چین نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی ورلڈ کی نشریات پر ملک میں پابندی عائد کردی۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق چین کی فلم، ٹی وی اور ریڈیو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بی بی سی ولڈ نے چین میں براڈکاسٹ گائیڈ لائنز کی سنگین خلاف ورزی کی جس سے ملک کے قومی مفاد کو نقصان پہنچا۔
انتظامیہ نے کہا کہ اس سال بی بی سی ورلڈ کی سالہ نشریاتی درخواست کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
بی بی سی ورلڈ انتطامیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ چین کی جانب سے نشریات پر پابندی کے فیصلے سے مایوسی ہوئی۔ بی بی سی پوری دنیا میں حقائق پر مبنی نشریات کرتا ہے۔ بی بی سی غیر جانبدارانہ صحافت پر یقین رکھتا ہے۔
برطانوی سکریٹری خارجہ ڈومینک راب نے ٹوئٹر کرتے ہوئے کہا کہ چینی حکام کا فیصلہ آزاد ذرائع ابلاغ کے خلاف ہے۔ چین میں صحافت اور انٹرنیٹ کے استعمال پر کئی پابندیاں عائد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے چین کی اپنی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔
China’s decision to ban BBC World News in mainland China is an unacceptable curtailing of media freedom. China has some of the most severe restrictions on media internet freedoms across the globe, this latest step will only damage China’s reputation in the eyes of the world.
— Dominic Raab (@DominicRaab) February 11, 2021
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے بھی چینی فیصلے کی مذمت کی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ نشریات پر پابندی لگانے کا مقصد چین میں آزاد ذرائع ابلاغ کی آواز کو دبانا ہے۔

