گزشتہ روز پاکستان جمہوری تحریک نے لانگ مارچ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد ( پی ڈی ایم )نے پیپلز پارٹی کی طرف سے مہلت مانگنے پر حزب اختلاف کا لانگ مارچ ملتوی کردیا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کی اکثریتی جماعتوں کے استعفیٰ پر متفق ہونے پر پیپلز پارٹی نے مشاورت کے لیے مہلت مانگی ہے۔ پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے کہا ہےکہ ہم یہ بات پارٹی کی سی ای سی میٹنگ میں رکھیں گے اور اس کے بعد جواب دیں گے۔ تاہم پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زردااری نے کہا ہے کہ وہ ضرور استعفے دیں گے اگر میاں نواز شریف وطن واپس آجائٰیں اور ان کے ساتھ جیل جانے کے لیے تیار ہوجائیں تو وہ اس بات کے لیے تیار ہیں۔ جس پر مریم نواز شریف کا مؤقف یہ تھا کہ وہ اپنے والد کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتیں اگر آصف علی زرداری اس بات کی ضمانت دیں کے ان کے والد کو کچھ نہیں ہوگا تو وہ واپس آ جائیں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ میاں صاحب کے وطن واپس آنے کا پی ڈی ایم کی تحری کے آگے بڑھنے سے کیا تعلق ہے؟ کیا 1983 سے 1986 تک محترمہ بے نظیر بھٹو وطن سے باہر نہیں تھیں؟ کیا محترمہ 1998 سے 2007 تک پاکستان سے باہر نہیں تھیں اور کیا خود آصف علی زرداری ایک طویل عرصہ وطن سے باہر نہیں تھے؟ آصف علی زرداری یہ بات واضح کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ میاں صاحب کی واپسی کے بغیر پی ڈی ایم آگے کیوں نہیں بڑھ سکتی؟ یہ بات بھی طے ہے کہ میاں صاحب اپنی خوشی سے وطن سے باہر نہیں ہیں اور کوئی بھی لیڈر اپنی خوشی سے وطن سے باہر نہیں ہوتے۔ بے نظیر جب وطن واپس آئی تھیں تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔ پھر ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا مریم نواز اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے سامنے نہیں کھڑیں ۔ بلکہ درست بات تو یہ ہے کہ اس وقت اگر کوئی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ صحیح معنوں میں سینگ اڑائے ہوئے ہیں ۔ پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان تو مریم نواز کے پیچھے چھپے کھڑے ہیں۔
پیپلز پارٹی نے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی اجازت لینے تک استعفوں کے سوال پر اتفاق کرنے سے معذرت کی ہے۔ گو کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ پارٹی میں جس سطح پر جو بھی فیصلہ ہوگا، وہ آصف زرداری کی سیاسی صوابدید کے مطابق ہی ہوگا۔ جیسے مسلم لیگ (ن) میں پارٹی کا کوئی ادارہ نہیں بلکہ نواز شریف کی رائے اور مشورہ ہی حتمی حکم کی حیثیت رکھتا ہے۔ آصف زرداری کی پوزیشن پی ڈی ایم کے آج کے اجلاس سے بہت پہلے سے واضح تھی۔ مسلم لیگ (ن) نے ضمنی اور سینیٹ انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ آصف زرداری کی حجت پوری کرنے کے لئے ہی کیا تھا لیکن مسلم لیگ (ن) کی ساری قیادت یہ اندازہ کرنے میں ناکام رہی کہ آصف زرداری آج بھی اسی حکمت عملی پر کاربند ہیں جو انہوں نے جنوری 2018 میں بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف بغاوت میں کردار ادا کرتے ہوئے اختیار کی تھی۔ پھر اسی سال مارچ میں صادق سنجرانی کو چئیر مین سینیٹ بنوا کر انہوں نے واضح کیا تھا کہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کی طرح تصادم کی سیاست میں ملوث نہیں ہوگی۔ پیپلز پارٹی کی دعوت پر منعقد ہونے والی آل پرٹیز کانفرنس میں ہی پی ڈی ایم قائم ہوئی تھی اور آصف زرداری نے ہی اس کا سب سے زیادہ فائدہ سمیٹا ہے۔ انہوں نے خود کو شاطر سیاسی کھلاڑی کے علاوہ معتدل مزاج سیاسی متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔ اسی لئے پیپلز پارٹی عمران خان کو نامزد وزیر اعظم ضرور کہتی ہے لیکن وہ کسی بھی قیمت پر اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ایسا ٹکراؤ نہیں چاہتی جس راستے پر نواز شریف اور مریم نواز کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) گامزن ہے۔
لیکن جس طرح مریم نواز نے پیپلز پارٹی کےپیچھے اپنا وزن ڈالا ہے وہ یقینا آصف علی زرداری کو کہیں بھاگنے نہیں دے گا؟ مریم نواز نے بڑی خوبصورتی سے صدر آصف علی زرداری کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور یہی سٹریٹیجی مولانا فضل الرحمان نے اپنائی ہے ۔ مریم نواز کا یہ کہنا کہ میں نے آصفہ اور بختاور کی طرح آپ سے بات کی ہے اور مولانا صاحب نے بھی یہی کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے وقت مانگا ہے اور ٹھیک ہے وہ وقت لے لیں۔ اس سے لگتا ہے کہ مسلم لیگ نواز اور فضل الرحمان کسی طور بھی پیپلز پارٹی کو ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے کیونکہ دونوں پارٹیان اس بات سےبخوبی آگاہ ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی اسمبلیوں میں اچھے نمبر رکھتی ہے اور ایک صوبے پر حکومت بھی کر رہی ہے اور اس کی موجودگی سے پی ڈی ایم کے پلڑے میں وزن ہے۔ ۔ پیپلز پارٹی سے زیادہ اس بات کا ادراک کسی دوسری جماعت کو نہیں ہوسکتا کہ انتقامی سیاست کے ماحول میں کوئی لیڈر ملک سے باہر رہ کر زیادہ بہتر طریقے سے کسی جمہوری جد و جہد کی رہنمائی کرسکتا ہے۔ یہ قیاس کرنا محال ہے کہ نواز شریف اگر لندن سے واپس آکر کوٹ لکھپت جیل چلے جائیں تو اس اقدام سے کیوں کر ملک میں جمہوریت بحال ہوجائے گی۔ کیا جمہوریت صرف نواز شریف کی واپسی کا انتظار کررہی ہے؟ اس سے پہلے آصف زرداری یا کسی دوسرے کی بات ماننے پر راضی نہیں ہے؟
اب یہ وقت ہے کہ آصف علی زرداری یہ طے کر لیں کہ وہ پیپلز پارٹی کا وہی امیج برقرار رکھنا چاہتے ہیں جو محترمہ اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں تھا یا پھر اس کو اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم بنانا ہے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ اس وقت اسی پارٹی کا وجود باقی رہے گا جو حقیقی جمہوریت کے لیے جدو جہد کرے گی کیونکہ یہ جدو جہد عمران خان کو ہٹانے سے زیادہ اقتدار کو حقیقی ہاتھوں تک لانے کی ہے۔ اس وقت اگر پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم بن جاتی ہے تو پھر پنجاب میں شاید ہی اس کا کوئی وجود باقی رہے ۔ اس بات سے صدر آصف علی زرداری بھی بخوبی آگاہ ہیں مگر دوسری جانب وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس تمام تر کوشش کا کریڈٹ مسلم لیگ ن کے پلڑے میں جا رہا ہے جو ان کو کسی صورت قبول نہیں ۔ یہ بات تو طے ہے پیپلز پارٹی کسی بھی صورت میں استعفے نہیں دے گی۔ جس کا مطلب ہے کہ پی ڈی ایم ٹوٹ جائے گی مگر اب یہ مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز پر ہے کہ وہ اس صورتحال میں کیا سٹریٹیجی اپناتے ہیں۔
بدھ، 17 مارچ 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
