English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

برطانیہ کی یمنیوں کی زندگیوں پر منافعے کو ترجیح : شفقنا بین الاقوامی

القمر

جن ممالک میں 2021 میں انسانی بحران شدید ہونے کا خدشہ ہے بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی نے ان میں یمن کو سر فہرست رکھا ہے۔ کمیٹی کے مطابق یمن تنازعہ وباوں، قحط اور جنگ کے باعث بدترین انسانی سانحے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اموات اور تکالیف کی سطح انتہائی حد تک بلند ہو چکی ہے۔آرمڈ کونفلکٹ ائنڈ لوکیشن ڈیٹا کے مطاطق اس جنگ مئں اب تک 112،000 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں  213،000  عام شہری بھی شامل ہیں۔

بیس ملین سے زائد یمنی اس وقت مختلف قسم کی انسانی امداد پر گزارا کر رہے ہیں۔ یہ امداد زیادہ تر خوراک اور ادویات کی شکل میں انہیں مل رہی ہے۔ یمن اس وقت کرونا اور ہیضہ جیسی مہلک وباوں کا سامنا بھی کر رہا ہے پریشان کن بات ہہ ہے کہ یہ تمام خوف آنے والے وقت میں بدترین صورت اختیار کرنے والا ہے کیونکہ بے گناہ یمنیوں کی اموات میں شامل سرکردہ ممالک کو دنیا نے کبھی کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ دنیا کے انسانی حقوق کی علمبردار  اداروں نے انہیں کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے۔

پیر کواقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 100 ممالک سے ،یمن بحران کے لیے طے شدہ امداد کے ٹارگٹ کا نصف سے بھی  کم یعنی صرف 85۔3 بلین ڈالر امداد اکٹھی کرنے میں کامیاب ہوئی  ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوئٹرس نے اسے مایوس کن قرار دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یمن میں لکھوں بچوں، عورتوں اور مردوں کو زندہ رہنے کے لیے امداد کی اشد ضرورت ہے اور امداد روکنے کا مطلب یمنیوں کی موت ہے۔

اس کو ماسوائے کسی اور صورت میں نہیں دیکھا جا سکتا کہ بین الاقوامی برادری یمنی عوام کو تنہا چھوڑ رہی ہے جو کہ بے گناہ ایک جنگ کا شکار ہو گئے ہیں اور اس پر مستزاد امریکہ اور برطانیہ سعودی عرب کو مہلک ہتھیار فراہم کر رہے ہیں جن کا استعمال ان بے گناہ یمنیوں پر ہو رہا ہے۔ برطانوی حکومت خاص طور پر اس جرم میں سب سے زیادہ شریک رہی ہے۔ امداد کے بین الاقوامی ادارے آکسفیم نے برطانیہ پر الزام عائد کیا تھا کہ یہ سعودی عرب کو اسلحہ فراہم کرکے یمن جنگ کو طوالت دے رہا ہے اور 2015 سے اب تک برطانیہ نے 6۔8 بلین ڈالر کے 1697 معاہدوں کے تحت سعودی  عرب کو بم، میزائل اور دیگر مہلک اسلحہ فراہم کیا جس کے بعد برطانیہ نے سعودی  عرب کو دی جانے والی امداد نصف کر دی تھی۔

برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ کا کہنا تھا کہ اس طرح کی صورتحال کے شکار ملک کو مشکل میں چھوڑ دینا ہماری اقدار کے منافی ہے اور یہ ہماری اخلاقی اتھارٹی  کو کمزور بناتا ہے۔ یمن کی موجودہ مشکلات کے پیش نظر ہمیں اس کی امداد میں اضافہ کرنا چاہیے بجائے اس کے کہ ہم ان کی امداد کو کم کر کے انسانی المیے کو وقوع پذیر ہونے دیں۔ درحقیقت برطانیہ یمن کی مدد کرنے کی بجائے سعودی عرب کا اسلحہ بیچنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور جولائی سے ستمبر 2020 کے تین ماہ کے عرصے میں اس نے 88۔1 بلین ڈالر کا اسلحہ سعودی عرب کو بیچا ۔

یہ بم ، میزائل اور راکٹ ، ہیضہ کے علاج کے مراکز، پانی اور صفائی کی سپلائی، خوراک سٹوریچ کےمراکز اور انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں جس کا نتیجہ اموات، غربت اور معیشت کی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ہر سال جیسے جیسے یہ جنگ آگے بڑھ رہی ہے ویسے ویسے یمن کی معیشت تباہ ہوتی جا رہی ہے۔ ورلڈ بنک کی ایک رپورت کے مطابق مشرق وسطٰی کے اس غریب ملک کو جنگ نے مزید غربت زدہ کر دیا ہے۔

جس قدر اسلحہ برطانیہ نے سعودی عرب اور اس کے حلیفوں کو بیچا ہے اس کے مقابلے میں دی جانے والے امداد  اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے اور شرمناک بات یہ ہے کہ برطانیہ دھڑا دھڑا اسلحہ فراہم کر رہا ہے اور ساتھ یمن کی مشکلات کا چیمپین بننے کی کوشش بھی کرتا ہے حالانکہ یمن کی 90 فیصد تباہی کا ذمہ برطانیہ کے سر جاتا ہے۔  آکسفیم کے مطابق یمن اور اس کے شہریوں کو ہر گزرتے دن کے ساتھ جنگ کی قیمت بھاری پڑتی جارہی ہے۔

مہم برخلاف اسلحے کی فروخت کی کارکن سارہ والڈن نے برطانیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ یمنیوں کی زندگی کی نسبت اپنے منافع کو ترجیح دے رہا ہے ۔ سارہ والڈن یمن کے تمام تر مسائل کا ذمہ دار برطانیہ کو گردانتی ہے کیونکہ یمن کے خلاف استعمال ہونے والا سارا اسلحہ برطانیہ کا فراہم کردہ ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ جب میں نے یمن میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنان سے امداد کی کمی بارے میں بات کی تو انہوں نے اس پر افسوس اور مایوسی کا اظہار کیا  اور برطانیہ اور اقوام متحدہ سمیت سعودی عرب اور یمن حوثی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

انسانی حققوق کے ان کارکنان کا کہنا تھا کہ ایسے علاقے جن پر حوثی انصار اللہ کا کنٹرول ہے وہ اکثر بین الاقوامی امداد سے محروم رہتے ہیں یا ان کو بہت معمولی امداد دی جاتی ہے کیونکہ زیادہ تر امداد سعودی اثر ورسوخ کی بنا پر تقسیم کی جاتی ہے۔ یمن میں موجود ایک صحافی مارب ال عوارد کا کہنا تھا کہ بین لاقوامی امداد ددینے والے اداروں اور اقوام متحدہ کو یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ صحت اور خوراک کے لیے امداد میں کمی کا مطلب لاکھوں لوگوں کی موت ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ ہے اور اس میں بلاشبہ ہرفریق نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی ہیں اور جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں تاہم کسی ایک گروہ کو ذمہ دار ٹھہرا کر امداد میں کمی کا نقصان صرف معصوم یمنی بچوں، عورتوں اور مردوں کو ہوگا۔

برطانیہ اور بین الاقوامی برادری کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت روکے اور جنگ میں شامل فریقین کو بات چیت کے لیے آمادہ کرے تاکہ انسانی المیے کو رونما ہونے سے روکا جا سکے۔  بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ امسال یمن تباہی کے دہانے پر ہے مگر یمنی لوگوں کے لیے ہر سال ہی تباہی کا پغام لاتا ہے۔

جمعرات، 4 مارچ 2021

شفقنا اردو

ur.shafana.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے