ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر جوبائیڈن کے روسی ہم منصب کو ’’قاتل‘‘ کہنے پر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ جو انسان خود جیسا ہوتا ہے، ویسا ہی دوسرے کو سمجھتا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق اپنی قوم سے خطاب میں روسی صدر کا کہنا تھا کہ بعض اوقات انسان خود جیسا ہوتا ہے ویسی ہی خامیاں وہ دوسروں میں بھی تلاش کرتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کریں گے، بلکہ اپنے مفادات کے مطابق امریکا کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔ دوسری جانب جوبائیڈن کے روسی ہم منصب کوقاتل کہنے کے بعد روس نے امریکامیں تعینات سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے سفیر اناطولی انتونوو کی کو بلانے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہیکہ سفیر کی واپسی کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے راستوں کی نشاندہی کرنا ہے، جو اس وقت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ روسی وزارتِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا روس کے ساتھ تعلقات کو ایک بند گلی میں لے گیا ہے، جب کہ ماسکو کی کوشش ہے کہ تعلقات کو دوبارہ استوار کیا جائے۔ امریکا نے اس پیش رفت پر روس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے صدر بائیڈن کی جانب سے پیوٹن کو قاتل قرار دینے کی وضاحت سے گریز کیا کہ آیا صدر واقعتا یا استعارتاً روس کے صدر کو ایک قاتل سمجھتے ہیں۔ اس دوران جب پریس سیکرٹری سے روسی سفیر کو واپس بلانے سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ اپنی پیش رو حکومت کے مقابلے میں روس کے ساتھ تعلقات میں ایک مختلف سوچ اپنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جن معاملات پر ہمیں تحفظات ہیں وہاں ہم براہِ راست جا رہے ہیں۔
