English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پلاسٹک کے استعمال کے حوالے سے پاکستان میں کوئی کام نہیں کیا گیا

القمر

جامشورو (نمائندہ جسارت) مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو اور عالمی ادارہ ٹیئر فنڈ کے درمیان شہر کے کچرے اور پلاسٹک کو چننے اور اُس سے کارآمد اَشیاء بنانے، علاقے کو ماحول دوست بنانے کا معاہدہ طے پاگیا۔ اس سلسلے میں شہر کے کچرے اور پلاسٹک کو چننا اور اس سے کارآمد ماحول دوست اَشیا بنانے کے سلسلے میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ مہران کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طہٰ حسین علی نے کہا کہ کچرے اور پلاسٹک کو اکٹھا کرنے کی تربیت اور پلاسٹک کے استعمال کا مسئلہ اِس وقت پوری دنیا میں ہے، مگر ہر ملک نے اس مسئلے کا اپنے طور کوئی نہ کوئی حل نکالا ہوا ہے لیکن پاکستان میں اس سلسلے میں کوئی کام نہیں کیا گیا۔ جامعہ مہران کے پانی اور ماحولیات کے پروفیسر نے کہا کہ کچرے کو جمع کیا جائے اور پلاسٹک کا بہتر استعمال کیسے کیا جائے، اِس پر مناسب تربیت دے کر اس منصوبے کو کیسے کامیاب بنائیں اور اِس طرح کامیاب ہونے والے ماڈل کو پورے صوبہ سندھ اور پھر ملک میں لاگو کیا جاسکے گا۔ اس موقع پر جامعہ مہران کے واٹر سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رسول بخش مہر نے کہا کہ روزانہ پاکستان میں 14 ہزار لوگ کچرے کے ڈھیروں، کچرا جلانے اور پلاسٹک کو غلط طرح سے ضائع کرنے اور اُن سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹیئرفنڈ کی ڈائریکٹر سمیہ اعجاز نے کہا کہ یہ مہم برطانیہ میں شروع کی گئی تھی، اس وقت ٹیئرفنڈ دنیا کے 50 مختلف ممالک میں کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں صفائی کا کام انجام دینے والے مزدوروں کو عزت دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک شہری خود کو اور اپنے رویے درست نہیں کریں گے تب تک تبدیلی نہیں آئے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے