جنوبی افریقہ نے پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلی جا رہی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں جنوبی افریقہ کے کپتان کوئنٹن ڈی کوک نے ٹاس کا سلکہ اپنے حق میں دیکھ کر پہلئے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے اس میچ میں پاکستان نے دو کھلاڑیوں کو ڈیبیو کرایا ہے۔
پاکستان نے اوپننگ بلے باز عمران بٹ اور اسپنر نعمان علی کو ڈیبیو کرایا ہے جبکہ حسن علی کی دو سال بعد قومی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔
بابر اعظم نے کہا کہ وکٹ کافی خشک لگ رہی ہے اور ہمارا بھی پہلے بیٹنگ کا ارادہ ہے لیکن بدقسمتی سے ٹاس پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں لگ رہا ہے گیند کافی ٹرن ہو گا کیونکہ وکٹ خشک ہے اور اسپنرز کو مدد ملے گی۔
قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ عمران بٹ اور نعمان علی کا ڈیبیو ہے اور وہ دونوں کافی پرجوش ہیں جبکہ کافی عرصے بعد ایک بڑی ٹیم پاکستان آئی ہے تو ہم بھی کافی پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہوم گراؤنڈ ہونے کی وجہ سے کنڈیشنز ہمارے لیے سازگار ہیں لیکن کسی بھی ٹیم کو آسان نہیں لینا چاہیے اور جنوبی افریقہ دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک ہے۔
یاد رہے کہ بابر اعظم پہلی مرتبہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں قیادت کررہے ہیں۔
جنوبی افریقہ کے کپتان کوئنٹن ڈی کوک نے تصدیق کی کہ وہ میچ میں تین اسپنرز کے ساتھ میدان میں اترنا چاہتے تھے لیکن ٹریننگ کے دوران تبریز شمسی انجری کا شکار ہوئے جس کی وجہ سے وہ میچ نہیں کھیل سکیں گے اور آخری لمحے پر لنگی نگیدی کا نام شامل کیا گیا۔
میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔
جنوبی افریقہ: کوئنٹن ڈی کوک(کپتان)، ڈین ایلگر، ایڈن مرکرم، فاف ڈیو پلیسی، راسی وین ڈر ڈوسن، ٹیمبا باووما، جیورج لنڈے، کیشپ مہاراج، کگیسو ربادا، اینرچ نورجے اور لنگی نگیدی
پاکستان: بابر اعظم(کپتان)، عمران بٹ، عابد علی، اظہر علی، فواد عالم، محمد رضوان، فہیم اشرف، حسن علی، نعمان علی، یاسر شاہ اور شاہین شاہ آفریدی
واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم 14سال کے طویل عرصے کے بعد پاکستان کے دورے پر آئی ہے اور اس نے آخری مرتبہ 2007 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے تھے اور پاکستان نے تقریباً 9سال اپنی سرزمین پر کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں کھیلی تھی اور اس دوران پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو اپنا عارضی ہوم گراؤنڈ بناتے ہوئے وہاں اپنی تمام ہوم سیریز کھیلیں۔
جنوبی افریقہ کو ٹیم کے انتخاب میں ‘بہادرانہ’ فیصلہ کرنا ہوگا، مارک باؤچر

پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مارک باؤچر نے کہا ہے کہ ایشیائی وکٹیں اسپنرز کے لیے سازگار ہوتی ہیں اس لیے ٹیم کے انتخاب میں ‘بہادرانہ فیصلے’ کرنے ہوں گے۔
کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق مارک باؤچر نے کہا کہ ہمیں اپنے تیز باؤلرز پر انحصار ہوتا ہے لیکن اگر اس پر نظر ثانی کرنا پڑی تو ہم درست انتخاب کریں گے اور اچھی کرکٹ ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں روایتی انداز کے بجائے کھلے ذہن کے ساتھ فیصلے کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ یہ دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز ہے اس لیے ہم غلطی کے متحمل نہیں ہوسکتے کہ ہمیں ایک اضافی اسپنر کے ساتھ کھیلنا چاہیے تھا۔
مارک باؤچر کا کہنا تھا کہ ہمیں ابھی درست فیصلے کرنے ہوں گے اور اپنے ملک سے باہر سیریز جیتنے کے لیے ہمیں ‘بہادرانہ فیصلے’ کرنے ہوں گے۔
جنوبی افریقہ کے اسکواڈ میں تین فاسٹ باؤلرز شامل ہیں، جن میں کگیسو رابادا بھی ہیں جو انجری کے باعث سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز سے باہر ہوگئے تھے۔
ہیڈ کوچ نے سیریز میں فاسٹ باؤلرز کے کردار کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ ہم نے ریورس سیونگ پر بات کی ہے لیکن اس وقت گراؤنڈ میں آؤٹ فیلڈ گرین ہے اس لیے مجھے نہیں معلوم ریورس سوئنگ کتنی کارآمد ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ برصغیر کی کنڈیشنز فاسٹ باؤلرز کے لیے زیادہ معاون نہیں ہوتیں اور میرا نہیں خیال کہ فاسٹ باؤلر کو زیادہ مدد ملے گی۔
مہمان ٹیم میں کیشو مہاراج اور تبریز شمسی جیسی آزمودہ اسپنر شامل ہیں تاہم وہ 2018 کے بعد ٹیسٹ نہیں کھیل پائے ہیں۔
باؤچر نے کہا کہ تبریز کو جارحانہ اسپنر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے اور اگر انہیں ٹیم میں شامل کیا گیا ہے تو پھر سازگار وکٹ پر انہیں موقع دیں۔
کیشو مہاراج سے متعلق انہوں نے کہا کہ مہاراج بہترین باؤلر ہے لیکن انہیں سری لنکا کے خلاف باؤلنگ کا زیادہ موقع نہیں ملا جس کی وجہ وکٹ فاسٹ باؤلرز کے لیے سازگار سمیت کئی معاملات تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ کیشو مہاراج گزشتہ چند برسوں سے ہمارے مرکزی باؤلر ہیں لیکن بھارت کا دورہ ان کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا تھا جبکہ ہم نے تکنیکی مسائل پر بات کی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دو ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی، دونوں ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ سیریز ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا حصہ ہونے کی وجہ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 26 سے 30 جنوری تک کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جبکہ سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کی میزبانی 4 سے 8 فروری تک راولپنڈی کرے گا۔
اس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان 11، 13 اور 14 فروری کو تین ٹی 20 میچوں کی سیریز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلی جائے گی۔
منبع: ڈان نیوز
