غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ابھی تک 150 سے زائد فلسطینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں 16 بچے بھی شامل ہیں، اور ایک ہزار سےزائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ غزہ کے علاقے سے مارے جانے والے میزائلوں کے نتیجے میں 6 اسرائیلی لقمہ اجل بنے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا نے ایک دفعہ پھر اسرائیل کی بمباری کو حماس کی جانب سے مارے جانے والے میزائلوں کے خلاف جائز کارروائی کے طور پر پیش کیا ہے۔ البتہ، ہمیشہ کی طرح، انہوں نے اسرائیل اور فلسطین میں اس بحران کی شدت کی اصل وجوہات کے حوالے سے مکمل یک طرفہ مؤقف اپنایا ہوا ہے۔ اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے اور اس دوران ایک اور بلند عمارت کو نشانہ بنایا جہاں الجزیرہ اور امریکی خبر ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) سمیت دیگر بین الاقوامی میڈیا کے دفاتر بھی تباہ ہوگئے جو اسرائیلی فوج کی غزہ میں میڈیا کو خاموش کرنےکی بدترین کوشش ہے۔
فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی تازہ ترین جارحیت کو پانچ روز بیت چکے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہوتا جارہا ہے پھر بھی دنیا کی سب سے بڑی طاقت اسے اسرائیل کی مظلومیت اور حماس کی ’جارحیت‘ سے تعبیر کررہی ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی دارالحکومتوں میں اس بات پر صف ماتم بچھی ہے کہ حماس کے راکٹوں سے ہونے والے حملوں میں سات اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ بلاشبہ یہ افسوسناک کارروائی ہے۔ کسی مقصد کے بغیر کسی بھی انسان کی کا خون بہانے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے لیکن اسرائیل کے دفاع کی بات کرنے والوں کو نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی، اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کرکے وہاں یہودی بستیاں بسانے اور رمضان المقدس کے دوران مسجد اقصیٰ میں فلسطینی نوجوانوں پر ظلم و ستم جیسے مذموم اقدامات پر بھی غور کرنا چاہئے۔
فلسطینی عوام ستر سال سے اپنے علیحدہ اور خود مختار وطن کی خواہش میں مسلسل ظلم و ستم کا نشانہ بنائے جارہے ہیں۔ پوری دنیا فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتی ہے لیکن مٹھی بھر انتہا پسند اسرائیلی اور ان کے نمائیندے نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مصالحت کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ وہ اپنی عسکری طاقت کے بل بوتے پر فلسطینیوں کو مسلسل اپنی غلامی پر مجبور رکھ سکتا ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت ہر تھوڑے عرصے کے بعد کسی نہ کسی بہانے سے غزہ کو اسرائیلی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ حماس کا دہشت گرد نیٹ ورک تباہ کردیا گیا۔ دنیا کے باضمیر انسان بچوں کی لاشوں، بے گناہ انسانوں کے لہو اور بے وسیلہ لوگوں کے برباد گھروں کی تصویریں دکھا کر دنیا کو بیدار کرنا چاہتے ہیں لیکن کسی نہ کسی جگہ کوئی نہ کوئی مصلحت یا مفاد انسانیت اور انسانی زندگی پر بھاری پڑتا ہے۔ اس وقت بھی جو صورت حال بیت المقدس اور غزہ میں مشاہدہ کی جارہی ہے وہ کسی پرانی فلم کے ٹریلر کی مانند ہے۔
خطرہ ظاہر کیاجارہا ہے کہ ایک بار پھر جنگ طول پکڑ سکتی ہے۔ حیرت ہے کہ ایک ظالم استحصالی قوت کے فوجی استبداد کو مغربی میڈیا اور امریکی قیادت یوں پیش کرتی ہے گویا یہ دو ہم پلہ ملکوں کے درمیان کوئی عسکری تنازعہ ہے۔ حالانکہ اس میں ایک طرف فوجی طاقت ہے اور دوسری طرف نہتے فلسطینی ہیں۔ بیچ میں حماس ناقص اور ناکارہ راکٹوں کے ذریعے اسرائیل اور اس کے حامیوں کو مشتعل کرنے کے لئے بے مقصد نعرے لگانے کا کام کرتی ہے۔ اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ حماس کے انتہا پسند لیڈر بھی اپنے عوام کی جان و مال کے بارے میں اتنے ہی بے حس اور سفاک ہیں جس قدر اسرائیلی حکومت اور فوج ہے۔ یا ان جابرانہ حملوں کو اسرائیل کے دفاع کا نام دینے والے انسان دوست سیاست دان ، جن میں فلسطینی عوام کا جائز حق دلانےکا حوصلہ و ہمت نہیں ہے۔ ان میں سر فہرست جو بائیڈن کی قیادت میں امریکی حکومت ہے جو ظلم کی اس گھڑی میں بھی ظالم کے ساتھ کھڑی ہے اور تاریخ کے فیصلے سے بے خبر ہے۔
اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے ساتھ روز وشب جو کارروائی کر رہی ہے، وہ صاف طور پر دہشت گردی ہے۔ اسی ماہ یعنی 5 /مئی 2021 کو اسرائیلی فوج کی درندگی اور دہشت گردی کی ایک ایسی خبر شائع ہوئی کہ اسے پڑھ کسی بھی انسانیت نواز شخص کا دل دہل جائے گا۔ ہوا یہ کہ گزشتہ 2 /مئی کی شام کو غرب اردن کے جنوبی شہر بیت لحم کے نواحی علاقے نحالین سے تعلق رکھنے والی ایک ساٹھ سالہ بوڑھی خاتون: رحاب محمد موسیٰ خلف زعول کو مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر ”بیت لحم“ میں، ایک اسرائیل فوجی نے اپنے بندوق کی گولی سے اس کے سر پر حملہ کر دیا۔وہ بوڑھی خاتون اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر، دم توڑدی۔ دہشت گرد اسرائیلی فوجی نے اپنے اس دہشت گردانہ عمل کو جواز فراہم کرنے کے لیے یہ کہانی سنانا شروع کر دیا کہ وہ خاتون چاقو سے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ جب کہ دوسری طرف ایک ویڈیو فوٹیج اس واقعہ کی پورے طور پر تردید کر رہا ہے۔ اس ویڈیو فوٹیج سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ دہشت گرد اسرائیلی فوجی ایک نہتی خاتون پر بندوق تانے اسے پیچھے ہٹنے کو کہہ رہا ہے۔ پھر اس خاتون کے سر میں گولی مار دیتا ہے۔ایک غاصب ریاست اپنی فوجی طاقت وقوت کے بل پر بار بار مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کرتی ہے۔ وہ نہتے فلسطینی مرد وخواتین اور بوڑھے بچوں پر بغیر کسی امتیاز کے حملہ کرتی ہے۔ ہر وقت ایک نہ ایک شخص دہشت گرد فوجی کی گولی کا شکار بنتا ہے۔ جب یہ خبر عوام تک پہنچتی ہے ؛ تو ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ اسرائیل دہشت گرانہ حملہ نہ صرف امت مسلمہ؛ بل کہ انصاف پسندپوری انسانیت کے ضمیر کو زخمی کرتا ہے کہ آخر فلسطینی بھی تو انسان ہیں اور ان کو بھی اپنی سرزمین پر پورے شان وشوکت کے ساتھ جینے کا پورا حق ہے۔
اس صورت حال میں ایک طرف اسرائیل کا حامی امریکہ اور مغربی ممالک ہیں جو تصویر کا وہ رخ دیکھنے پر آمادہ نہیں ہیں جس میں اسرائیل انسانی اقدار کو پامال کرنے والا ایک ظالم ملک ہے جو عربوں کے حقوق سلب کرنے اور ان کی زندگیوں سے کھیلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ انہیں صرف حماس کے ناکارہ راکٹ اور اسرائیل کی مظلوم آبادیاں دکھائی دیتی ہیں۔ دوسری طرف مسلمان ممالک کی اکثریت ہے جہاں حماس کی زیادتی اور ناجائز حکمت عملی کو مسترد کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ نہ ہی اس کے راکٹوں سے مرنے والے انسانوں کی ہلاکت پر کسی دکھ کا اظہار سامنے آتا ہے۔ ان مسلمان ملکوں کی حکومتیں، میڈیا اور لوگ صرف اسرائیل کو غلط سمجھ کر اور فلسطینی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کرنے کو ہی واحد درست رویہ سمجھتے ہیں۔ مغرب اور اسلامی ممالک میں پائے جانے والے ان غیر متوازن رویوں کی وجہ سے فلسطین کے معاملہ کو لے کر عالمی رائے ہر آنے والے دن کے ساتھ تقسیم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
کوئی نہیں جانتا کہ حماس کی جارحیت کا نام لیتے ہوئے اسرائیلی فوج کب تک غزہ کے شہریوں پر زندگی تنگ کر رکھے گی اور وہاں شہریوں کی املاک کے علاوہ پبلک سہولتیں فراہم کرنے والی عمارتوں کو خوفناک فضائی حملوں میں تباہ کرتی رہے گی۔ اسرائیل چاہتاہے کہ وہ فلسطینیوں کی طرف سے ہر مزاحمت کو ختم کرکے انہیں مسلسل اطاعت شعاری پر مجبور کرسکے۔ تاہم 73 برس میں یہ مقصد حاصل نہیں کیا جاسکا۔ فلسطینیوں کے ہاں پیدا ہونے والی ہر نئی نسل پہلے سے زیادہ آزادی کی خواہش مند ہے اور اس کے لئے جان ہتھیلی پر لئے پھرتی ہے۔ عالمی لیڈر جب اسرائیلی ٹینکوں اور بکتر بند پولیس افسروں پر پتھر پھینکنے والے نوجوانوں کو تشدد کا سبب قرار دیتے ہیں اور فلسطینیوں کو امن کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تو وہ جان بوجھ کر اس سچ کو دیکھنے پر آمادہ نہیں ہوتے کہ ہر تنازعہ میں تشدد کا راستہ اسرائیلی ریاست اختیار کرتی ہے اور وہی تمام بنیادی انسانی اصول پامال کرتے ہوئے نہتے نوجوانوں اور شہریوں کو تختہ مشق بناتی ہے۔ اسے برابر کی لڑائی کہنے والوں کے ساتھ دلیل سے بات کرنا ممکن نہیں۔
دنیا کے سب ملکوں اور انسانوں کو کسی نہ کسی سطح پر یہ سوچنا ہوگا کہ باہمی فاصلہ اور نفرت کا یہ مزاج اگر راسخ ہوتا رہا تو تشدد اور جارحیت صرف اسرائیل اور فسلطینیوں تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ دوسرے ممالک بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسرائیل کی طاقت اور سوچے سمجھے طریقے سے فلسطینی شہریوں کو ہلاک کرنے اور ان کی معیشت کو تباہ کرنے کے طریقے اگرچہ زیادہ قابل مذمت ہیں لیکن یہ اصول بھی طے ہونا چاہئے کہ تشدد اور جنگی جنون میں نشانے پر آنے والا فلسطینی ہو، اسرائیلی ہو، مسلمان یا عیسائی ہو یا یہودی ، وہ سب سے پہلے انسان ہیں۔ مغربی دنیا یوں تو انسانیت اور انسانی حقوق کا بہت پرچار کرتی ہے مگر فلسطین کے معاملے میں ان کی زبان گنگ ہوجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ مغرب کی انسانیت صرف مغرب تک محدود ہے اور مسلمان اور فلسطینی انسانیت کی اس تعریف پر ہرگز پورا نہیں اترتے؟
اتوار، 16 مئی 2021
شفقنااردو
ur.shafaqna.com
