پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں 220 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ کے کپتان ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
ابتدائی چند اوورز میں پاکستانی باؤلرز نئی گیند کے ساتھ لائن ولینتھ سے بالکل عاری نظر آئے اور 4 اوورز میں مہمان بلے بازوں نے 28رنز جڑ دیے۔
Debutant Imran Butt takes a brilliant catch!
Watch #PAKvSA Live: https://t.co/rvyBajG99F#HarHaalMainCricket #BackTheBoysInGreenhttps://t.co/oD2Gx2Trd4 pic.twitter.com/criIc52pTY
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) January 26, 2021
پاکستان کو پہلی کامیابی اس وقت ملی جب 30 کے مجموعی اسکور پر پہلا میچ میچ کھیلنے والے عمران بٹ نے سلپ میں شاندار کیچ لے کر ایڈن مرکزم کی اننگز کا خاتمہ کردیا جنہوں نے 13 رنز بنائے۔

راسی وین ڈر ڈوسن اور ڈین ایئلگر نے ٹیم کی نصف سنچری مکمل کراتے ہوئے اسکور کو 63 تک پہنچایا لیکن اس مرحلے پر وکٹوں کے درمیان غلط فہمی کے نتیجے میں ڈوسن کی 17 رنز کی اننگز رن آؤٹ کی شکل میں اختتام کو پہنچی۔
Mohammad Rizwan doing @iMRizwanPak things ⚡️
Watch #PAKvSA Live: https://t.co/rvyBajG99F#HarHaalMainCricket #BackTheBoysInGreen pic.twitter.com/o0OQY6eKnk
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) January 26, 2021
فاف ڈیو پلسیی اور ڈین ایلگر نے 45 رنز کی شراکت قائم کی لیکن یاسر شاہ کے ہاتھوں ڈیو پلیسی کی اننگز اختتام کو پہنچی، انہوں نے 23 رنز بنائے۔
کپتان کوئنٹن بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ رک سکے اور 15 رنز بنانے کے بعد نعمان علی کی انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلی وکٹ بن گئے۔
Maiden Test wicket of Nauman Ali!
Watch #PAKvSA Live: https://t.co/rvyBajG99F#HarHaalMainCricket #BackTheBoysInGreen pic.twitter.com/YSjAxqH0xu
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) January 26, 2021
نعمان نے اپنے اگلے اوور میں ایک اور اہم وکٹ حاصل کرتے ہوئے 58 رنز بنانے والے ڈین ایلگر کو کپتاب بار اعظم کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔
پانچ وکٹیں گرنے کے بعد ٹیمبا باووما کا ساتھ دینے جیارج لنڈے آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے چھٹی وکٹ کے لیے 43 رنز جوڑے۔

اس سے قبل کہ یہ شراکت خطرناک ثابت ہوتی، رن آؤٹ کے نتیجے میں باووما پویلین واپسی پر مجبور ہو گئے۔
چائے کے وقفے کے بعد یاسر شاہ نے کیشپ مہاراج کی وکٹیں بکھیر دیں جبکہ 35 رنز بنانے والے جیارج لنڈے کو حسن علی نے اپنی وکٹ بنایا۔
اینرچ نورجے کی اننگز بھی جلد اختتام پذیر ہوئی اور یاسر شاہ نے انہیں بھی اپنا شکار بنا لیا۔
220 کے مجموعی اسکور پر پاکستان کو آخری کامیابی حاصل ہوئی جب شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر لنگی نگیدی ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔
جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم 220 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی، پاکستان کی جانب سے یاسر شاہ تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ نعمان علی اور شاہین شاہ آفریدی نے دو، دو وکٹیں اپنے نام کیں۔
اس سے قبل جنوبی افریقہ کے کپتان کوئنٹن ڈی کوک نے ٹاس کا سکہ اپنے حق میں دیکھ کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے اس میچ میں پاکستان نے دو کھلاڑیوں کو ڈیبیو کرایا۔
پاکستان نے اوپننگ بلے باز عمران بٹ اور اسپنر نعمان علی کو ڈیبیو کرایا ہے جبکہ حسن علی کی دو سال بعد قومی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔
بابر اعظم نے کہا کہ وکٹ کافی خشک لگ رہی ہے اور ہمارا بھی پہلے بیٹنگ کا ارادہ ہے لیکن بدقسمتی سے ٹاس پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں لگ رہا ہے گیند کافی ٹرن ہو گا کیونکہ وکٹ خشک ہے اور اسپنرز کو مدد ملے گی۔
قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ عمران بٹ اور نعمان علی کا ڈیبیو ہے اور وہ دونوں کافی پرجوش ہیں جبکہ کافی عرصے بعد ایک بڑی ٹیم پاکستان آئی ہے تو ہم بھی کافی پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہوم گراؤنڈ ہونے کی وجہ سے کنڈیشنز ہمارے لیے سازگار ہیں لیکن کسی بھی ٹیم کو آسان نہیں لینا چاہیے اور جنوبی افریقہ دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک ہے۔
یاد رہے کہ بابر اعظم پہلی مرتبہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں قیادت کررہے ہیں۔
جنوبی افریقہ کے کپتان کوئنٹن ڈی کوک نے تصدیق کی کہ وہ میچ میں تین اسپنرز کے ساتھ میدان میں اترنا چاہتے تھے لیکن ٹریننگ کے دوران تبریز شمسی انجری کا شکار ہوئے جس کی وجہ سے وہ میچ نہیں کھیل سکیں گے اور آخری لمحے پر لنگی نگیدی کا نام شامل کیا گیا۔
میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔
جنوبی افریقہ: کوئنٹن ڈی کوک(کپتان)، ڈین ایلگر، ایڈن مرکرم، فاف ڈیو پلیسی، راسی وین ڈر ڈوسن، ٹیمبا باووما، جیورج لنڈے، کیشپ مہاراج، کگیسو ربادا، اینرچ نورجے اور لنگی نگیدی
پاکستان: بابر اعظم(کپتان)، عمران بٹ، عابد علی، اظہر علی، فواد عالم، محمد رضوان، فہیم اشرف، حسن علی، نعمان علی، یاسر شاہ اور شاہین شاہ آفریدی
واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم 14سال کے طویل عرصے کے بعد پاکستان کے دورے پر آئی ہے اور اس نے آخری مرتبہ 2007 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے تھے اور پاکستان نے تقریباً 9سال اپنی سرزمین پر کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں کھیلی تھی اور اس دوران پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو اپنا عارضی ہوم گراؤنڈ بناتے ہوئے وہاں اپنی تمام ہوم سیریز کھیلیں۔
منبع: ڈان نیوز
