اسلام آباد( آن لائن ) وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا ، اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کورونا وبا کی صورتحال میں این سی او سی،وزارت خزانہ اور احساس پروگرام کے تحت مستحقین میں کیش گرانٹس کی بروقت اور شفاف طریقے سے تقسیم کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کمزور اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات کو مد نظر رکھتے ہوئے لاک ڈاؤن کے حوالے سے ایک متوازن حکمت عملی اپنائی جس کا محور غریب او ر دیہاڑی دار طبقہ تھا۔ اگر ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کردیا جاتا تو اس کے بھیانک نتائج مرتب ہوسکتے تھے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت سنبھالتے ہی معیشت کے حوالے سے کٹھن فیصلے کرنے پڑے جس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی پر اثر پڑا۔ عوام نے ہمار ا ساتھ دیا اور ادارہ شماریات کی جانب سے سروے بیس ڈیٹا اس امر کا مظہر ہے کہ کورونا وبا کے حوالے سے ہماری حکمت عملی نہ صرف کامیاب رہی بلکہ معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہا۔ وزیراعظم نے این سی او سی، احساس اور وزارت خزانہ کی ٹیم کے بروقت اور شفاف اقدامات کو خصوصی طور پر سراہا۔ وفاقی کابینہ کو گزشتہ 6ماہ میں سول سروس اصلاحات کے ضمن میں لیے جانے والے اقدامات پر مفصل بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزارتیں اور ڈویژنز ان اصلاحات کی روشنی میں وزارتوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور کاروبا کرنے والوں کے لیے مزید آسانیاں پیدا کرنے کے حوالے سے اقدامات اٹھائیں۔ وفاقی کابینہ نے وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کو صحت سہولت پر وگرام کی ڈیٹا تصدیق کے ضمن میں نادراسے براہ راست پانچ سالہ معاہدہ کرنے کی منظوری دی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی اورادارہ جاتی اصلاحات کے فیصلوں کی توثیق کی۔وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کابینہ کو وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے حال ہی میں کیے جانے والے سروے کی بنیاد پر کورونا وباء کے اثرات کے نتائج پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بروقت فیصلہ سازی کی جس کے مثبت سماجی اور معاشی نتائج حاصل ہورہے ہیں۔

