English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آرایس ایس اور وشواہندوپریشد کی دہشت گردی پر دنیا نے آنکھیں بند کررکھی ہیں

کراچی (رپورٹ :قاضی جاوید)کالم نویس پروفیسر ڈاکٹر اخترحسین سدھو نے سوال آر ایس ایس اور وِشو اہندو پریشدد کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا جانا چاہیے؟ کے جواب میں کہا کہ ہو نا تو ایسا تھا لیکن دنیا بھر کا اس سلسلے میں دوہرا معیاراہے ۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیرِ اعظم مودی نے اپنے اپنے ملک کو دہشت گرد بنانے میں اہم کر دار ادا کیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے منشور کا عملی نفاذ ہے جس کے تحت ہندوستان کی اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کو یہ باور کرانا ہے کہ بھارت صرف ہندوئوں کا ہے کشمیری اور بھارتی مسلمان ، سکھ ، اچھوت اور عیسائی تیسرے درجے کے شہری ہیں اور ہندوستانی سماج میں باعزت مقام حاصل کرنے کے لیے اقلیتوںکو اپنا مذہب چھوڑ کر ہندو دھرم اپنانا ہو گا۔ بی جے پی کی اس تحریک کو ’’ گھر واپسی تحریک ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔بھارت میں ایک طرف سیکولر آئین کے ماتحت ریاست پُر تشد د مذہبی و سیاسی پارٹی بی جے پی کے رحم و کرم پر ہے جس کو آر ایس ایس اور وِشو اہندوپریشد کی سرپرستی حاصل ہے اور دوسری جانب مذہبی جوش و جذبہ سے سرشار مسلمان ، سکھ ، اچھوت اور عیسائی قومیں ہیں جو اپنے دھرم اور وجود کو قائم و دائم رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ بھارتی فوجی کمانڈرکا پاکستان کو دھمکیاں دینا ،بی جے پی اور آر ایس ایس اور وِشو اہندو پریشدد کی پالیسی کا حصہ ہے اور ان دھمکیوں سے ہی وہ جذباتی لوگوں کو متاثر کرکے ووٹ لینا چاہتی ہے۔جس کے وعدے موجودہ حکومت نے کر رکھے ہیں۔ پاکستان نے آر ایس ایس اور وِشو اہندو پریشد کی دہشت گردی کے بارے میں دنیا کو آگاہ کیا لیکن دنیا بھر کے ممالک کی آنکھیں بند ہیں۔مشرقی پنجاب میں بڑی تعد ادمیںہندو اپنا مذہب تبدیل کررہے ہیں ۔اس تحریک کے بانی منہوج دھن بھی 5بر س سے جیل میں ہیں لیکن اصل دہشت گرد آر ایس ایس اور وِشوا ہندو پریشد کے غنڈے آزاد گھوم رہے ہیں اور آر ایس ایس اور وِشو اہندو پریشد کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیمیں قرار دینا ناگزیر ہے ۔صحافی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہاکہ پوری دنیا کے امن پسند عوام کا یہی فیصلہ ہے کہ آر ایس ایس کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے ۔اس کی بنیا دی وجہ یہ ہے اس تنظیم پربھارت میں بھی پابندی لگ چکی ہے ،1925 ء میں ناگپور کے ایک براہمن ڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈگوار کی قائم کردہ آر ایس ایس کی ان حالات میں سرگرمیاں محض دفاعی نہیں تھیں۔آ ر ایس ایس نے مہا بھارت کی تقسیم کے فورا بعد پاکستان کو تسلیم کرنے پر مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو کو اس لیے تنقید کا شدید نشانہ بنایا۔اس کڑی تنقید کا نتیجہ یہ نکلا کہ مہاتما گاندھی کے مخالفین اس حد تک بھڑکے کہ وہ ان کی جان لینے کو تیار ہوئے۔ ان میں سے ایک نتھو رام گوڈسے نے 3 جنوری 1948ء کو مہاتما گاندھی کو مسلمانوں کے علیحدہ ملک کے مطالبے کے حمایت کی وجہ سے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ سردار پٹیل نے لکھا کہ جہاں فرقہ ورانہ فسادات میں آر ایس ایس نے دفاعی اور امدادی کام کیا ہے وہیں اس نے ’اندوہناک مظالم‘ بھی ڈھائے۔ جب جب بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں رہی تو یہ تنظیم پھلی پھولی۔یہ سب کچھ عالمی سطح پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے ۔اس پوری تاریخ سے پتا چلتا ہے عالمی سطح پر سب واضح ہے کہ آر ایس ایس اور وِشوا ہندو پریشد عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیمیںہیں اور یہ آج کی نہیں بلکہ ان کی دہشت گردی برسوں سے جاری اور پورا عالم خاموش ہے ۔مودی نے بھارت کو اس کی روایات الگ کر کے ملک کو دہشت گر بنا دیا ہے۔ گجرات یونیورسٹی کی ڈاکٹر شمائلہ رفیق نے جوا ب میں کہا کہ عالمی ضمیر مسلمانوں کے لیے سخت اور دیگر مذاہب کے نر م ہے ۔ مودی بھارت کی تباہی کا دیوتا بن کر نازل ہوا ہے۔ اس نے بھارت کو پوری دنیا میں ایک فاشسٹ اور مذہبی جنونی ملک کے طور پر روشناس کرادیا ہے۔بھارت جو کبھی ایک سیکولر اور غیر جانبدار ملک کے طور پر مشہور تھا حالانکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ۔ آج اس کی شناخت ایک دہشت گرد ملک بن چکی ۔ مودی نے مسلم دشمنی کا سبق حاصل کرکے گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کرایا۔اب دہلی کے سنگھاسن پر بیٹھ کر مسلم دشمنی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے۔ مسلمانوں کی شہریت کو ختم کر نے بھارت سے نکالنے کی مہم چلائی گئی، اس لیے کہ اس کے نزدیک بھارت صرف ہندوؤں کا ملک ہے اور مسلمانوں اور اقلیت کے لیے یہاںکوئی جگہ نہیں ۔ آج مودی سمیت تمام آر ایس ایس والے گاندھی کے بجائے نتھو رام گوڈسے کو بھارت کا ہیرو قرار دیتے ہیں۔اکھنڈ بھارت اور رام راج کا سپنا دکھا کر اور انتخابات میں دھاندلی کرکے بھارت کے اقتدار پر قبضہ اورآر ایس ایس کے مسلم دشمنی کے نفرت انگیز نظریے کے تحت قدیم بابری مسجد کی جگہ رام مندرکی تعمیر شروع کرچکا ہے۔ مودی نے بھارت کے سیکولر چہرے کو مسخ کردیا پھر مزید آگے بڑھ کر مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کے لیے بھارتی آئین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اس کی دفعات 370 اور 35A کو منسوخ کردیا مگر پاکستان کی کوششوں سے کشمیر مودی کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے ۔مودی نے ایک اور بڑا کارنامہ انجام دینے کے زعم میں سی پیک کے راستے کو کاٹنے کے لیے گلگت بلتستان پر حملے کا منصوبہ بنایا لیکن منصوبے پر عمل سے قبل ہی چین نے لداخ میں فوجیں داخل کر کے موجودی کا منصوبہ ناکام بنادیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے