کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ یکم فروری سے مقامی صنعتوں اور یکم مارچ سے برآمدی صنعتوں کے گیس کنکشن منقطع کرنے کے حکومتی فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے ، کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) کی جانب سے صنعتی صارفین کو گیس کے نئے کنکشنز اور کیپٹو پاور پلانٹس (سی پی پی) کے لیے پالیسی سے صنعتیں بند ہونے اور ملک دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے،گیس کی ملکی پیداوار میں سندھ کا 74فیصد حصہ ہے،لیکن سندھ کو صرف 38فیصد گیس دی جاتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں کراچی کے صنعتکاروں اور صنعتی شعبے کے نمائندوں کیسا تھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس سے معروف صنعت کار بابر خان ، معروف صنعت کار ادریس گگی ، فیصل معز خان صدر نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹریز،عبدالہادی صدر سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری ،نثار احمد خان صدر سائٹ سپر ہائی وے ایسوسی ایشن آف انڈسٹری ،سلیم الزماں صدر کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری،محمد علی صدر فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری ،سید رضا حسین نائب صدر ر فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی پبلک ایڈ کمیٹی کے نائب صدر اور کے الیکٹرک شکایت سیل کے انچارج عمران شاہد اور ڈپٹی سیکرٹری کراچی عبدالرحمن فدا بھی موجود تھے۔ اس موقع پر صنعتکاروں نے جماعت اسلامی کی ’’حقوق کراچی تحریک ‘‘کو سراہا اور امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن سے درخواست کی کہ صنعتکاروں کے مسائل کے حوالے سے آواز بلند کی جائے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صنعت کار پہلے ہی بہت مسائل کا شکار ہیں ، حکومت ان کے مسائل حل کرنے بجائے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہے ، ایسے حالات میں صنعت کاروں کی گیس منقطع کرکے کے الیکٹرک سے بجلی لینے کا فیصلہ کسی صورت معیشت دوست نہیں ہے ، کے الیکٹرک کو200 MMCF گیس دینے کے بجائے اگر صنعتوں کو 150 MMCFگیس فراہم کی جائے تو صنعتیںچلتی رہیں گی ، صنعت کار 11روپے فی یونٹ میں بجلی بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، لیکن حکومت چاہتی ہے کہ صنعت کار 15روپے فی یونٹ میں کے الیکٹرک سے بجلی خریدیں اضافی رقم حکومت کے بجائے بجلی مافیا کو جا رہی ہے اور اس معیشت دشمن فیصلے کے پیچھے حکمران طبقہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ کراچی کے عوام کے ساتھ مل کر مسائل حل کرنے کی جدوجہدکی ہے ، جماعت اسلامی صنعتکاروں کے ساتھ بھی ہر فورم پر کھڑی رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ، عوام کو کسی بھی شعبے میں ریلیف میسر نہیں، شہر کی آبادی کو آدھا گنا گیا اور حقیقی نمائندگی سے محروم کیا گیا،جماعت اسلامی کی’’حقوق کراچی تحریک ‘‘میں تمام طبقات کے مسائل اجاگر کرنے پر توجہ دی ہے ،جماعت اسلامی کی جانب سے ’’حقوق کراچی تحریک ‘‘کے سلسلے میں30جنوری کو 50مقامات پر دھرنے دیے جائیں گے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ گھریلو اور صنعتی صارفین کے لیے فوری گیس کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے اور گیس کے بحران پر قابوپانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں،گیس بحران نے سی این جی سیکٹر اور ٹرانسپورٹ کو بھی شدید متاثر کیا ہے،گھریلووصنعتی صارفین اور سی این جی سیکٹرز کو گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے ،آئین کے آرٹیکل 158کے تحت کسی بھی معدنی ذخیرے کا پہلا حقدار وہی صوبہ ہو گا،جہاں سے معدنیات نکلے گی ، حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمے داری ہے کہ صنعتی اداروں کی ضروریات پوری کریں تاکہ صنعتوں کا پہیہ چلتا رہے ،شہر میںسی این جی کی مسلسل بندش کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ بْری طرح متاثر ہو رہی ہے، سی این جی اسٹیشنز پرہزاروں افراد گھنٹوں قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور ہیں ۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ پی پی پی ، ایم کیو ایم ، ن لیگ اور پی ٹی آئی حکومت عوام کو سہولت دینے کے بجائے کے الیکٹرک کی مراعات میں اضافہ کر دیتی ہیں ، ، وزیر اعظم عمران خان اسد عمر ، تابش گوہر اور ندیم بابرکو کے الیکٹرک کے فرار کا راستہ فراہم کرنے کیلیے لائے ہیں ، کے الیکٹرک کے اربوں روپے کے واجبات عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں سے ادا کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ، ندیم بابر کا اپنا پاور پلانٹ ہے ، جو کے الیکٹرک کو 50میگا واٹ بجلی فراہم کرتا ہے ، کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لیا جائے اور اس کا فرانزک آڈٹ کیا جائے ۔
