جاوید ہاشمی نے آصف علی زرداری صاحب کے بارے میںایک مرتبہ کہا تھا کہ ان کی سیاست کو سمجھنے کے لیے اپوزیشن کو سیاست میںپی ایچ ڈی کرنا پڑے گی ۔ اور یہ بات حقیقت بھی ہے کہ موجودہ حالات میںجو سیاسی کارڈز آصف علی زرداری کھیل رہے ہیں وہ نہ تو تحریک انصاف کی سمجھ میںآ رہے ہیں اور نہ ہی ن لیگ اور مقتدرہ کی سمجھ میں۔ آصف علی زرداری بیک وقت کئی کشتیوں کے سوار ہیںمگر پھر بھی انہیں ڈوبنے کا خطرہ درپیش نہیں۔ ایک طرف ان کے مقتدرہ سے بھی اچھے تعلقات ہیں تو دوسری طرف وہ پی ڈی ایم پر بھی راج کر رہے ہیں۔ وہ ن لیگ اور ق لیگ کے مابین رابطے کے پل کا کردار بھی ادار کررہے ہیں اور تحریک انصاف کے لیے لوہے کے چنے بھی ثابت ہورہے ہیں۔ ایسے میں بظاہر انہوںنے جو ٹارگٹ سیٹ کیا ہے وہ یوسف رضا گیلانی کو بطور چئیرمین سینٹ منتخب کروانے کا ہے مگر یہ وہ ٹارگٹ ہے جو بظاہر سامنے ہے اس کے پس پردہ کیا ہے وہ ابھی کوئی نہیںجاتنا۔
بلاول بھٹو زرداری اور پنجاب کے چوہدریوں کے مابین جو ملاقات ہوئی ہے اس کے بارے میں میڈیا میں یہ کہا جارہا ہے کہ بلاول نے یہ ملاقات چیف منسٹر پنجاب کی رخصتی اور یوسف رضا گیلانی کے لیے ووٹ مانگنے کے لیے کی تاہم مونس الہی نے جب سینیر صحافی حامد میر سے گفتگو کی تو انہوں نے اس بات کی صریحا نفی کی کہ بلاول ہرگز اس مقصد کے لیے نہیںآئے تھے بلکہ وہ صرف چوہدری شجاعت حسین کی قیادت کے لیے تشریف لائے تھے اور ان کی آمد پر ان کے تایا اور والد نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایک طویل عرصے بعد بھٹو خاندان کی ایک اہم شخصیت ہمارے پاس تشریف لائی ہیں اور ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر بلاول چیف منسٹر بزدار کے لیے نہیں گئے اور نہ ہی انہیںیوسف رضاگیلانی کے لیے ووٹمانگنا تھا تو ان کے اس جذبہ خیر سگالی کے پیچھے کیا راز مخفی ہے؟
سوال یہ ہے کہ کیا پی ڈی ایم واقعی عثمان بزدار کی چھٹی کرنا چاہتی ہے؟ تو اس کا واضح جواب یہ ہے کہ وہ ہرگز ایسا نہیں چاہتی کیونکہ عثمان بزدار جو کام کر رہے ہیںوہی پی ڈی ایم کا مطمع نظر ہے ۔ عثمان بزدار کی وجہ سے ہی مقتدرہ اور خان صاحب کے مابین ان بن رہی اور ان کی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان ہیںاور یہی پی ڈی ایم چاہتی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ڈیلیور نہ کر سکے اور جہاں تک بات یوسف رضا گیلانی کا انتخابا بطور چئیرمین سینٹ کرانا ہے تو شاید وہ بھی اپوزیشن کے لیے کوئی بڑا چیلنج نہ رہے تو سوال یہ ہے کہ پی ڈی ایم اور خاص طور پر آصف علی زرداری صاحب کا اگلا ٹارگٹ کہیںسپیکر قومی اسمبلی تو نہیں؟ یہاں یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ پی ڈی ایم نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے نام پر حتمی مشاورت کی گئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلئے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مولانا عبدالغفور حیدری امیدوار ہوں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر(ن) لیگ سے ہوگا۔
رؤف کلاسرہ صاحب کے مطابق حکومتی اراکین کی بہت سی ناراضگیاں ہیں۔ وہ حکومتی امیدوار کو ووٹ نہیں دینا چاہتے۔ عمران خان صاحب ان پر پیسے لینے کا الزام لگاتے ہیں، مریم نواز کا دعویٰ ہے کہ ان کی جانب سے آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی ٹکٹ کے وعدے نے حکومتی اراکین کو PDM کو ووٹ دینے کے لئے راضی کیا۔ حقیقت خواہ کچھ بھی ہو، یہ بات طے ہے کہ اگر اراکین کو اپنا مستقبل پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ نظر آتا تو وہ بہرحال ووٹ عمران خان کے امیدوار کو ہی دیتے۔ کلاسرہ صاحب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جن اراکین قومی اسمبلی نے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا ہے، ان سے صرف یہ ڈیل نہیں کی گئی کہ یہ سینیٹ انتخابات میں PDM کا ساتھ دیں گے بلکہ یہ ڈیل بھی کی گئی ہے کہ اگر بات عدم اعتماد کی تحریک تک گئی تو وہ اس میں بھی حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے جس کے بعد انہیں اپنی نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ لیکن وہ اس کے لئے تیار ہیں۔
اس لیے یہ بات لازمی نہیں کہ جو اراکین حکومت کے خلاف ووٹ دیں گے، وہ اپنی نشستیں ہر حال میں کھوئیں گے۔ پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئے قومی اسمبلی کے اراکین کی اصل تعداد 116 تھی۔ رؤف کلاسرہ کی بات مان لی جائے تو 35 اراکین تو پہلے ہی حکومت کا ساتھ چھوڑنے کو تیار ہیں۔ یہ تعداد بڑھ کر کل اراکین کی تعداد کا 50 فیصد ہونے تک اگر سپیکر فیصلہ نہ لے تو بعد ازاں پارٹی کا پارلیمانی لیڈر بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اپنے سپیکر اسد قیصر ایسا کیسے ہونے دیں گے؟ جواب یہ ہے کہ اسی لئے تحریک عدم اعتماد کا فوری خطرہ عمران خان کو نہیں، اسد قیصر کو ہے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم کے اعتماد کے ووٹ کے برعکس، سپیکر کے خلاف آئی تحریکِ عدم اعتماد میں رائے شماری خفیہ ہوتی ہے۔ اس لیے ممکن یہ ہے کہ عمران خان صاحب پیادے مارتے رہیں اور آصف علی زرداری ان کے شہ کا قلع قمع کر دیں؟
منگل، 9 مارچ 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
