English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اناطولیہ کی ابتدائی تہذیب17

القمر

انتی گون پرومیتیوس شاہ اودیپوس الیکٹرا۔۔۔ قدیم یونانی تھیٹر کے افسانوی کرداروں میں شامل کہانیوں میں سے بعض  کا خالق تھا۔ دینی روایات اور فطری تقلید سے شروع کردہ تھیٹر  خیالی بنیاد کی تبدیلی میں مصروف قدیم یونانی دور کے تھیٹر کا ایک مختلف نام تھا۔فنون لطیفہ کے آغاز کا سہرا  اسی تھیٹر کے نام جاتا ہے۔
دور حاضر کے تھیٹر کی بنیاد یعنی  یونانی ڈرامہ نویسی کب شروع ہو گئی اور الیائدا اور اودیسہ کے افسانے مغربی ادبیات میں پہلے ادبی نسخے تصور کیے جاتے ہیں۔

  یونانی ادبیات میں ہی نہیں بلکہ عالمی ادبیات میں  دو داستانیں کافی مشہور تھیں ایک الائیدا اور دوسری اودیسیہ۔ یہ دونوں داستانیں صدیوں سے ماضی کی ان داستانوں کو پڑھتے او رپڑھاتے ہیں  جن میں انسانی احساسات کو سادہ زبان میں بیان کیا گیا تھا۔قدیم دور  کے نامور  داستان گو ہومیروس  نے بھی ان کا ذکر کیا ہے۔یہ دونوں داستانیں یونانی ثقافت کا اہم حصہ ہیں جنہیں قدیم دور میں نصاب میں بھی شامل کیا جاتا رہا ۔
الائیدا اور اودیسیہ صرف یونانی ڈراموں میں ہی نہیں بلکہ جدید ادبیات میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں۔دونوں داستانوں میں تقریبا چھ ہزار قسطیں ہیں۔ الائیدا کا نام قدیم ٹروئے کے شہر سے منسوب کیا گیا تھا جو کہ اس شہر کے اندرونی حصے کے قدیم محلے   الیون سے لیا گیا تھا۔ ٹروئے کی جنگ کا               موضوع بھی یہی تھا جس کی حقیقت اور محض افسانے  کی حیثیت تاحال ایک سوال ہے کیونکہ ہومیروس  کے خیال میں خداوں اور ناقابل تسخیر جنگجووں  کے کارناموں سے بھرپور ایک جنگ تھی۔ اس داستان کو  ہومیروس نے مکمل بیان نہیں کیا جو کہ دس سال جاری رہی تھی جس کا اس نے صرف آخری حصہ یعنی اکیاون روز کا حال  ہی بیان کیا ہے۔
اس داستان کا موضوع کچھ یوں ہے کہ جنگ کا آغاز ٹروئے کا شہزادہ پارس جب آخا شاہ مینیے لاوس کی بیوی ہیلینہ کو اغوا  پر ہوتا ہے۔اس جنگ میں یونان کی شہری  ریاستیں اور دیگر افواج بھی شامل ہوئیں۔اخیلیاس بھی ان جنگ میں شامل تھا جو کہ کافی بہادر بھی تھا مگر اخا کی فوج کے  سپہ سالار اگا میمنون کی وجہ سے اسے  جنگ سے نکلنا پڑا۔دس سال جاری  اس جنگ  میں فریقن کو کافی نقصان اٹھانا پڑا لیکن کیس نے ہار نہیں مانی۔آخا کی فوج کو بعد ازاں پس قدمی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ یونان لوٹنے پر مجبور ہو گئی۔پارس کے بھائی ہیکٹر جنگ ختم کرنے کےلیے تجویز پیش کرتا ہے کہ وہ شاہ مینی لاوس کی بیوی کو اغوا کر لےاور یہ تنازعہ پارس اور مینی لاوس کے  درمیان لڑائی سے ہی حل ہو سکتا ہے۔اس تجویز کو قبول کرتے ہوئے مینی لاوس اور پارس ٹکرانے کی تیاری کرتے ہیں۔ہیلن کے اغوا میں افرودیسیاس کا عمل دخل ہوتا ہے۔ جنگ ہارتے ہوئے دیکھتے ہی پارس جنگی میدان سے فرار ہو جاتا ہے۔جنگ دوبارہ شروع ہو جاتی ہے جس میں دیوتا بھی شامل ہو جاتے ہیں۔عظیم دیوتا زیوس ہیکٹر یعنی ٹروئے قوم کا ساتھ دیتا ہےلیکن ہیکٹر آخا کے ایک قریبی دوست کو ہلاک کرتے ہوئے غلطی کرتا ہے جس پر آخا طیش میں آکر دوبارہ اس جنگ میں شامل ہوتا ہے اور ہیکٹر کو ہلاک کر دیتا ہے۔
ہیکٹر کی موت سے ٹروئے کی عوام اور خاندان پریشان ہو جاتے ہیں آخا ہیکٹر کی نعش ٹروئے کے اطراف میں تین بار گھسیٹتا ہےاور انصاف کے تقاضے پورت ہوئے یہ نعش اس کے باب کے حوالے کرتاہے۔الائیدا کی داستان ختم ہوتی ہے اور جنگ آخا جیت جاتا ہے۔

 الائیدا ٹروئے جنگ کی ہی نہیں بلکہ آخا کی داستان بھی ہے۔دوسری داستان اودیسیہ کی ہے جس میں جنگ ٹروئے کے  جنگجو  اودیسیہ کا  جنگ کے بعد اپنی ریاست اتاخا واپسی کا سفر بیان کیا گیا ہے۔ہومیروس اپنی اس دوسری داستان میں بتاتا ہے کہ  میتھولوجی میں  دیوتا اور دیویوں کا کیا کردار تھا مگر اودیسیہ کی کہانی یک شخصہ تھی۔ اودیسیہ کی گھر واپسی دس سال  کے سفر پر محیط  رہی اور اس  میں جو کچھ اس کے  ساتھ پیش آیا اسے ہومیروس نے بیان کیا ہے۔

ہومیروس نے ان داستانوں کو امر بنا دیا ہے جو کہ قدیم دنیا کا اہم ترین داستان گو تھا۔مغربی ادبیات میں اسے کافی نمایاں مقام حاصل  رہا ہے۔روایتی میتھولوجیمیں ہومیروس  کا مقام کافی  بلند ہے کیونکہ یونانی دیوتا کو اس نے پہلی بار دنیا  کے سامنے پیش کیا جس کا تعلق اناطولیہ سے تھا۔ ہمیں ہومیروس کی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔خیال ہے کہ ہومیروس مغربی اناطولیہ کے تاریخی شہر سمیرنہ میں پیدا ہوا تھا۔دریں اثنا، ہومیروس   کے  وجود کے بارے میں نفی کرنے والے محققین بھی موجود ہیں اور اس کی داستانوں کو حقیقی ضرور مانتے ہیں لیکن اسے ہومیروس سے وابستہ نہیں کرتے حتی  بعض شعرا نے اپنے شعروں میں ہومیروس کا ذکر بھی کیا ہے۔موجودہ جدید محققین  ہومیروس کے بارے میں کسی دلیل کو ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں لیکن ہمارے لیے وہ اناطولیہ کانامور داستان گو گزرا ہے۔
 بابائے تاریخ ہیری دوت  نے  ہومیروس کو یونانی دیوتاوں کے بارے میں علم دیا۔پلاتون بھی اسی نظریے کا حامل رہا جو کہ یونانی دنیا کے تمام عقائد کا بانی تھا جس نے یونان کو شاعری سے متعارف کروایا۔ قدیم دور میں قانون ،مذہب اور سیاست سمیت متعدد موضوعات پر اس نے تصانیف لکھیں۔سکندر اعظم نے بھی ہومیروس کی کہانیوں سے اپنی فوجی استعداد بڑھانے میں مدد ملنے کا ذکر کیا ہے حتی اس نے الائیدا سے بھی متاثر ہونے کا کہا ہے۔ الائیدا  کی داستان سے متاثر  ہینریخ شلیائمان نے ٹروئے کا سفر کیا تاکہ ان کہانیوں کا انسانی تاریخ پر اثرات کا جائزہ لیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے