سرینگر(اے پی پی)بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیرمیں ہائی کورٹ نے امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر عبدالحمید فیاض کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربندی کو کالعدم قراردیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم جاری کیا ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جسٹس راج نیش اوسوال اور جسٹس سنجے دھر پر مشتمل ہائی کورٹ کے ایک ڈویژنل بینچ نے 22جون 2019کو سنگل بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحمید فیاض کو نظربندی کے وقت دو مقدمات میں ملوث کیاگیا تھاجن میں سے ایک دس سال قبل جبکہ دوسری حال ہی میں بڈگام پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی ہے ۔ بھارتی قابض انتظامیہ نے ڈاکٹر عبدالحمید فیاض کو 2019 میں جھوٹے مقدمات میں ملوث کر کے گرفتارکرلیا تھا۔ عدالت کی طرف سے جاری احکامات میں کہا گیا ہے کہ حراست میں لینے والے مجاز حکام نے امیر جماعت اسلامی کی گرفتاری اور نظربندی کے وقت تمام شواہد کو مدنظر نہیں رکھا لہٰذا عدالت ان کی نظربندی کو کالعدم قراردیتے ہوئے فوری رہائی کا حکم جاری کرتی ہے ۔علاوہ ازیںغیر قانونی طور پرسابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی، چاہے وہ تنہا رہ جائے۔
