سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کرلیا۔ واضح رہے کہ اسلام آباد میں سینیٹ کی دو نشستیں تھیں جس میں ایک نشست پر سابق وزیراعظم پاکستان اور پی پی پی کے رہنما یوسف رضا گیلانی امیدوار تھے جبکہ ان کے مدمقابل حفیظ شیخ سے تھے، جو موجودہ حکومت کے وزیر خزانہ بھی ہیں۔ اسلام آباد سے سینیٹ کی اس سیٹ کے لیے یوسف رضا گیلانی نے 169 ووٹ لیے جب کہ حفیظ شیخ 164 ووٹ لے سکے۔ یوسف رضا گیلانی کی جیت سے عمران خان کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوگئی ہیں اور اس حفیظ شیخ کی شکست کے بعد خان صاحب کے پا س تین آپشن بچتے تھے کہ یا تو وہ مستفی ہوجائیں، یا کابینہ تحلیل کر دیں اور نئے الیکشن کی طرف جائیں یا پھر اعتماد کا ووٹ حاصل کریں۔ خان صاحب نے بہترین سیاسی چال چلتے ہوئے خود ہی اعتماد کا ووٹ لینے کا عندیہ ظاہر کر دیا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ کیا وہ یہ ووٹ لے پاتے ہیں یا نہیں۔
فی الحال عمران خان نے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کر کے اپنے اوپر آئے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن سب کو علم ہو گیا ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نا خوش اور ناراض ہیں۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی تمام تر لابنگ اور دباؤ کے باوجود پانچ حکومتی ارکان اسمبلی کا یوسف رضا گیلانی کے لیے ووٹ ڈالنا اور سات ووٹوں کا مسترد ہونا، تحریک انصاف کی اندرونی صفوں میں اضطراب کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان جب سے برسر اقتدار آئے ہیں یوسف رضا گیلانی کی جیت ان کے لیے پہلا بڑا سیاسی دھچکہ ہے۔ یہ جیت دراصل ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کی منصوبہ بندی اور سیاسی دانش کمزور تھی وگرنہ حکومت میں ہوتے ہوئے ایسی شکست ممکن نہ تھی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ کئی درجن وزیروں ،مشیروں ، گورنروں اور پس پردہ کرداروں کی موجودگی میں حکومت کو یہ پتہ ہی نہ چل سکا کہ اس کے ارکان اسمبلی اس کا ساتھ نہیں دیں گے اور دارالحکومت کی نشست پر حکومت کو شکست ہو جائے گی۔
وزیر اعظم کے لیے اب اگلا بڑا چیلنج چئیرمین سینٹ کے انتخابا کا ہے۔ پاکستان جمہوری تحریک اس وقت پورا زور لگائے گی کہ وہ یوسف رضا گیلانی کو چئیرمین سنیٹ منتخب کروائیں جبکہ عمران خان صاحب نے صادق سنجرانی کو اس عہدے کے لیے منتخب کیا ہے۔ اگر یوسف رضا گیلانی چئیرمین منتخب ہوجاتے ہیں تو پھر خان صاحب کے لیے اس لولی لنگڑی حکومت کو چلانے سے بہتر اسعفی دے دینا ہی ہے کیونکہ چئیرمین سینٹ اگر پی ڈی ایم کا ہوگا تو اس کا مطلب یہی ہے کہ تحریک انصاف کسی قسم کی قانون سازی نہیں کر سکے گی۔ یہی وجہ ہے کہ خان صاحب نے سیاسی چال چلتے ہوئے اعتماد کے ووٹ کا اعلان کیا ہے ۔ چونکہ یہ اعلان خان صاحب نے خود کیا ہے اس لیے یہ ووٹنگ اوپن ووٹ ہوگا اور اگر یہ مطالبہ حکومت کرتی تو پھر خفیہ بیلٹنگ کے ذریعے ہوتی جس سے خان صاحب کو ایک مرتبہ پھر شکست کا خوف لاحق ہوجاتا۔ اوپن ووٹ میں خان صاحب کو دوستوں اور دشمنوں کا اندازہ ہوجائے گا اور یہ بھی واضح ہے کہ اگر وہ اعتماد کا ووٹ لے جاتے ہیں تو پھر چئیرمین سینٹ بھی انہی کا ہوگا۔
ڈسکہ ضمنی انتخاب اور سینیٹ الیکشن کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے ترجمان اور ان کے ہمدرد طبقے یہ دعوے کر رہے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ اب نیوٹرل ہو گئی ہے اس نے نہ تو ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں کوئی حصہ لیا اور نہ ہی سینیٹ الیکشن میں اس کا کردار ہو گا تاہم سینیٹ الیکشن سے دو روز پہلے کچھ سرکاری لوگوں نے ایم این ایز کو حفیظ شیخ کے حق میں ووٹ ڈالنے کا کہا اور اس پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے باقاعدہ متعلقہ حکام کو اس حوالے سے شکایت بھی پہنچائی۔ کہا جا رہا ہے کہ حکومتی اور اپوزیشن کے اراکین کو آخری ایک دو دنوں میں رابطہ کیا گیا تاہم یہ طے ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے صادق سنجرانی کے نو کانفیڈنس ووٹ والا کردار ادا نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف یہ اندازہ ہی نہیں کر سکی کہ اس کی پیٹھ اب ننگی ہے۔
اسلام آباد کی ایک نشست کو زندگی و موت کا سوال بنا کر عمران خان نے خود ہی ایسے حالات پیدا کئے کہ وہاں سے حفیظ شیخ کی ناکامی دراصل عمران خان کے خلاف عدم اعتماد بن گئی ہے۔ تاہم اس حقیقت کو تسلیم کرکے انہوں نے ایک شاطرانہ سیاسی قدم اٹھایا ہے۔ اعتماد کا ووٹ لینا ، اس لحاظ سے جرات مندانہ فیصلہ ہے کہ اس میں کامیابی و ناکامی کے امکانات بہر حال موجود ہیں۔ گو کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران عمران خان نے جس طرح قومی اسمبلی کے ارکان کو ’شرف باریابی‘ بخشا اور ان کے متعدد مطالبات پورے کرنے کے لئے اقدامات کئے ، ان کی روشنی میں انہیں یہ یقین ہوگا کہ جب ہاتھ کھڑا کرکے اعتماد کا ووٹ لیا جائے گا تو ایسے سارے ارکان وزیر اعظم پر اعتماد کا اظہار کرنے پر مجبور ہوں گے جنہوں نے درپردہ شاید سرکاری امیدوار کی حمایت نہیں کی ۔ یہ اندازہ کافی حد تک درست ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی لئے عمران خان فوری طور سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اہتمام کررہے ہیں۔ انہیں یہ امید بھی ہوگی کہ یہ ووٹ ملنے کے بعد اپوزیشن کی جمہوریت بحالی تحریک ناکام ہوجائے گی۔ جو اس وقت عمران خان اور حکومت کے لئے سب سے بڑا سیاسی خطرہ بنی ہوئی ہے۔
