English Al Qamar Urdu جون 21, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کشمیر ٹائم لائن: 14اگست 1947سے 24جون 2021

پانچ اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کر دی گئی اور ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کیا گیا۔
مرکزی حکومت نے 24 جون کو جموں و کشمیر کے 14 سیاسی رہنماوں کو وزیراعظم کے ساتھ میٹنگ کرنے کے لئے مدعو کیا ہے۔ یہ پانچ اگست 2019 کے بعد خطہ میں مین اسٹریم سیاست کو بحال کرنے کی جانب ایک اہم قدم مانا جاتا ہے۔
14اگست 1947 سے اب تک جموں و کشمیر میں کیا اہم پیش رفت ہوئیں ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

14-15 اگست 1947: برطانیہ سے آزادی کے بعد دو خود مختار ریاستیں پاکستان اور بھارت وجود میں آئیں، ریاستوں اور راجواڑوں کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے عوام کی منشا کے مطابق کسی بھی ملک میں شامل ہونے کا فیصلہ کر سکتی ہیں ۔کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت تھی مگر اس کے ہندو راجہ نے وقت پر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
اکتوبر 1947: کشمیر میں جاری داخلی خانہ جنگی میں پاکستان سے قبائلی لشکر بھی شامل ہو گئے۔
26 اکتوبر 1947: مہاراجہ نے بھارت سے مدد چاہتے ہوئے کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیئے تاہم یہ الحاق مشروط تھا کہ جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے کشمیر میں رائے شماری ہو گی ۔
27 اکتوبر 1947: بھارت نے اپنی فوجیں ہوائی جہازوں کے ذریعے سری نگر میں اتار دیں تاکہ کشمیر میں ہونے والی بغاوت کو کچلا جا سکے جس کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ چھڑ گئی ۔
یکم جنوری 1948: بھارت نے مسئلہ کشمیر پر اقوام ِ متحدہ سے مدد مانگ لی ۔
5 فروری 1948: اقوام متحدہ نے ایک قرار داد کے ذریعے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تاکہ وہاں رائے شماری کرائی جا سکے ۔
یکم جنوری 1949: اقوامِ متحدہ نے جنگ بندی کراتے ہوئے دونوں ممالک کی فوجوں کو جنگ بندی لائن کا احترام کرنے کا پابند کیا اور وہاں رائے شماری کرانے کا اعلان کیا ۔
26 جنوری 1950: بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 کا اضافہ جس میں ریاست جموں و کشمیر کو دفاع ، خارجہ اور مواصلات کے علاوہ خود مختار حیثیت دی گئی ۔
اکتوبر 1950: شیخ عبداللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر میں انتخابات کا مطالبہ کیا تاکہ ریاستی اسمبلی کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرے ۔
30 مارچ 1951: اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے کشمیر میں انتخابی عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسمبلی رائے شماری کا متبادل نہیں ہے اور نہ ہی کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہے ساتھ ہی ایک نمائندہ مقرر کرنے اور کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کا اعلان کیا مگر اس پر عمل در آمد نہ ہو سکا ۔
ستمبر 1951: کشمیر کی اسمبلی کے انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے تمام 75 نشستیں بلا مقابلہ حاصل کر لیں۔
31 اکتوبر 1951: شیخ عبداللہ نے ریاستی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں ریاست کے بھارت کے ساتھ الحاق کے حق میں دلائل دیئے۔
جولائی 1952: شیخ عبدااللہ نے دہلی معاہدے پر دستخط کر دیئے جس کے تحت انڈیا کے زیرانتظام ریاست کو داخلی خودمختاری دی جائے گی۔
جولائی 1953: سائما پرشاد مکر جی نے 1952 سے کشمیر کے بھارت سے مکمل الحاق کے بارے میں جو تحریک شروع کر رکھی تھی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شیخ عبداللہ نے کشمیر کی خود مختاری کی تجویز دے دی۔
8 اگست 1953: شیخ عبدالاللہ کو بطور وزیراعظم فارغ کرتے ہوئے گرفتار کر کے بھارت میں قید کر دیا گیا اور ان کی جگہ بخشی غلام محمد کو وزیر اعظم بنا کر مظاہرین کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا ٹاسک سونپا گیا۔
17-20 اگست 1953: بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے درمیان دہلی میں ملاقات ہوئی جس میں اپریل 1954 کے آخر تک وہ کشمیر میں رائے شماری کے لیے ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے پر متفق ہو گئے ۔تاہم جیسے ہی پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹریٹجک تعلقات گہرے ہوئے تو بھارت نے اس مسئلے کو بھی سرد جنگ کا حصہ قرار دیتے ہوئے رائے شماری سے انکار کر دیا۔
فروری 1954: کشمیر کی اسمبلی نے بھارت کے ساتھ الحاق کر دیا۔
14 مئی 1954: آئینی حکم نامہ 1954 جس کا تعلق ریاست جموں و کشمیر سے تھا اسے لاگو کر دیا گیا جو دہلی معاہدے کومنسوخ کرتے ہوئے ریاست کو بھارتی عمل داری میں دیتے ہوئے تمام شہری آزادیوں کو ختم کرتا تھا۔
14 جنوری 1957: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک بار پھر 1951 کی قرارداد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اسمبلی کسی طور بھی کشمیر کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کا اختیار نہیں رکھتی اور نہ ہی یہ رائے شماری کا متبادل ہے۔
26 جنوری 1957: ریاستی اسمبلی نے جموں و کشمیر کا آئین نافذ کیا جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو بھارتی یونین کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔
9 اگست 1955: رائے شماری محاذ قائم کیا گیا جس نے شیخ عبداللہ کی رہائی اور اقوام ِ متحدہ کی زیر نگرانی کشمیر میں رائے شماری کا مطالبہ کیا۔
20 اکتوبر تا 20 نومبر 1962: لداخ میں بھارت اور چین کے مابین ایک سرحدی تنازعے نے جنگ کی شکل اختیار کر لی جس کے نتیجے میں لداخ کے ایک بڑے علاقے پر چین قابض ہو گیا۔
مارچ 1965: بھارتی پارلیمنٹ نے ایک بل پاس کیا جس کے تحت کشمیر کو بھارت کو صوبہ قرار دیتے ہوئے بھارت کو وہاں گورنر تعینات کرنے، کشمیر میں حکومت کو برطرف کرنے اور اسے آئین سازی سے روکنے کے اختیار حاصل ہو گئے ۔
23 اگست تا سمبر 1965: پاکستان اور بھارت کے درمیان دوسری جنگ چھڑ گئی جس نے 1949 کے فائر بندی معاہدے کو ختم کر دیا۔
10 جنوری 1966: بھارت اور پاکستان کے مابین تاشقند معاہدے پر دستخط ہو گئے جس کے تحت دونوں ممالک اپنی اپنی افواج کو جنگ سے پہلے والی پوزیشنوں پر لانے میں متفق ہو گئے ۔
3-16 دسمبر 1971: پاکستان اوربھارت میں جنگ کے نتیجے میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا ۔
فروری 1972: محاذ برائے رائے شماری پر پابندی لگا دی گئی کہ وہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات نہیں لڑ سکتا۔
2 جولائی 1972: پاکستان اور بھارت کے درمیان شملہ معاہدہ ہو ا جس میں اقوام ِ متحدہ کی فائر بندی لائن کو لائن آف کنٹرول قرار دیا گیا مزید یہ کہ اس معاہدے کی رو سے فریقین اس مسئلے کو دو طرفہ مذاکرات سے حل کریں گے ۔
13 نومبر 1974: شیخ عبداللہ کو رہا کر کے اسے بطور وزیر اعلی بحال کر دیا گیا ۔جبکہ اس کے نائب وزیر اعلی نے بھارت کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کر دیئے جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر بھارت کاآئینی حصہ ہو گا اس طرح وہ 1953 میں اپنے خود مختاری کے دعوے سے پھر گئے ۔
23 مئی 1977: شیخ عبداللہ نے دھمکی دی کہ بھارت کے ساتھ الحاق اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک بھارت آرٹیکل 370 کے تحت کشمیر کو داخلی خود مختاری نہیں دیتا ۔
8 ستمبر 1982: شیخ عبداللہ انتقال کر گئے جس کے بعد ان کے بیٹے فاروق عبداللہ نے قیادت سنبھال لی ۔
اپریل 1984: بھارت نے سیاچین گلیشئر پر قبضہ کر لیا ۔
جون 1984: بھارت کے تعینات کردہ گورنر اور ہندو قوم پرست رہنما جگموہن نے فاروق عبداللہ کو معطل کر کے نیشنل کانفرنس کے غلام محمد شاہ کو وزیراعلی نامزد کر دیا جس سے کشمیر میں مظاہرے پھوٹ پڑے جس پر غلام محمد شاہ نے کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا ۔
7 مارچ 1986: جگموہن نے غلام محمد شاہ کو وزارت ِ اعلی سے برخاست کرتے ہوئے خود اختیارات سنبھال لیے اور مسلمانوں کی سرکاری نوکریوں پر پابندی لگا دی ۔
23 مارچ 1987: مسلم یونائیٹڈ فرنٹ جو کہ ایک مقبول جماعت تھی اس نے انتخابات میں حصہ لیا مگر کانگریس اور مسلم کانفرنس کا اتحاد جیت گیا جس پر دھاندلی کے الزامات لگے اور فاروق عبداللہ کی غیر مقبول حکومت کے خلاف مظاہرے پھوٹ پڑے ۔
1989: بھارتی حکمرانی کے خلاف مسلح تحریک شروع ہو گئی جس کی قیادت مسلم یو نائیٹڈ فرنٹ کے ممبران کر رہے تھے سال کے ایک تہائی دنوں میں ہڑتالیں رہیں ریاستی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا گیا اور ٹرن آٹ صرف پانچ فیصد رہا ۔
1990: بغاوت جاری رہی ۔پاکستان سے بڑی تعداد میں مجاہدین وادی میں داخل ہو گئے ۔
20 جنوری 1990: جگموہن سنگھ کو گورنر تعینات کرنے کے اگلے روز بھارتی پیرا ملٹری ریزرو پولیس فورس نے گوکدل میں نہتے مظاہرین جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے ان پر گولی چلا دی ا س قتل عام کے خلاف پورے کشمیر میں پر تشدد مظاہرے پھوٹ پڑے ۔
یکم مارچ 1990: سری نگر میں اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ کے دفتر کے سامنے پانچ لاکھ سے زائد کشمیریوں نے مارچ کیا جنہوں نے کشمیر میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق رائے شماری کا مطالبہ کیا۔جس پر بھارتی فوج نے مظاہرین پر دو مقامات پر فائرنگ کر دی ۔ذکورا کراسنگ میں 26 اور تنگ پورہ بائی پاس پر 21 شہری مارے گئے ۔جس پر کشمیر میں 162،500 ہندو کمیونٹی کو نکال کر جموں میں پناہ گزین کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔
30 مارچ 1990: جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما اشفاق وانی کے جنازے میں بہت بڑا اجتماع ہوا ۔
6 جنوری 1993: بھارتی بارڈر سیکورٹی پولیس نے عسکریت پسندوں کے ایک حملے کا بدلہ لینے کے لیے سوپور میں 55 شہریوں کو ہلاک کر دیا۔
مارچ 1993: سیاسی، سماجی اور مذہبی گروپوں پر مشتمل آل پارٹیز حریت کانفرنس نے حق خود اختیاری کا مطالبہ کیا ۔
1998: پاکستان اور بھارت دونوں کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے تجربات
21 فروری 1999: بھارتی وزیر ا عظم اٹل بہاری واجپائی اور پاکستانی وزیر اعظم نوازشریف نے اعلان لاہور پر دستخط کئے جس کے تحت کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا اعادہ کیا گیا۔
مئی جولائی 1999: پاکستان وبھارت کے درمیان کارگل جنگ چھڑ گئی ۔
2000: ایک دہائی سے جاری کشمیر میں عسکری تحریک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی جس میں پر امن اور غیر متشدد طریقے اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہو گئے۔ کشمیر کے مسئلے پر بھی اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات کئے گئے اگرچہ ان میں تعطل آتا رہا اور دونون ممالک کشمیر میں کسی تصفیہ پر متفق نہیں ہو سکے ۔
11 مارچ 2001: اقوام ِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے دونوںممالک کو اعلانِ لاہور کے تحت آگے بڑھنے کا مشورہ دیا جس پر جولائی 2001 میں مشرف اور واجپائی کے درمیان آگرہ میں ملاقات ہوئی مگر کوئی اعلان جاری نہ ہو سکا ۔
اکتوبر 2001: کشمیر اسمبلی سری نگر پر حملے کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک۔
دسمبر 2001: بھارتی پارلیمنٹ پر نئی دہلی میں حملہ ، لشکر طیبہ اور جیش محمد نے ذمہ داری قبول کی۔
2004-2007: مسئلہ کشمیر پر بیک چینل روابط کے ذریعے دونوں ممالک نے کشمیری قیادت کے ساتھ مزاکرات کئے
اپریل 2005: مظفر آباد سری نگر بس سروس شروع ہوئی ۔
مئی 2008: بھارتی حکومت اور جموں و کشمیر کی حکومت کی جانب سے ہندو شری امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف کشمیر بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے جو جو کہ 1990 کے بعد سب سے بڑے مظاہرے تھے مسلح پولیس نے مظاہرین پر فائر نگ کی اور کشمیر اور بھارت کو ملانے والی سڑک بلاک ہو کر رہ گئی۔
21 فروری 2009: بومائی میں بھارتی فوج نے دو عبادت گزاروں کو جان بوجھ کر گولی مار دی جس پر بومائی اور ملحقہ علاقوںمیں مظاہرے شروع ہو گئے جس پر کرفیو لگانا پڑا۔
29-30 مئی 2009: دو خواتین 22سالہ نیلوفرجان اور 17 سالہ عائشہ جان کو شوپیاں میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
جون 2009: کشمیر بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے جنہوں نے سینٹرل پولیس ریزرو فورس کو زیادتی اور قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا جس پر شوپیاں میں کرفیو لگا دیا گیا۔
30 اپریل 2010: ماشیل سیکٹر میں بھارتی فوج نے تین عسریت پسندوں کو لائن آف کنٹرول کرا س کرنے کے الزام میں موت کے گھاٹ اتار دیا بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ مقابلہ فرضی تھا اور مرنے والے تینوں عام کشمیری تھے اور انہیں صرف اس لیے مارا گیا کہ ان کے قتل کے عوض وہ کیش انعام حاصل کر سکیں ۔
11 جون 2010: 17 سالہ ظفیل احمدمٹو جو سکول سے گھر آ رہا تھا اس وقت ہلاک ہو گیا جب آنسو گیس کا ایک شیل اس کے قریب آ کر سر پر مارا گیا ۔اس کے نتیجے میں بھی مظاہرے پھوٹ پڑے جس سے نمٹنے کے کئے کرفیو لگا کر سینکڑوں کشمیریوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
اگست 2011: وزیر اعلی عمر عبداللہ نے ان 1200 نوجوانوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا جو کہ گزشتہ سال حکومت کے خلاف مظاہروں میں سیکورٹی فورسز پر پتھر پھینکنے میں ملوث تھے ۔بھارت کے ریاستی ہیومن رائٹس کمیشن نے لائن آف کنٹرول کے قریب ایسی اجتماعی قبروں کی نشاندہی کی جہاں 2000 کے قریب نامعلوم لوگ دفنائے گئے تھے خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں وہ کارکن بھی شامل تھے جنہیں بھارتی فوجوں نے گرفتار کر رکھا تھا یا جنہیں غائب کر دیا گیا تھا۔1989 سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جا چکے تھے ۔
فروری 2013: کشمیری جیش محمد کے کارکن محمد افضل گرو جن پر 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کا الزام تھا انہیں پھانسی دیئے جانے کے خلاف وادی میں مظاہرے ہوئے جن کے نتیجے میں دو افراد ہلاک کر دیئے گئے ۔
ستمبر 2013: پاکستان و بھارتی وزرائے اعظم کی ملاقات میں لائن آف کنٹرول کے آر پار تشدد کو کم کرنے پر اتفاق
اگست 2014: بھارت نے یہ کہہ کر پاکستان سے مذاکرات ختم کر دیئے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر نے کشمیری علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرت کئے تھے ۔
اکتوبر 2014: پاکستان اور بھارت میں سرحدوں پر کشیدگی ، دونوں طرف 18 ہلاکتوں کی تصدیق۔
مارچ 2015: تاریخ میں پہلی بار بی جے پی نے کشمیر میں مقامی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی اور مفتی محمد سعید کو وزیراعلی چنا گیا۔
ستمبر 2015: کشمیر میں مسلمانوں نے بڑے گوشت پر پابندی کے خلاف اپنی دوکانیں اور تجارتی مراکز بند کئے۔
اپریل 2016: محبوبہ مفتی اپنے باپ مفتی سعید کے بعد کشمیر کی پہلی خاتون وزیر اعلی بنیں۔
جولائی 2016: حزب المجاہدین کے سرکردہ کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں کشمیر میں کرفیو لگا دیا گیا۔
اگست 2016: وادی میں جاری 50 روزہ کرفیو میں نرمی کی گئی ۔ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وادی میں مظاہروں اور تشدد کی لہر کے نتیجے میں 68 شہری ہلاک اور 9000 لوگ زخمی ہوئے۔
ستمبر 2016: کشمیر میں ایک فوجی بیس پر حملے کے نتیجے میں 18 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان اور بھارت میں دھمکیوں کا تبادلہ۔
نومبر 2016: لائن آف کنٹرول پر جھڑپ میں سات پاکستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد آزاد کشمیر میں ایل او سی پر بڑی تعداد میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
مئی 2017: حریت کمانڈر سبزار احمد بھٹ کی نماز جنازہ میں شمولیت کے لیے ہزاروں لوگوں نے کرفیو کو توڑ ڈالا۔
جولائی 2017: ہندو یاتریوں پر حملے کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہو گئے۔
14 فروری 2019: پلواما میں ایک خود کش حملے کے نتیجے میں 40 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے۔
21 فروری 2019: بھارت نے پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی دی۔
26 فروری 2019: بھارت نے بالا کوٹ میں مجاہدین کے ایک کیمپ پر فضائی حملہ کیا اور کئی مجاہدین کو مارنے کا دعوی کیا۔
27 فروری 2019: پاکستان نے بھارت کے دو طیاروں کو مار گرایا اور ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔
2 اگست 2019:
بڑی تعداد میں فوج و نیم فوجی دستے جموں و کشمیر بھیجے گئے۔ امرناتھ یاتریوں و سیاحوں کو جموں و کشمیر سے فورا نکلنے کو کہا گیا۔
4 اگست 2019:
دفعہ 144 نافذ۔ عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی سمیت دیگر اہم کشمیری رہنماوں کو حراست میں لیا گیا۔
5 اگست 2019: بھارتی حکومت نے آئین میں سے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا جو کہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا تھا ۔اس طرح کشمیر کو بھارتی یونین میں ضم کر دیا گیا۔
پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت میں تبدیلی کی منظوری دی۔
آرٹیکل 370 اور 35اے کی منسوخی کے بعد کیبل ٹی وی، موبائل فونز، انٹرنیٹ خدمات، لینڈ لائن سروس کو بند کر دیا گیا
16 اگست 2019: کشمیر کے مسئلے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا۔
14 اکتوبر 2019: پوسٹ پیڈ فون خدمات بحال ہوگئیں۔
24 اکتوبر 2019: جموں کشمیر میں لوکل باڈیز کونسل کے انتخابات ہوئے۔
29 اکتوبر 2019: جموں و کشمیر سے متعلق حکومت کے فیصلے کے بعد غیر ملکی وفد کے پہلے دورے میں 23 ایم ای پیز (ممبران یورپی پارلیمنٹ) کی ایک ٹیم دو روزہ دورے پر کشمیر پہنچے
31 اکتوبر 2019: جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت نے دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے تقریبا تین ماہ بعد ریاست کو سرکاری طور پر دو مرکزی علاقے ‘جموں و کشمیر’ اور ‘لداخ’ میں تقسیم کردیا ۔یہ پہلا موقع ہے جب کسی ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز میں تبدیل کر دیا گیا۔

سال 2020

18.01.20:
301 وائٹ لسٹ ویب سائٹوں کے لئے 2 جی خدمات بحال ہوگئیں۔
09.02.2020:
15غیر ملکی سفیروں کا ایک گروپ زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے دو روزہ دورے پر سری نگر پہنچا۔
13.03.2020:
نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ سری نگر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سات ماہ سے زیادہ نظربند رہنے کے بعد رہا ہوئے۔
24.03.2020:
عمر عبد اللہ رہا کئے گئے۔
29.06.20:
کشمیر کی علیحدگی پسند جماعت کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی، حریت کانفرنس نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے اپنے دھڑے کو چھوڑ دیا اور راولپنڈی میں مقیم عبداللہ گیلانی کو اپنا جانشین نامزد کیا۔
13.10.2020:
سابق وزیر اعلی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی کو 14 ماہ کی نظربندی کے بعد رہا کردیا گیا۔
15.10.20:
نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبد اللہ نے جموں وکشمیر میں اپنی رہائش گاہ پر آل پارٹی کے اجلاس کے بعد گپکار اعلامیہ (پی اے جی ڈی) کے لئے عوامی اتحاد کا اعلان کیا۔ جموں وکشمیر میں کل سات سیاسی جماعتیں اکٹھا ہوئیں اور اتحاد کے قیام کا اعلان کیا۔
28.11.20:
جموں و کشمیر کی تاریخ میں پہلا ڈی ڈی سی انتخاب 28 نومبر 2020 سے آٹھ مراحل میں منعقد ہوئے۔
23.12.2020:
عوامی اتحاد برائے گپکار ڈیکلیریشن (پی اے جی ڈی) نے سب سے زیادہ نشستوں پر کامیابی کے ساتھ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کونسل (ڈی ڈی سی) میں 110 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ بی جے پی 75 نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔
06.02.21:
جموں و کشمیر انتظامیہ نے ایک حکم جاری کیا جس میں خطے میں تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کی اجازت دی گئی۔ 17 ماہ بعد جموں و کشمیر میں 4جی انٹرنیٹ سروس بحال کی گئی۔
13.02.21:
وزیر داخلہ امت شاہ کہا لوک سبھا میں کہا جموں و کشمیر کو مناسب وقت پر ریاست کا درجہ دیا جائے گا۔
13.02.21:
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ 2022 تک وادی میں تمام بے گھر کشمیری پنڈتوں کو وہاں بسایا جائے گا۔ اور ان کے لئے 25 ہزار ملازمتیں پیدا کی جائیں گی۔
17.02.21:
ضلعی ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) انتخابات کے کامیاب انعقاد کے بعد ترقیاتی کاموں اور سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے مختلف ممالک سے 22 غیر ملکی سفیروں کا ایک وفد جموں و کشمیر کے دو روزہ دورے پر سری نگر پہنچا۔
19.06.21:
جموں و کشمیر کے لئے حد بندی کمیشن نے تمام 20 ڈسٹرکٹ کمشنرز (ڈی سی) کو خط لکھ کر بنیادی آبادیاتی، ٹپوگرافک معلومات کی جانکاری دینے کو کہا۔
19.6.21:
حکومت نے 24 اگست کو جموں وکشمیر کی تمام علاقائی سیاسی جماعتوں کا اجلاس بلایا ، اگست 2019 کے بعد یہ اس طرح کی پہلی میٹنگ ہے جب خطہ کو اپنی خصوصی حیثیت سے محروم کردیا گیا تھا۔
نئی سیاسی پہل کے بعد یونین ٹریٹری میں اسمبلی انتخابات منعقد کرنے کی امیدیں پیدا ہو گئی ۔ جموں و کشمیر 2018 سے مرکز کے زیر انتظام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے