دمشق/ سوچی (انٹرنیشنل ڈیسک) روس نے شام کے صوبے حمص کے مشرقی علاقے میں قائمٹی فور نامی فوجی اڈے پر موجود فوج اور اسلحہ تدمر کے فوجی اڈے اور مہین کے گوداموں میں منتقل کردیا ہے۔ روس نے یہ اقدام ٹی فور فوجی اڈے کو فضائی حملوں میں نشانہ بنائے جانے کے خدشے پر کیا ہے۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق روسی فوج نے ٹی فور فوجی اڈے کو مکمل طورپرخالی کردیا ہے۔ لاجسٹک آلات، گولہ بارود اور بھاری ہتھیار 16 ٹرکوں پر لاد کر وہاں سے لے جائے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ روس نے ٹی فور فوجی اڈے کو ایک ایسے وقت میں خالی کیا ہے جب دوسری طرف ایرانی ملیشیا نے فوجی اڈے کو خالی کرنے سے انکار کردیا ہے۔ روس کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کسی بھی وقت ٹی فور فوجی اڈے کو بمباری کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی فور فضائی اڈے پر اس وقت ایرانی ملیشیا کا قبضہ ہے، جس کے باعث یہ اڈا کسی بھی وقت اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن سکتا ہے۔ اسرائیل کی کوشش ہے کہ مشرقی حمص میںواقع یہ اڈا ایرانی ملیشیا کا بڑا مرکزنہ بن سکے۔ دوسری جانب روس کے شہر سوچی میں آستانہ امن عمل کے پندرہویں اجلاس کے اعلامیے میں ایران، روس اور ترکی نے ادلب میں معاہدوں کے نفاذ پر زور دیا ہے۔ بین الاقوامی خبررساں اداروں کے مطابق بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں شام کی آزادی، خودمختاری اور قومی سالمیت کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے شام سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل پیراہونے کی ضرورت اور ان کے احترام پر زور دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔
