قابض صیہونی فوج نے خطیب قبلہ اول کو گھر سے اغوا کرنے کے دوران گھر میں لوٹ مار کی انھیں گھنٹوںحبس بےجا میں ذہنی تشددکے بعد رہا کردیا-
صیہونی فوج نے گذشتہ روز خطیب و امام مسجد اقصیٰ الشیخ عکرمہ صبری کے گھر پردھاوا بولا اور گھر میں گھس کر روایتی توڑپھوڑ اور لوٹ مارکرتےہوئے انھیں تفتیش کے نام پر جبری طورپر اپنے ہمراہ حراستی مرکز لے گئے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ الشیخ عکرمہ صبری کو شب معراج البنی ﷺ کو عقیدت و احترام سےمنانے کیلئےفلسطینیوں کو قبلہ اول میں جوق درجوق آنے کی ہدایت کرنے پر قابض فوج نے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایاہے، انھیں گھر سے اغواکرتے ہوئے ان کی عمر کا خیال نہ رکھتے ہوئے وحشیانہ انداز میں فوجی گاڑی میں بٹھایا گیا اور حراستی مرکز منتقل کیا گیا جہاں ان سے تفتیش کے نام پر ذہنی تشدد کیا گیا۔
صیہونی آبادکاروں کا نبی ذُو ٱلْكِفْل کے مزار پر دھاوا، بے حرمتی کی

صیہونی فوجیوں نے صیہونی آبادکاروں کی معاونت کرتے ہوئے قصبے کے داخلی راستوں کو بند کردیا اس دوران آبادکاروں نے مسلمانوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کی اور ان کے تقدس کو پامال کیا۔
گذشتہ رات درجنوں غیر قانونی صیہونی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر سلفیت میں کفل حارث قصبے میں نبی ذُو ٱلْكِفْل اور نبی یوشع کے مزار پر یہودی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے دوران مسلمانوں کے مذہبی مقامات پر دھاوا بولا اور مزار کے تقدس کو پامال کیا اس دوران صیہونی فوجیوں نے آبادکاروں کو تحفظ فراہم کرتےہوئے مسلمانوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کیلئے کھلی چھوٹ دی اور قصبے کے داخلی راستوں کو بند کردیا گیا۔
بدھ کی رات سے جمعرات کی صبح تک جاری رہنے والی ان مذہبی رسومات اور مسلمانوں کے مقدس مقامات پر اشتعال انگیز دھاوؤں کے بعد فلسطینی باشندوں میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی مقبوضہ بیت المقدس مں 700،000 سے زیادہ صیہونی آبادکار غیر قانونی صیہونی بستیوں میں مقیم ہیں اور سلفیت شہر کے شمال میں کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع، کفل حارث کی مجموعی آبادی 4،450 نفوس پر مشتمل ہے۔
منبع: روزنامہ قدس
