کروناوبانےٹی بی کے خلاف سالوں سے جاری سرماریہ کاری اور کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ٹی بی دنیاکی خطرناک بیماریوں میں سےایک بیماری ہےاوراگرحکومتیں اس حوالےسے اقدامات نہیں کرتیں تویہ دنیاکوایک نئے خطرے سےدوچارکرسکتی ہے۔ دنیا میں جس قدرافراد ٹی بی سے ہلاک ہوئےہوئے ہیں کسی اور بیماری سے نہیں ہوئے۔ اگر چہ اس بیماری کا علاج ایک دہائی سے موجود ہے تاہم پھر بھی اس کو مکمل طورپر ختم نہیں کیا جاسکا ۔ بنیادی طور پر یہ بیماری ائیر بورن پیتھوجن مائیکو بیکٹریم کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ ٹی بی سے ہر سال 4۔1 ملین افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور زیادہ اموات ترقی پزیر ممالک جیسا کہ بھارت اور انڈونیشیا میں ہوتی ہیں۔ تاہم 2020 میں کرونا وبا سے ہونے والی اموات نے ٹی بی کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
پوردنیا کی حکومتوں نے کرونا وبا کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی اپنے تمام تر ذرائع کا رخ کرونا کے مریضوں اور اس کا راستہ روکنے کی طرف کر دیا ۔ اس وبا نے پوری دنیا کی معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا اور اس سے اب تک 5۔2 ملین افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ امریکہ کہ ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی کے مطابق نو بڑے ممالک میں جہاں ٹی بی کے سب سے زیادہ مریض رجسٹرڈ ہیں یعنی ج پوری دنیا میں ٹی بی کے کیسز کا 60 فیصد بنتے ہیں وہاں ٹی بی کی شرح 16 سے 41 فیصد تک گی بھارت کے وزیر صحت ہارش وردھان نے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ ٹی بی کے مریضوں میں دنیا بھر میں 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور یہ تعداد 2008 کے رجسٹرد مریضوں کے برابر پہنچ گئی ہے اور اس میں مزید کمی متوقع ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ٹی بی سے متعلق بارہ سال کی کوششوں پر کرونا نے پانی پھیر دیا ہے۔ ٹی بی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی بی ایک طرف رکھ دیں تب بھی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ دیگر بیماریوں جیسا کہ ملیریا، تپ دق اور خسرہ پر بھی اپنی توجہ مرکوز کرے کیونکہ ان بیماریوں کے مریض مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ صحت کے نظام کی تمام تر توجہ کرونا پر مرکوز ہے۔
اربوں اموات اور ٹی بی
گزشتہ دو صدیوں میں ٹی بی کے ہاتھوں اربوں افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم سائنسی اور طبی ترقی کی بدولت نہ صرف اس کا علاج دریافت ہوا بلکہ اس کے پھیلاؤن کو بھی ممکنہ حد تک روکنے میں مدد ملی۔ بل اینڈ ملینڈے گیٹس جو کہ ٹی بی کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہیں کے مطابق 1990 سے 2014 تک ٹی بی کی وجہ سے اموات کی شرح 47 فیصد تک گر گی۔ ٹی بی کو غریب آدمی کی بیماری کہا جاتا ہے کہ کیوںکہ اس کا شکار عموما وہ لوگ بنتے ہیں جو خورا کی قلت کا شکار ہوتے ہیں اور تنگ سیلن زدہ جگہوں پر رہتے ہیں ۔ ان افراد کو نہ تو تازہ ہوا میسر ہوتی ہے اور نہ ہی حفظان صحت کی کوئی سہولت۔ ٹی بی چونکہ ان علاقوں میں پھیلتی ہے جہاں لوگ غربت زدہ اور کم آمدنی رکھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے یہ وہ اس کے مہنگا علاج برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ زیادہ تر دیہاڑی دار مزدور ہوتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں ٹی بی کے مختلف میوٹنٹس سامنے آئے ہیں جن پر اکثر اینٹی بائیؤٹک کی پہلی لائن کام نہیں کرتی جو کہ صحت کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ کرونا کی وجہ سے ہسپتال مکمل طو رپر مریضوں سے بھر چکے ہیں اور ایسے میں ٹی بی کے مریضوں کا پتا چلانا مشکل وہ چکا ہے ۔ ٹی بی بھی کرونا کی طرح چھینکنے اور کھانسنے سے پھیلتی ہے۔ ٹی بی کے مریض بھی کمزور مدافعتی نظام کی وجہ سے کرونا کا بڑا شکار بن جاتے ہیں۔
کیا کرونا کے حوالے سے دنیا پرامید ہے؟
ٹی بی آج بھی اسی طرح پھیل رہی ہے کیونکہ اس کی تشخیص کے لیے صدی پرانے طریقے پر ہی انحصار کیا جاتا ہے جس میں تھوک کا نمونہ لیا جاتا ہے اور پھر اس کو مائیکروسکوپ کے نیچے دیکھا جتا ہے اور اس وقت تک پوری دنیا میں یہی رائج طریقہ کار ہے۔ ماہرین ایک طویل عرصے سے ٹی بی کی تشخیص کے لیے جدید شناختی ٹولز کی ضرورت اور اہمیت پر زور دے رہیں کیونکہ جدید طریقہ کار سے تشخیص کا عمل جلد ہو سکتا ہے اور بیماری کا علاج تیز اور بہتر طریقے سے ہوسکتا ہے۔ ٹی بی کے علاج کے لیے بی سی جی ویکسین پہلی مرتبہ 1920 میں اسستعمال کی گئی۔
ایک طویل عرصے سے عالمی ادارہ صحت اور این جی اوز ٹی بی کی شناخت کے لیے سکریننگ کے عمل پر زور دے رہی ہیں۔ تاہم کرونا کی وجہ سے ٹی بی کی طرف صحت کے کارکنان کی توجہ کم ہوگئی ہے۔ تاہم کرونا کی ٹریسنگ سسٹم کو ٹی بی کے لیے بھی مؤثر طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ فلپائن، پاکستان، نائجیریا، بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ اس حوالے سے بھارت کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں اور کرونا کی سٹریٹیجی کو ٹی بی کی ٹریسنگ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
منگل، 9 مارچ 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
