

نیپیداؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) میانمر کی فوج نے زیر حراست رہنما آنگ سان سوچی پرکرپشن کے نئے الزامات عائد کردیے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ایکتاجر سے ساڑھے 5 لاکھ ڈالر رشوت لینے کے الزامات کے تحت سوچی سے تفتیش کی جائے گی ۔ دوسری جانب سوچی کے وکیل نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیاہے۔ ادھر ینگون میں مظاہرے روکنے کے لیے فوج نے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ تک رسائی محدود کردی ہے۔ واضح رہے کہ فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کا دائرہ ملک بھر میں پھیل چکا ہے اور اب تک مجموعی طور پر 217افراد ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں۔
