جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈینئل پرل قتل کیس کے ملزم عمر شیخ کو جیل میں مخصوص کمرے میں منتقل کردیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صحافی ڈینئل پرل قتل کیس کے ملزمان کو عدالتی حکم پر جلد ریسٹ ہاؤس بھی منتقل کر دیا جائے گا تاہم فی الحال ملزم عمر شیخ سمیت ساتھی فہد نسیم، شیخ عادل اور سلمان ثاقب کو مخصوص کمرے میں منتقل کیا گیا ہے اور چاروں ملزمان کے اہلخانہ اب باآسانی ملاقات کرسکیں گے۔
واضح رہے کہ یکم فروری کو سپریم کورٹ کے جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے معاملے کی سماعت کی، سپریم کورٹ نے عمر شیخ کی رہائی کیخلاف فیصلے کو معطل کرنے کی وفاقی حکومت کی استدعا مسترد کردی تھی۔ دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہم عمر شیخ کو حراست میں رکھنے کا کوئی نیا حکم نامہ جاری نہیں کریں گے، ہم اس مقدمے کو سننا چاہتے ہیں، یہ ایک شہری کا معاملہ ہے، ہم جائزہ لیں گے عمر شیخ کو کیوں حراست میں رکھا گیا ہے؟،یہ سنجیدہ نوعیت کا معاملہ ہے، احمد عمر شیخ کو حراست میں رکھنے کے حکمنامے میں متعدد بار توسیع کی گئی،اس وقت ملزمان نہیں بلکہ حکومت کٹہرے میں کھڑی ہے۔
معاون وکیل نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ احمد عمر شیخ کے وکیل محمود اے شیخ علیل ہیں، مقدمے کی سماعت آئندہ ہفتے کے لیے ملتوی کی جائے،دس ماہ سے عمر شیخ غیر قانونی حراست میں ہے،یکم دسمبر کو حراست کا حکم ختم ہو گیا تھا،وکیل احمد عمر شیخ نے اس موقع عدالت کو بتایا کہ احمد عمر شیخ بے گناہ ہے،جو ڈینیل پرل قتل کیس میں ملوث تھے انکو چھوڑ دیا گیا،سب سے پہلے ڈینیل پرل کی بھارتی نژاد امریکی اسسٹنٹ سے پوچھ گچھ کی جانی چاہیے،ڈینیل پرل کی اسسٹنٹ اسرا نعمانی نے پہلے ہی بتا دیا کہ وہ غائب ہے،میں اگر امریکی حکومت میں ہوتا تو ڈینیل پرل کی اسسٹنٹ کو پکڑتا،اسرا نعمانی کا کمپیوٹر ڈیٹا چیک کیا جانا چاہیے تھا،انڈیا میں تو ویسے بھی بغیر کسی وجہ کے دہشتگرد قرار دے دیا جاتا ہے،امریکی دباؤ میں آکر غلط بندے کو پکڑا گیا،احمد عمر شیخ نے برطانیہ سے قانون کی ڈگری حاصل کی،اگر وہ جیل میں نہ ہوتا تو مجھ سے اچھا وکیل ہوتا،بھارت میں جو کچھ ہوا وہ انکا اپنا منصوبہ تھا،احمد عمر شیخ کو بھارت میں سیر کرنے گیا اسے گرفتار کر لیا گیا،23 جنوری 2002 کو ڈینیل پرل کا قتل ہوا اور 5 فروری 2002 کو احمد عمر شیخ نے خود گرفتاری دی۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے ایک موقع پر کہا کہ ہمیں وجوہات بتائیں،احمد عمر شیخ کو ابھی تک رہا کیوں نہیں کیا گیا،ہمیں بتائیں عمر شیخ کی حراست کا حکم کب ختم ہوا۔
جس پر اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ اگر احمد عمر شیخ کی رہائی کا فیصلہ معطل نہیں ہوا تو اسکے سنگین نتائج برآمد ہونگے،ڈینیل پرل قتل کیس کے ملزمان کی رہائی کے مقدمے کے عالمی اثرات مرتب ہونگے، سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت وفاق کو نوٹس دیا جانا ضروری ہے۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع عمر شیخ کی جیل میں موجودہ حیثیت چوبیس گھنٹوں کے لیے برقرار رکھتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نوٹس کرنے یا نہ کرنے سے متعلق جائزہ لینے کے لیے آرڈر شیٹ کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ چاروں ملزمان پر 2002 میں امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل کا الزام ہے۔

