امریکی کیلیفورنیا یونیورسٹی، لاس اینجلس میں طلبہ نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صیہونی ریاست مقبوضہ فلسطین میں فلسطینی باشندوں کی منظم نسل کشی کررہی ہے۔
یونو رسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس یوسی ایل اے کی طلبہ تنظیم نے تین مارچ کو ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صیہونی ریاست فلسطینیوں کی منظم نسل کشی میں مصروف ہے اور اس ضمن میں تمام بین الالقوامی قوانین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔
قرارداد میں تعلیمی ادارے پر زوردیا گیا ہے کہ وہ ایسی کمپنیوں سے خود کو الگ کرلیں جو کسی بھی قسم کے ظلم و ستم کرنےو الے ممالک کی کسی بھی سطح پر معاونت کرتی ہیں، جس میں اسرائیل سرفہرست ہے جو مقبوضہ فلسطین میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف سنگین جنگی جرائم میں ملوث ہے۔
شہداء کو خراج تحسین: اسرائیل کا فلسطینی اسکول کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

صیہونی ریاست نے مقبوضہ بیت المقدس کے ایک اسکول پر الزام اعائد کیا ہے کہ اسکول انتظامیہ نے غیر نصابی سرگرمیوں میںفلسطینی شہداء کو خراج تحسین پیش کیا جو ناقابل قبول ہے۔
صیہونی ریاست کے معروف عبرانی اخبار اسرائیل ہیوم کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزارت تعلیم نےمقبوضہ بیت المقدس کے ایک فلسطینی اسکول الفتات ال لاجہی کے پرنسپل پر الزام عائد کیا ہے کہ اسکول نے غیر نصابی سرگرمیوں کے دوران اسکول انتظامیہ نے فلسطینی شہداء کو خراج تحسین پیش کیا، اسرائیل کے خلاف نفرت انگیزی کو ہوا دیتے ہوئے فلسطینی شہداء کی ویڈیوز اور فلسطین کی آزادی کے ملی نغمے چلائے گئے۔
رپورٹ کے مطابق وزارت تعلیم کی سفارش پر صیہونی فوج نے الفتات ال لاجہئی اسکول کے پرنسپل کو تفتیش کیلئے طلب کیا ہے۔
صہیونی فوج نے 5 فلسطینی بچوں کو حراست میں لے لیا

قابض فوج نے آٹھ سے بارہ سال کی عمر کےان فلسطینی بچوں پر صہیونی بستی سے سبزیاں توڑنے کا الزام عائد کیا ہے۔
گذشتہ روز مقبوضہ مغربی کنارے الخلیل میں اسرائیلی فوجیوں نے آٹھ سے بارہ سال کی درمیانی عمر کے 5 فلسطینی بچوں کو گرفتار کرتے ہوئے خوف زدہ بچوں کو صہیونی فوجی گاڑی میں ڈال کرنا معلوم مقام پر منتقل کردیا۔
صہیونی فوجیوں نے فلسطینی نا بالغ بچوں پر الخلیل کے نزدیک غیر قانونی صہیونی بستی ہائوت مون سے آباد کاروں کی کاشت کی گئی سبزیاں توڑنے کا الزام لگایا ہے۔
منبع: روزنامہ قدس
