English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نیپال اور سری لنکا میں بی جے پی کی مداخلت پر تنازع

القمر

کٹھ منڈو (انٹرنیشنل ڈیسک) نیپال اور سری لنکا نے بھارت کی حکمراں جماعت کی متنازع پالیسیوں کو اپنے ملک تک وسیع کے بیانات پر شدید احتجاج کیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق نیپال نے بھارتی وزیر داخلہ کے اس بیان پر سخت اعتراض کیا ہے، جس میں ہندو انتہا پسند تنظیموں کی پشت پناہی کرنے والی سیاسی جماعت بی جے پی کو نیپال اور سری لنکا تک توسیع دینے کی بات کی گئی ہے۔ نیپالی وزیر خارجہ پردیپ گیاوالی نے تصدیق کی ہے کہ کٹھ منڈو حکومت نے بھارت سے باضابطہ احتجاج کیا ہے۔ اُدھر بھارتی ذرائع ابلاغ میں بھی یہ خبریں شائع ہوئی ہیں کہ نئی دہلی میں نیپالی سفیر نے بھارتی وزارت خارجہ کے حکام سے فون پر بات کی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ اتوار کو ریاست تری پورہ کے وزیر اعلیٰ پبلپ کمار دیب نے اگرتلہ میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بی جے پی کو پڑوسی ملک نیپال اور سری لنکا میں بھی وسعت دینے کے منصوبے پر کام ہورہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب امیت شاہ پارٹی کے صدر تھے، اس وقت انہوں نے اپنے اس منصوبے پر ان کے ساتھ بات کی تھی۔ پبلپ دیب کے مطابق اسی دوران پارٹی کے ریاستی رہنما اجے جموال نے کہا کہ بیشتر ریاستوں میں تو بی جے پی ہی کی حکومت ہے، جس پر جواب میں امیت شاہ نے کہا کہ ابھی نیپال اور سری لنکا باقی ہیں۔ ہمیں وہاں بھی پارٹی کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں وہاں بھی جیت حاصل کرنی ہے۔ نیپال کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی اور حزب اختلاف کی اہم جماعت نیپالی کانگریس نے امیت شاہ سے منسوب اس بیان پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا بیان نیپال کی خود مختاری اور اس کی سالمیت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا سری لنکا کی حکومت نے بھی اس بارے میں بھارت سے بات چیت کی ہے یا نہیں۔ نئی دہلی میں بھارتی جنتا پارٹی نے اس معاملے پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے، تاہم تری پورہ میں بی جے پی نے اپنے وزیر اعلیٰ کے بیان کا یہ کہہ کر دفاع کیا کہ وہ بی جے پی کے طویل مدتی نظریاتی عزائم کے بارے بات کر رہے تھے۔ تری پورہ میں بی جے پی کے ترجمان نبیندو بھٹاّ چاریہ کا کہنا تھا، ہم نے اپنے بھارتی فلسفے اور ثقافت کو مختلف ممالک میں وسعت دینے کا کام طویل عرصے سے شروع کر رکھا ہے۔ ہم کبھی یہ نہیں سمجھتے کہ انتخابی مقابلوں میں ہی حصہ لینا ہی ہمارا بنیادی مقصد ہے۔ ہم ہر جگہ لوگوں کو جیتنے پر غور و فکر کر رہے ہیں۔ بی جے پی ترجمان کا کہنا تھا کہ کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیاں تو عالمی سطح پر موجود ہیں اور اسی کی طرز پر جیسے نیپالی کانگریس یا پھر کمیونسٹ پارٹی ہے بی جے پی کے نظریات کو فروغ کیوں نہیں دیا جا سکتا۔واضح رہے کہ بھارتی اپوزیشن اور انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی مودی سرکار انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے، جس سے ملکی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے