سفید مکانوں،نیلے دریچوں اور بیگون ویلا کے پھول آپ کو سکون بخشتے ہیں۔ انہیں دیکھتے ہی آپ کو اپنی راحت اور اس حقیقت کےختم ہونے کا گمان ہوتا ہے۔بودروم کا قصبہ اصل میں ایسا منظر پیش کرتاہے۔نیلگوں سمندر اور اس کے اطراف میں موجود قصبوں کا منظر اتنا خوبصور ت ہے کہ اسے ارض جنت کا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ہالی کارناسوس نے بھی یہی کہا تھا جن کی ترجمانی جواد شاکر قابا آعچالی نے بھی کی تھی۔ انہوں نےبھی اعتراف کیا کہ بودروم فطری مناظر کی دلکشیوں اور تاریخی اعتبار سے بحیرہ روم کا ایک نادر نمونہ ہے۔ اس قصبے کی ہلال نما بندرگاہیں لوگوں کو اپنی جانب کھینچتی ہیں جن کے درمیان سان جان کا قلعہ ہے۔ اس سفید قصبے میں موجود مکانات کافی دلکش نظر آتے ہیں جن کی سفید چونے کی صاف ستھری دیواریںسمندر کے نیلے پانی میں اپنا عکس پیدا کرتے ہوئے عجیب سا سماں باندھ دیتی ہیں۔
دور حاضر میں ضلع آئیدن ،موعلا اور دینیزلی سے متصل علاقہ قدیم دور میں کاریہا کہلاتا تھا۔کاریہ کا علاقہ اپنی زرخیزی،بندرگاہون،جنگلوں اور پہاڑوں کے حوالے سے مشہور تھاجن کی ہمسایہ ریاستیں فریگیا،لیکیا،ایونیا جیسی اقوام تھیں۔افرودیسیاس،کاونوس،نیدوس اور ہارلیکارناس اس کے اہم شہر تھے۔
کاریہ کا علاقہ جغرافیائی لحاظ سے بحری جہازوں کے لیے قدرتی بندرگاہیںفراہم کرتا تھا۔قدیم دور میں یہ علاقہ بحیرہ ایجیئن کی بندرگاہوں کے حوالے سے اہم ترین مانا جاتا تھاجہاں ہالی کارناس کی بندرگاہ کافی اہمیت کی حامل تھی۔ہالی کارناس کا مطلب مقدس زرخیز شہر کے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ علاقے کی اہم بندرگاہ بن گیا۔ہالی کارناس کا حکمدار موسولوس کے زمانے میں یہ شہر دیواروں ،سرکاری عمارتوں اور ایک خفیہ جہاز سازی کے کارخانے کا حامل تھا۔موسولوس اپنے دور کا بہترین حکمراں تھا جس نے اپنی عظمت و شان و شوکت کے مظاہرے کےلیے ایک یادگار بنانے کا فیصلہ کیا لیکن اس کی تعمیر اس کی موت تک مکمل نہ ہوسکی جسے اس کی اہلیہ نے بنوایا۔یہ یادگار مزار ہالی کارناس اور کاریہ علاقے کی عظیم تعمیرات میں شمار ہوا۔
ہالی کارناس کا یادگاری مزار قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار کیا جاتا ہے۔اس تاریخ کے بعد تمام یادگاری مزارات اس دور کے حکمرانوں کے نام پر تعمیر کیے جانے لگے۔
ہالی کارناس کے مزار کی تعمیر میں یونانی اور قدیم مصری طرز معماری کا خیال رکھا گیا تھاجو کہ دیکھنے والوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس مزار کی بلندی پچپن میٹر ہےجسے دنیا کی بہترین عمارتوں میں شامل کرنے کے لیے اس دور کے بہترین مجسمہ سازوں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔یاد گار کے اطراف میں چار مختلف مجسمہ سازوں نے اپنے ہاتھوں کی فنی مہارت دکھائی جو کہ دنیا کے بہترین کتبے شمار کیے گئے۔مزار کا ایک وسیع احاطہ،شیروں کے مجمسے،دیوی دیوتاوں اور جنگجووں کے مجسموں کے علاوہ یادگار کے بلند مقام پر ایک چھ گھوڑوں کی بگھی پر شاہ موسولوس اور اس کی اہلیہ آرتیمیسیا کے مجسمے موجود ہیں۔بعد کے ادوار میں ماہرین نے کھدائی کے نتیجے میں جو آثار نکالے ہیں ان کے نتیجے میں انہیں معلوم ہوا کہ یادگار دکھنے میں کیسی تھی۔یہ یادگار دیکھنے والوں کو مہبوت کر دیتی ہے۔
یہ عظیم الشان عمارت کئی قدرتی آفتوں کے خلاف اپنے پیروں پر پندرہ سو سال سے کھڑی ہے لیکن ایک ہولناک زلزلے کے بعد یہ عمارت گر گئی،چودہویں صدی میں علاقے میںوارد ہوئے سینٹ ژاں کی یادگار کے کھنڈرات آج بھی بودروم کے قلعے کی تعمیر میں استعمال ہوئے ہیں۔یادگاری مزار کے آج صرف کچھ ہی کھنڈرات ملے ہیں ۔
قدیم دور کے اس عظیم شہر ہالی کارناسوس سے متعلق معلومات ہمیں ملتی ہیں جس کا سہرا ہیریدوت کو جاتا ہے جسے رومی محقق اور تاریخ دان چیجیرو نے بابائے تاریخ کہا ہے۔ہیریدوت نے ہالی کارناس تھریس سے بحیرہ اسود اور مقدونیہ سے مصر تک پھیلے خطے میں بری و بحری سفر کیے،اس نے مختلف علاقوں سےمعلومات حاصل کی اور اپنے وقت کا بہترین سیاح قرار پایا۔
اس نے اپنے سیاحتی زمانے میں مختلف علاقوں کے لوگوں سے بات چیت کی ،مقامی عہدے داروں سے ملاقاتیں کیں اور سرکاری دستاویز تک رسائی کی کوشش کی۔اس کے مطابق، ہسٹوریا یعنی تاریخ کی کتاب انسانیت کے سامنے رکھی،اس نے تاکید کی کہ” انسانیت اس کی اس کاوش کو کبھی نہ بھولے” یونانیوں اور غیر ملکیوں کے فن مہارت کو یاد رکھا جائے ۔
ہیسٹوریا میں غیر جانبدارانہ طور سے ہیری دوت نے جو کچھ دیکھا اور جانا وہ بیا ن کیا۔آج کے ماہرین ہیری دوت کے اس تاریخی مجموعے کو قبول کیا ہے۔ ہیری دوت کی کاوش جغرافیہ اور تاریخی شاہکار ہے جس میں اس دور کے معاشرتی اثرات،روایات،ثقافت،معماری اور میتھولوجی کا ذکر ملتا ہے۔
قدیم دور سے اب تک ہالی کارناس کا یہ قصبہ تاحال زندگی کا پہیہ چل رہا ہے۔پرانےدور میں اپنی آبو تاب سےلوگوں کو متوجہ کرنے والی یہ یادگار آج کچھ خالی خالی سے دکھائی دیتی ہے کیونکہ یہاں سے برآمد کی جانے والی باقیات،مجسمے ،کتبے اور ستون برٹش میوزیئم میں زیر نمائش ہیں جن کی واپسی کا ہمیں انتظار ہے۔
