English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کراچی: 100 سالہ شہری نے بھی کورونا وائرس کی ویکسین لگوالی

ان دنوں پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کا دوسرا مرحلہ چل رہا ہے جس میں 60 برس سے زائد عمر کے افراد کو ویکسین لگائی جارہی ہے۔

15 مارچ کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور ان کی اہلیہ ثمینہ علوی نے اسلام آباد میں کورونا ویکسین لگوائی تھی۔

گزشتہ روز کراچی میں 100 سالہ شہری اسرائیل احمد مینائی نے نجی ہسپتال میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے حکام کے مطابق گزشتہ روز (16 مارچ کو) آغا خان کے ایڈَلٹ ویکسینیشن سینٹر میں وہیل چیئر پر لائے جانے والے اسرائیل احمد مینائی نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی عمر 100 سال ہے۔

بعدازاں جب اسرائیل احمد مینائی کا شناختی کارڈ لے کر ان کی تاریخ پیدائش کی تصدیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ حقیقت میں اپنی زندگی کی سو بہاریں دیکھ چکے ہیں۔

تاہم آغا خان کے ایڈَلٹ ویکسینیشن سینٹر کے عملے کا کہنا تھا کہ اسرائیل احمد مینائی کہیں سے 100 برس کے نہیں لگتے تھے اور ان کا اندازہ تھا کہ اسرائیل احمد مینائی کی عمر زیادہ سے زیادہ 70 سے 75 سال ہوگی۔

محکمہ صحت سندھ کے حکام کے مطابق کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے رہائشی اسرائیل احمد مینائی کے بلڈ پریشر (فشار خون)، شوگر اور دیگر ٹیسٹ کیے گئے اور پوری طرح مطمئن ہونے کے بعد انہیں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگائی گئی۔

اس حوالے سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل احمد مینائی کو تقریباً آدھے گھنٹے تک نگرانی میں رکھا گیا لیکن ان کی حالت ٹھیک رہی اور سر میں ہلکے سے بھاری پن کے علاوہ انہیں کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں ہوئی، جس کے بعد انہیں گھر جانے کی اجازت دی گئی۔

محکمہ صحت سندھ کے حکام کا کہنا تھا کہ اسرائیل احمد مینائی کے مطابق وہ ابھی مزید جینا چاہتے ہیں۔

اسرائیل احمد مینائی کے مطابق اللہ تعالی نے انہیں ابھی تک کورونا وائرس سے محفوظ رکھا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس مرض کی ویکسین لگوا کر ایک صحت مند زندگی گزاریں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں کووڈ-19 ویکسین لگانے کا عمل گزشتہ ماہ چین سے ویکسین کی پہلی کھیپ پہنچنے کے بعد شروع ہوا تھا۔

ویکسینیشن کے پہلے مرحلے میں صف اول کے طبی عملے کو ویکسین لگائی گئی، جس کے بعد 22 فروری کو ڈاکٹروں، نرسز، فارماسسٹ اور دیگر طبی عملے کی رجسٹریشن شروع ہوئی۔

ابتدائی طور پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت نے کہا تھا کہ سائنوفارم 60 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے تجویز نہیں کر رہے۔

بعد ازاں 5 مارچ کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارتی آف پاکستان (ڈریپ) نے چین کی تیار کردہ سائنوفارم کووڈ-19 ویکسین کے استعمال کی اجازت کے دو ماہ بعد 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو اسے لگانے کی بھی منظوری دی تھی۔

وفاقی وزارت صحت کے ترجمان ساجد شاہ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذکورہ عمر کے افراد سمیت نیشنل امیونائزیشن منیجمنٹ سسٹم (نیمز) میں رجسٹرڈ تمام طبی عملہ، جن کی عمر 60 سال سے زائد ہے، وہ ڈریپ سے منظوری کے بعد ویکسین سینٹرز سے ویکسین لگا سکتے ہیں۔

خون گاڑھا کرنے کی شکایت پریورپین اتھارٹی کا ویکسین کا جائزہ

مجاز اتھارٹی کے مطابق ویکسین کے نقصانات کے مقابلے فوائد زیادہ ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

کورونا سے تحفظ کی آکسفورڈ/ ایسٹرازینیکا کمپنیوں کی جانب سے تیار کردہ ویکسین کی شکایت کے بعد یورپین یونین (ای یو) کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی یورپین میڈیسن ایجنسی (ای ایم اے) نے ویکسین کا بڑے پیمانے پر جائزہ شروع کردیا۔

خبر رساں ادارے ’ایجنسی فرانس پریس‘ (اے ایف پی) کے مطابق یورپین یونین کی ڈرگ اتھارٹی نے آکسفورڈ/ ایسٹرازینیکا کی ویکسین کے اثرات کا جائزہ ایسے وقت میں لینا شروع کیا ہے جب کہ خطے کے 9 ممالک نے ویکسین کا استعمال روک دیا ہے۔

یورپین یونین میں شامل جرمنی، فرانس، اٹلی، آئرلینڈ، نیدرلینڈ، آسٹریا، ڈنمارک، ناروے اور آئس لینڈ نے آکسفورڈ/ ایسٹرازینیکا کی ویکسین کا عارضی استعمال روک دکھا ہے۔

یورپین ممالک نے گزشتہ ہفتے سے مذکورہ ویکسین کے استعمال کو عارضی طور پر روکنا شروع کیا اور 15 مارچ کو بڑے ممالک یعنی جرمنی، فرانس اور اٹلی نے بھی ویکسین کا استعمال عارضٰی طور پر روک دیا تھا۔

ویکسین کے استعمال کو روکنے والے ممالک کی حکومتوں اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹیز کے مطابق ایسی متعدد شکایتیں موصول ہوئی ہیں کہ کورونا سے تحفظ کی ویکسین خون گاڑھا کر رہی ہے، یعنی بلڈ کلاٹس کی شکایت آ رہی ہے۔

ویکسین لگوانے والے افراد مین بلڈ کلاٹس کی شکایت کے بعد ہی یورپین یونین کے 9 ممالک نے ویکسین کا استعمال عارضی طور پر روک دیا تھا۔

یورپین ممالک کی جانب سے ویکسین کے استعمال کو روکے جانے کے بعد اگرچہ عالمی ادارہ صحت ’ڈبلیو ایچ او‘ نے کہا تھا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ آکسفورڈ/ ایسٹرازینیکا کی ویکسین سے بلڈ کلاٹس ہو رہے ہیں۔

تاہم اب یورپین یونین کی مجاز اتھارٹی نے بھی ایسی شکایات کا جائزہ لینا شروع کردیا۔ اے ایف پی کے مطابق یورپین میڈیسن ایجنسی اور عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے 16 مارچ سے ویکسین کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا شروع کیا اور دونوں ادارے جائزوں کے نتائج 19 مارچ تک شائع کردیں گے۔

جائزہ شروع کرنے سے قبل ہی یورپین میڈیسن ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا کہ اسے یقین ہے کہ ویکسین کے چند چھوٹے منفی اثرات کے برعکس اس کے فوائد بڑے اور وسیع ہیں۔

یورپین میڈیسن ایجنسی نے ویکسین کے استعمال کو عارضی طور پر روکنے والے ممالک کو تجویز دی کہ وہ ویکسینیشن کا عمل شروع کردیں، تاہم اتھارٹی کی اپیل کے باوجود کسی ملک نے دوبارہ ویکسینیشن شروع نہیں کی۔

پورپین میڈیسن ایجنسی کی سربراہ ایمر کک کا کہنا تھا آکسفورڈ/ ایسٹرازینیکا ویکسین کے منفی اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور دیکھا جا رہا ہے کہ کیا واقعی ویکسین لگوانے والے افراد میں دیگر طبی مسائل ہو رہے ہیں، جس وجہ سے انہیں ہسپتال میں داخل کروانا پڑ رہا ہے یا مذکورہ ویکسین کسی طرح موت کا سبب بھی بن رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اب تک کے نتائج سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ ویکسین کے منفی اثرات بھی ہیں اور وہ صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں، تاہم جلد ہی ویکسین کے حتمی نتائج کا اعلان کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ آکسفورڈ/ ایسٹرازینیکا کی ویکسین کے علاوہ دیگر کمپنیوں کی ویکسینز کے حوالے سے بھی متعدد ممالک سے شکایات موصول ہوئی ہیں، تاہم عالمی ادارہ صحت اور دیگر ماہرین کے مطابق مذکورہ شکایات معمولی ہیں اور ان کا کوئی بڑا منفی اثر نہیں ہوتا۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے