حیدرآباد(نمائندہ جسارت) سندھ میں گندم کا بحران سنگین صورت اختیار کرگیا‘صوبائی حکومت‘ ضلعی انتظامیہ سمیت تحقیقاتی ادارے بھی بے بسی کا شکار‘ آٹا بدستور حیدرآباد میں70روپے اور اندرون سندھ80روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے کرپشن مافیا اپنے لوگوں کو بچانے میں مصروف تفصیلات کے مطابق مقامی ملز کی انتظامیہ نے ہزاروں ٹن گندم سرکاری گوداموں سے غائب کرکے سرکاری خزانے کو کروڑوں کا پہنچایا اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ حیدرآباد کی ایک ملز کی گندم کی سپلائی میں خرد بردکا نوٹس تحقیقاتی نے لیا لیکن حکمران جماعت کے بااثر رکن اسمبلی نے کارروائی رکواکر ذمے داران کو بچالیا مل ذرائع نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ملز کے مالک نے اپنے ایک دوست جس کے پاس گندم کی ٹرانسپورٹیشن کا ٹھیکا تھا سے ملکر کرکراچی اور اندرون سندھ کے کئی گوداموں سے 2016-ء سے لکر2018ء تک کروڑوں روپے کی گندم کی خرد برد کرائی اور جب تحقیقات شروع ہوئی تو اسی کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی تاہم بعد ازاں اس تحقیقات کو اس کے ہمدرد رکن اسمبلی نے رکوا دیا محکمہ خوران سندھ کے اعلی حکام نے اب تک خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جس کی قیمت عوام کو چکانا پڑ رہی ہے ۔
