English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

شہباز شریف بمقابلہ عمران خان: یہ میچ کون جیتے گا؟

القمر

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو مبینہ طور پر ہفتے کی صبح لاہور ایئرپورٹ سے براستہ قطر برطانیہ جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مبینہ طور پر ان کا نام ‘ایک اور فہرست میں’ رکھتے ہوئے انہیں ملک چھوڑنے سے روک دیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کو علاج کے لیے ایک بار بیرون ملک سفر کرنے کی مشروط اجازت دی تھی۔ ہفتے کی علی الصبح میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ جب لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی اس وقت ایف آئی اے کے دو اہلکار عدالت میں موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ عدالتی حکم میں مسلم لیگ (ن) کے صدر کے قطر جانے والی فلائٹ نمبر کا بھی ذکر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘جب شہباز شریف آج ایئرپورٹ پہنچے تو ایف آئی اے کے عہدیداروں نے انہیں روکا اور کہا کہ وہ سفر نہیں کر سکتے کیونکہ ان کا نام ایک ‘پرسن ناٹ اِن لسٹ’ (پی این آئی ایل) فہرست میں ہے۔ اس سے قبل حکومت نے میاں شہباز شریف کی ضمانت کے خلاف شدید رد عمل دیا تھا۔  وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ وہ اس حکم کو ‘قبول نہیں کرتے’ ہیں اور وہ ‘شہباز شریف کو روکنے کے لیے مکمل کوششیں’ کریں گے۔

نیب کی جانب سے ستمبر 2020 میں بھی شہباز شریف کو منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم انھیں احتساب عدالت نے گذشتہ ماہ ہی ضمانت پر رہا کیا تھا۔ یاد رہے کہ شہباز شریف کا نام پہلی مرتبہ فروری سنہ 2019 میں ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا اور مارچ 2019 میں لاہور ہائی کورٹ نے ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ دیا تھا۔ تاہم حکومت کی جانب سے کچھ عرصے بعد شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ میں رکھ دیا گیا تھا۔ عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے گذشتہ روز فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’اربوں روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث شہباز شریف کو باہر جانے کی اجازت دینا قانون کے ساتھ مذاق ہے۔ اتنا جلد فیصلہ تو پنچائیت میں نہیں ہوتا اس طرح سے ان کا فرار ہونا بدقسمتی ہو گی، اس سے پہلے وہ نواز شریف کی واپسی کی گارنٹی دے چکے ہیں سوال یہ ہے کہ کہ اس گارنٹی کا کیا بنا؟‘ یہ بات تو طے کہ میاں شہباز شریف کے جیل سے باہر آنے اور پھر ملک سے باہر جانے کی اجازات تک پیچھے جن طاقتوں کا ہاتھ ہے وہ عمران خان صاحب کو بخوبی معلوم ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں اس وقت اگر مسلم لیگ نواز میں کوئی شخص مقتدرہ کے قریب ہے تو وہ شہباز شریف ہے اور مقتدر حلقے شہباز شریف کی ناراضی ہرگز نہیں چاہتے ۔

یہ حقیقت ہے کہ شہباز شریف اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراؤ کی پالیسی کے خلاف ہیں، جانتے ہیں کہ پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ملک میں اداروں کا کردار ختم کرنا ممکن نہیں بلکہ سیاستدان اپنی کارکردگی سے اس کردار کو محدود کر سکتے ہیں، جبکہ دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ بات ہضم کرنا بہت مشکل ہے کہ جس شہباز شریف پر وہ تکیہ کرنے کا سوچتے ہیں وہ نواز شریف کا بھائی ہے، لیکن جب کارکردگی اور صلاحیتوں کا موازنہ کرتے ہیں تو شہباز شریف کی کارکردگی کا پلڑا بھاری ہوجاتا ہے۔ اس کی تازہ تازہ مثال یہ دیکھ لیں کہ اگرچہ تحریک انصاف گزشتہ تین سال سے اقتدار میں ہے مگر وہ ابھی تک چین کا اعتماد نہیں جیت پائی ۔ شہباز شریف جیسے ہی جیل سے باہر آئے انہوں نے چین کے سفیر اور برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات کی ۔ واضح رہے کہ چین کے سفیر نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو اپنے اور ن لیگ کی قیادت کے تعلقات کے حوالے سے باور کرایا ہے۔ چینی سفیر نے یہ واضح طور پر کہا کہ  محمد نوازشریف کی قیادت میں پاکستان اور چین کی مثالی دوستی معاشی شراکت داری کے گہرے رشتے میں تبدیل ہوئی اور دونوں ملکوں کی دوستی اور گہرے تاریخی تعلقات میں یہ ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا۔ اس سے مقتدرہ کو شہباز شریف کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

شہباز شریف کی حالیہ گرفتاری کی اسٹیبلیشمنٹ نے بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ عمران خان کی ضد نے متحرک قوتوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ شہباز شریف بھی جیل میں تب تک پرسکون ہو کر بیٹھے رہے، جب تک احد چیمہ، حمزہ شہباز سمیت ان کے دیگر ساتھیوں کی ضمانت نہیں ہو گئی۔ میری اطلاعات کے مطابق شہباز شریف نے اپنی مرضی کے وقت کا انتخاب کر کے ضمانت دائر کی۔ رہائی سے قبل زبان زد عام تھا کہ شہباز شریف کی جیل میں اہم شخصیت سے ملاقات کے بعد رہائی عمل میں لائی جا رہی ہے، مگر دو رکنی بنچ کے اختلاف نے اس تھیوری کو بھی دفن کر دیا۔مگر یہ ضرور ہے کہ شہباز شریف کی رہائی معاملے میں طاقتور حلقے نیوٹرل ضرور ہو گئے تھے، پاکستان جیسے ملک میں طاقتور حلقوں کا نیوٹرل ہونا بھی بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ کیس کچھ تھا نہیں، طاقتور حلقے نیوٹرل ہو گئے اور یوں باقر نجفی صاحب کے پاس بھی ضمانت دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ آئندہ چند روز میں ہائیکورٹ کی اجازت کے بعد شہباز شریف کے لندن جانے کا بھی امکان ہے، بیرون ملک چند ہفتوں کے لیے جائیں گے مگر جلد واپس آ کر دو سال بعد ہونے والے عام انتخابات کی ابھی سے تیاری شروع کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے