تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے درمیان مفادات کے ٹکراؤ پر ایک بار پھر سے ٹھن گئی ہے۔
اس مرتبہ دونوں جماعتوں کے آمنے سامنے آنے کی وجہ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی نشست ہے۔
اپوزیشن لیڈر کس جماعت کا ہو گا اس پر چھوٹی چھوٹی تمام جماعتوں کا اتحاد ایک پیج پر آچکا ہے
لیکن ایم کیو ایم کو تحریک انصاف پر تحظات ہیں۔
اس طرح تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے درمیان ڈیڈلاک آچکی ہے ایم کیو ایم نےحلیم عادل شیخ
کو اپوزیشن لیڈر بنانے کی درخواست پر دستخط نہیں کیے۔
تحریک انصاف اور جی ڈی اے ارکان درخواست پر دستخط کرچکے ہیں ایم کیو ایم نے پی ایس 88
ملیر کے ضمنی انتخاب میں بھی اپنا امیدوار بھی کھڑا کردیا۔
گورنر سندھ عمران اسماعیل ڈیڈ لاک ختم کروانے کے لئے متحرک ہیں شائد اسی لیے وہ وزیر اعظم
سے ملاقات کے لئے اسلام آباد میں ہیں۔
