English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا کی خفیہ ایجنسی “سی آئی اے” کے سربراہ کا دورہ پاکستان

القمر

امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ نے پچھلے دنوں پاکستان کا خفیہ دورہ کیا ہے۔اس حساس ترین دورے
کی کچھ اہم معلومات خبروالے کو موصول ہوئی ہیں جو آپ ساتھ شیئر کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
سی آئی اے ڈائریکٹر ولیم برنز نے گزشتہ ہفتے پاکستان کا خفیہ دورہ کیا۔ اس دورے میں سی آئی اے کے سربراہ
نے آرمی چیف قمرجاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید سے ملاقاتیں کی۔

پاکستان کے دفاعی ذرائع نے اس دورے کی تصدیق کی ہے۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کا کہنا ہے کہ امریکا
افغانستان سے انخلا کے بعد کوئی ایسی جگہ کی تلاش میں ہے جہاں سے وہ افغانستان کی نگرانی کرسکے۔

امریکا چاہتا ہے کہ وہ مستقبل میں نہ صرف افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی نقل و حمل پر نظر رکھ
سکے بلکہ ان کے خلاف ضرورت پڑنے پر کارروئی بھی کی جاسکے۔

افغانستان سے انخلا کے بعد امریکی فوج کا پاکستان میں نیا فوجی اڈہ تعمیر

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے فی الحال امریکا کو افغان سرحد پر فوجی اڈا بنانے کی اجازت نہیں دی۔
امریکی ادارے سی آئی اے کے سربراہ نے بھی کہا ہے کہ وہ پاکستان میں ڈرون اڈا نہیں بنا رہے ہیں۔
یاد رہے امریکا دو دہائی پر محیط طویل جنگ میں طالبان کے ہاتھوں شکست کھا کر افغانستان سے اپنی فوجیں نکال رہا ہے۔
امریکا فوجوں کے انخلا کے بعد واشنگٹن افغانستان کی صورت حال پر نظر رکھنا چاہتا ہے۔
گزشتہ دنوں خبریں سرگرم تھیں کہ امریکا پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر فوجی اڈا بنارہا ہے۔
سوشل میڈیا پر یہ بھی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ پاکستان میں افغان سرحد پر امریکی ہیلی کاپٹر معمول سے زیادہ پروازیں کر رہے ہیں۔
یہ پروازیں فوجی اڈے کے قیام کے لیے ہوسکتی ہیں۔
ایسی صورت حال میں طالبان نے پاکستان کو تنبیہ کی تھی کہ وہ امریکا کو فوجی اڈا بنانے کی اجازت نہ دے۔
جب امریکا افغانستان سے نکل رہا ہے تو پاکستان کو اپنے مستقبل کا لائحہ عمل سوچ سمجھ کر بنانا ہوگا۔
یہ نہ ہو کہ امریکا خطے سے نکلتے نکلتے پاکستان کو دوبارہ جنگ کی آگ میں جھونک دے۔
پاکستان افغان جنگ کی وجہ سے ناقابل تلافی جانی و مالی نقصان اٹھا چکا ہے۔

افغان طالبان کی ناراضی کے بعد القائدہ نے بنگلہ دیش میں جڑیں مضبوط کرلی

پاکستان ستر ہزار سے زائد شہریوں کی قربانی دینے کے ساتھ ساتھ معاشی طور خطے کے تمام ممالک سے پیچھے
رہ چکا ہے۔ اگر امریکا کی مسلط کردہ جنگ سے جان نہ چھڑوائی گئی تو پاکستان مستقبل میں مزید نقصان اٹھا
سکتا ہے جس کے ہم کسی صورت متحمل نہیں ہوسکتے۔ یہ وقت پاکستان اور اس کے عوام کے لیے انتہائی
اہمیت کا حامل ہے۔ ہمیں اپنے وسیع تر مفاد میں اپنی راہ کا تعین کرنا ہوگا۔

No related posts.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے