واشنگٹن ڈی سی —
امریکہ میں حزبِ اختلاف کی جماعت ری پبلکن پارٹی کے اندر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں اور ان رہنماوں کے درمیان گزشتہ ہفتے تلخیاں واضح نظر آئیں، جو چاہتے ہیں کہ پارٹی سابق صدر ٹرمپ اور انتخابات میں دھاندلی سے متعلق ان کے دعووں کو مسترد کرے۔
سب سے پہلے تو صدر ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں ووٹ دینے والی کانگریس کی خاتون رکن لز چینی کو ایوان نمائندگان میں ری پبلکن پارٹی قیادت سے بے دخل کیا گیا۔ جب کہ لز چینی کی جانب سے سال 2020ء کے صدارتی انتخابات ’چوری‘ ہونے کے دعووں کو بھی ریپبلکن پارٹی نے مسترد کیا تھا۔
پھر یہ اعلان سامنے آیا کہ 100 سے زیادہ ناخوش ری پبلکن راہنما ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کے امکانات کی کھوج میں ہیں۔ ایک ایسی سیاسی جماعت جو ری پبلکن پارٹی کے بنیادی نظریاتی تصورات کی عکاس ہو۔
غیر امریکی مبصرین کے نزدیک ایک نئی سیاسی جماعت کی تشکیل اندرونی بدنظمی کا ایک فطری ردعمل ہے۔ امریکہ کے برعکس دیگر بہت سی جمہوریتوں میں کثیر جماعتی نظام ہے۔ اور نئی جماعت کو جلد کامیابی بھی مل سکتی ہے۔ فرانس میں صدر ایمانول میکخواں نے اپریل 2016ء میں ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی اور مئی 2017ء میں ان کو ملک کا صدر منتخب کر لیا گیا۔
لیکن امریکہ کے اندر ری پبلکن اور ڈیموکریٹ کے متبادل کے طور پر کسی تیسری جماعت کے ابھرنے کی کوششیں کم ہی کامیاب ہو سکی ہیں۔
فاتح نہیں، غارت گر
آج کے دور میں امریکہ میں کوئی تیسری جماعت صدارتی انتخاب میں ایک ’سپائلر‘ یعنی دو جماعتوں مین سے کسی ایک جماعت کے ووٹ توڑنے اور اس کے لیے صورتحال خراب کرنے کے علاوہ کچھ ثابت نہیں کر سکی۔ گزشتہ ستر برسوں میں امریکہ میں انہیں کبھی قابل ذکر قوت حاصل نہیں ہو سکی اور بہت کم تعداد میں ان کے اراکین کانگریس یا سینیٹ میں پہنچے ہیں۔

امریکہ میں یونیورسٹی آف ورجینیا کے سنٹر فار پالیٹکس کے ایک غیر جانبدار سیاسی تجزیے پر مبنی نیوز لیٹر ’سباٹو کرسٹل بال‘ کے مینیجنگ ایڈیٹر کائل کونڈک کا کہنا ہے کہ امریکہ میں کسی تھرڈ پارٹی کی تحریک عام طور پر دونوں بڑی امریکی جماعتوں میں سے کسی ایک جماعت میں انضمام پر ختم ہو جاتی ہے۔ یا پھر بڑی پارٹی کی طرف سے تبدیلیاں انہیں بے کار بنا دیتی ہیں۔
موجودہ رسہ کشی
گزشتہ ہفتے تیسری پارٹی کے قائم کرنے کا اعلان ایسے وقت پر سامنے آیا، جب ری پبلکن اراکین کانگریس نے دو مرتبہ نائب صدر رہنے والے ڈک چینی کی صاحبزادی لز چینی کو ٹرمپ پر متواتر تنقید کرنے کی وجہ سے ہاؤس ری پبلکن کانفرنس کی چئرپرسن کے عہدے سے ہٹا دیا۔
اسی دن ناخوش ری پبلکنز کے ایک اتحاد نے جن میں سابق سفرا، کابینہ آفیسرز اور کانگریس کے اراکین اور سابق گورنر شامل تھے، ایک خط تحریر کیا جس میں ری پبلکن قیادت سے مطالبہ کیا گیا کہ یا تو وہ پارٹی میں اصلاحات لے آئیں پا پھر پارٹی کے اندر ایک اور پارٹی کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔
مائلز ٹیلر ٹرمپ دور میں ہوم لینڈ سکیورٹی کے شعبے کے سابق چیف آف سٹاف رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ناراض ری پبلکن راہنماوں نے جو پیغام دیا ہے وہ یہ ہے کہ ”اب بہت ہو چکا”۔
ٹیلر نے سی این این کے ساتھ گزشتہ ہفتے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ہمارا پیغام واضح ہے کہ پارٹی میں اصلاحات لانے یا اس کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
لیکن، امریکہ میں ایک فعال تیسری جماعت کی بات کرنا آسان ہے، بنانا مشکل کام ہے۔
معمول سے ہٹ کر ایک جمہوریت
مارجوری ہرشے، انڈیانا یونیورسٹی بلومنگٹن میں سیاسیات کی پروفیسر اور امریکی حکومت سے متعلق عام استعمال میں آنے والی ایک کتاب کی مصنف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ، ‘’میرے خیال میں، لوگوں کو سب سے پہلے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہم کئی حوالوں سے ایک بہت مختلف طرح کی جمہوریت ہیں۔”

ان کا کہنا ہے کہ امریکہ ان معدودے چند جمہوری ممالک میں شامل ہے جہاں دو جماعتی نظام نافذ ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انتخابی قوانین ریاستوں کی مقننہ بناتی ہے اور اس مقننہ کا تعلق خود دو بڑی جماعتوں سے ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی تیسری پارٹی کے بیلٹ پیپر پر آنے کو بھی مشکل بناتے ہوئے نطر آتی ہے۔
خاردار پہاڑ سر کرنا
مزید یہ کہ امریکی ہاؤس اور سینیٹ کا ہر رکن انفرادی حمایت کے ساتھ جیت کر پارلیمنٹ میں آتا ہے، اس طرح انتخابات میں خاطر خواہ ووٹ لینے والی جماعت بھی ہو سکتا ہے کہ اقتدار سے باہر بیٹھی ہو۔
زیادہ تر جمہوریتوں میں جہاں کوئی جماعت دس فیصد ووٹ حاصل کرتی ہے، اسے ایوان کی کل سیٹوں میں مناسب حصہ مل جاتا ہے۔ لیکن امریکہ میں یہ ممکن ہے کہ کوئی تیسری جماعت بڑی شرح کے ساتھ عام ووٹ حاصل کرے، لیکن اسے کانگریس کے اندر ایک سیٹ بھی نہ ملے۔ یہ صورتحال تبھی تبدیل ہو گی جب کسی ایک ریاست یا ضلع میں یہ جماعت فاتح قرار پائے۔
امریکہ میں صدارتی انتخاب میں ووٹ چونکہ ہر ریاست کے الگ الگ گنے جاتے ہیں، اس لیے تیسری جماعت کے لیے مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ مقابلہ کر سکے۔ مثال کے طور پر 1992ء میں ٹیکساس کے ایک کاروباری شخصیت راس پیرو نے صدارتی دوڑ میں حصہ لیا۔ جہاں تک پاپولر ووٹ حاصل کرنے کا تعلق ہے، وہ اس میں خاصے کامیاب رہے اور انہوں نے کل ڈالے گئے ووٹوں کا انیس فیصد حاصل کیا۔ لیکن چونکہ وہ ووٹ ملک بھر میں پھیلے ہوئے تھے، وہ ایک سیٹ بھی نہ جیت سکے اور اس طرح ان کو الیکٹورل کالج میں ایک ووٹ بھی نہیں ملا تھا۔
بے جان دھمکیاں
لہٰذا،مبصرین کا کہنا ہے کہ سابق صدر ٹرمپ کے دور میں اہم عہدے پر رہنے والے مائلز ٹیلر اور ان کے سابق ری پبلکن ساتھی جب اپنی پارٹی کو دھمکی دیتے ہیں کہ وہ نئی پارٹی بنا لیں گے تو اس کا مقصد امریکی سیاست میں ایسا نیا مرکز قائم کرنا نہیں ہوتا، جو ڈیموکریٹ اور ری پبلکن کے برابر کھڑا ہو بلکہ اس سے مراد ری پبلکن امیدواروں کے ووٹ کم کرنا اور ڈیموکریٹ کی فتح کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
اس اعتبار سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیسری جماعت جس طرح دیگر جمہوریتوں میں جگہ بنا سکتی ہے، امریکہ میں ویسی جگہ بنانا ابھی دور کی کوڑی لانے کے مصداق ہے۔
