اقوام متحدہ،امریکا اور برطانیہ نے میانمار میں پرتشدد کریک ڈاؤن کی مذمت کی ہے جب کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیرکا میانمار کے فوجی لیڈروں پرمزید پابندیاں لگانے کا اشارہ دے دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق میانمار کے مختلف شہروں میں جمہوریت کے حامی افراد کا احتجاج جاری ہے، لاشیو ٹاؤن میں مظاہرین سڑکوں پر جمع،فوجی بغاوت کےخلاف نعرے بازی کی۔
ینگون میں احتجاجی مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں تقریبات منعقد کی گئیں۔ اقوام متحدہ،امریکا اور برطانیہ نے میانمار میں پرتشدد کریک ڈاؤن کی مذمت کی ہے جب کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیرکا میانمار کے فوجی لیڈروں پرمزید پابندیاں لگانے کا عندیہ دیا ہے۔
خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ آنگ سان سوچی کیخلاف کیس کی سماعت بھی آج ہونی ہے۔ میانمار میں گزشتہ روز 18 مظاہرین ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے جب کہ سیکیورٹی فورسز نےاحتجاج میں شریک270 افراد کو گرفتار بھی کیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ریسکیو اہلکاروں نے بتایا کہ کریک ڈان کے دوران میانمار کے جنوبی دائی شہر میں 3 افراد کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا، باگو شہر میں مزید 2 نوجوان ہلاک ہوئے جبکہ دارالحکومت ینگون میں 1 شخص ہلاک ہوا۔
اس سے قبل امریکا نے لیفٹیننٹ جنرل مو مینٹ تون اور جنرل مونگ مونگ کیوا پر دو شہریوں کو احتجاجی کے دوران ہلاک کرنے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔
امریکی وزیرخارجہ انتھونی بلنکن کا کہنا ہے کہ عوام کی رائے کو دبانے والے اور ان پر تشدد کرنے والوں کے خلاف مزید سخت اقدامات بھی کیےجاسکتےہیں۔
امریکی پابندی کے مطابق دو جرنیلوں کے امریکا اور امریکی کمپنیوں سے منسلک اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔
فوجی بغاوت
میانمار کی فوج نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر سیاسی رہنما آنگ سان سوچی سمیت حکمراں جماعت نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کے متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا تھا۔
ملک کا انتظام فوجی کمانڈر انچیف نے سنبھال لیا ہے۔ جلدنئے انتخابات کرانے کا اعلان، دارالحکومت نیپیداؤمیں جگہ جگہ فوجی اہلکار گشت کر رہے ہیں اور ٹیلی فون سروس اور سرکاری ٹی وی کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ کاروباری شہر ینگون سے رابطہ بھی منقطع ہو چکا ہے۔
فوج نے ملٹری ٹیلی ویژن پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی کی وجہ سے سیاسی قیادت کو نظر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ملک بھر میں ایک سال کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

