن دی وے وی لائیو‘ میں کورونا وبا کے بعد کی صورت حال کا معاشرتی اور تاریخی تجزیہ کرتے ہوئے کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔ پروفیسر نکولاس نے اپنی کتاب میں لکھا کہ 2024 ء میں ویکسین کے بعد ممکنہ طور پر انسانی معاشرہ وبا کے خلاف قوت مدافعت حاصل کرلے گا اور یہی وبا کے بعد کا دور ہوگا۔ اس وقت بھی وائرس موجود ہوگا، لیکن اس کی شدت کم ہوگی۔ پروفیسر نکولاس کا کہنا ہے کہ وبا کے دوران لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں اور مذہب کی جانب راغب ہوجاتے ہیں، جس سے جرائم میں بھی کمی آتی ہے، لیکن جیسے ہی زندگی دوبارہ اپنے ڈگر پر چلنا شروع ہوتی ہے، دبے ہوئے جذبات تیزی سے امڈ آتے ہیں۔ امریکی پروفیسر نے خدشہ ظاہر کیا کہ وبا کے خاتمے کے بعد فوراً ہی جنسی بے راہ روی کا آغاز ہوجائے گا اور اس دوران مذہب سے لگاؤ کم ہوجائے گا۔ نکولاس کرسٹاکیس نے یاد دلایا کہ 1920 ء کی دہائی میں بھی ایسا ہی ہوا تھا اور 2 ہزار برس کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وبا کے خاتمے پر ایک جشن کا سا سماں ہوتا ہے اور جنسی بے راہ روی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اکیسویں صدی میں بھی کچھ ایسا ہی ہونے کا امکان ہے۔
