اسرائیل کی طے شدہ عسکری پالیسی کے تحت غزہ کا ہر شہری ان کا نشانہ ہے اور یہ کوئی حادثہ نہیں ہے۔جب اسرائیلی فوج کے ترجمان جوناتھن کونریکس سے سوال کیا گیا کہ غزہ پر حملوں میں شدت لائی جائے گی تو ان کا جواب بتانے کے قابل ہے۔ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ میرے کمانڈر اس بات سے آگاہ ہیں اور خاص طور پر سیز فائر کے معاملے میں "۔ یہ فسلطینی عوام کے لیے ایک بری خبر ہے۔ اسرائیلی فوج کی مقبوضہ فلسطین میں مرکزی پالیسی ڈیٹرنس کو برقرار رکھنا ہے۔ اور اسرائیل کی اسی ڈاکٹرائن کو داہیہ ڈاکٹرائن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس حکمت عملی کا نام اس وقت داہیہ رکھا گیا جب 2006 میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ میں اسرائیلی افواج نے بیروت کے نواح میں بلا امتیاز عام شہریوں اور حزب اللہ کے سپاہیوں کو نشانہ بنایا۔ اس پالیسی کا تذکرہ پہلی مرتبہ ادارہ برائے قومی سیکورٹی سٹڈیز نے کیا جو کہ ایک تھنک ٹینک ہے اور اس کے اسرائیل کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ اس تھنک ٹینک نے اس ڈاکٹرائن کو ایک پالیسی پیپر میں ” دوسری لبنان جنگ کے تناظر میں اسرائیلی رد عمل کا نظریہ” کے عنوان سے شائع کیا۔
اس پالیسی میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حماس کے ساتھ جنگ کی صورت میں اسرائیلی فوج کو دشمن کی حرکات کے مطابق اور خطرے کی نوعیت کے حساب سے طاقت کا استعمال کرنا چاہے ۔س نظریے کا نام بیروت کے ایک مضافاتی علاقے داہیہ کے نام پر رکھا گیا ہے جہاں اس پر پہلی بار عملدرآمد کیا گیا۔ اس نظرئیے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ جان بوجھ کر سویلین انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے تاکہ ایک طرح کا انتشار پیدا ہو جائے جو عوام کو حماس یا حزب اللہ کے خلاف کردے۔ موجود تنازعے میں اسرائیل افواج کی غزہ میں کارروائیاں اس پالیسی کے استعمال کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو کہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے تاہم اسرائیلی افواج غزہ میں اس کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ میں کئی شہری رہائشی ٹاورں کو حملوں سے اڑا دیا ہے جس میں سترہ بچوں سمیت سو سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے مگر اسرائیل کی ایک باقاعدہ حکمت عملی ہے جس کا مقصد ان شہریوں میں اسرائیل کا خوف پیدا کرنا ہے جو صیہونی ریاست کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔
اس تھنک نے اس رپورٹ میں مزید بتایا کہ داہیہ ڈاکٹرائن کے تحت اسرائیلی افواج غیر متناسب رد عمل دے کر اپنے مخالفین پر واضح کردے گی کہ وہ اپنی حدود میں کسی قسم کی مداخلت پسند نہیں کرے گی ۔ ایک اعلی اسرائیلی جرنیل گادی ایزنکوٹ نے 2008 میں اسرائیلی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ داہیہ ڈاکٹرائن محض ایک مشورہ نہیں بلکہ ایک منصوبہ ہے اور ہم اس منصوبے کی منظوری پہلے ہی دے چکے ہیں۔ 2006 میں اس وقت اسرائیلی آرمی چیف جنرل ڈان ہالٹز نے شیخی بگھاری تھی کہ ان کی افواج لبنان میں سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گی جس کا مقصد لبنان کو بیس سال پیچھے دھکیلنا ہوگا۔ اسرائیل نے 2008 اور 2009 کے دوران بھی اس ڈاکٹرائن کا بے دریغ استعمال کیا جس سے 1400 کے قریب فلسطینی شہید ہوئے۔ اقوام متحدہ نے فیکٹ فائنڈنگ مشن جس کو گولڈ سٹون رپورٹ کا نام بھی دیا گیا نے نتیجہ نکالا کہ اسرائیلی حکمت عملی اس طرح سے ترتیب دی گئی ہے کہ اس کا مقصد عام آ بادی کو خوفزدہ کرنا ، ان کی تذلیل کرنا اور ان کو سزا دینا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے پروفیسر رچرڈ فالک نے داہیہ ڈاکٹرائن کو نہ صرف جنگی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے بلکہ اس کو بین الاقوامی اخلاقیات کے بھی منافی کہا ۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی دنیا اس پالیسی کو اس کے درست نام یعنی ” ریاستی دہشت گردی”کے نام سے کیوں نہیں پکارتی؟ غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری ہے اور سویلین افراد کی اموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ، جب کہ تل ابیب اس حوالے سے یہ مؤقف اختیار کرے گا کہ ان اموات کی وجہ حماس کی جانب سے عام افراد کو بطور ہیومن شیلڈز استعمال کرنا ہے۔
درحقیقت اسرائیل پوری دنیا کو دھوکے میں رکھ رہا ہے۔ 2009ء کے اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بھی اس ڈاکٹرائن کا تذکرہ کیا۔ لیکن اسے غزہ کے بحران پر جاری بین الاقوامی بحث میں بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ اور اس کی وجہ سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں۔ اسرائیل کے حمایتیوں اور زیادہ تر مغربی میڈیا کے لئے یہ ایک تکلیف دہ سچ ہے جسے چھوڑ دینا ہی اچھا ہے۔ اسرائیل کے فلسطین پر حملے نہ صرف بین الاقوامی قانون کے ان اصولوں پر مغربی منافقت کو ننگا کردیا جن کا وہ دوسروں کو درس دیتے پھرتے ہیں، بلکہ اس امر کو بھی بے نقاب کردیا کہ امریکہ اور یورپی ممالک بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے سے روکنے کے لئے کس حد تک جانے پر تیار رہتے ہیں۔ تازہ خونریزی فلسطین کے المیے کا محض ایک نیا باب ہے۔ ایک ایسا المیہ جو مسئلے کے غیر جانبدارانہ تصفیے کو تسلیم کرنے سے اسرائیل کے دیرینہ انکار کی وجہ سے پیدا ہوا ۔ یہ تصفیہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر مبنی ہے اور دو ریاستی حل کا تصور پیش کرتا ہے جس میں ایک قابل عمل اور جغرافیائی پڑوسی فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے۔ افسوسناک طور پر غزہ بحران پر کافی حد تک مغرب کی طرف سے ہونے والی بین الاقوامی بحث میں اس پہلو کو اور اسرائیلی قبضے کے خلاف فلسطینیوں کے حق ذاتی دفاع کو تقریباً چھپا دیا گیا ہے۔
