
نئی دہلی(القمرآن لائن)24 جون کو وزیر اعظم نریندر مودی کی 7 لوک کلیان مارگ کی رہائش گاہ پر کل جماعتی اجلاس ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہا۔ اس میٹنگ میں مرکز کی جانب سے اصرار کیا گیا کہ حد بندی کے بعد ہی جموں و کشمیر میں انتخابات منعقد کئے جائیں گے، اس کے بعد ریاستی درجہ بحال ہوگا۔
سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے جمعہ کے روز جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے سے پہلے جموں کشمیر میں انتخابات پر اصرار کرنے پر مودی کی زیرقیادت حکومت پر طنز کیا۔القمرآن لائن کے مطابق چدمبرم نے ایک ٹویٹ میں لکھا: ‘کانگریس اور جموں کشمیر کی دیگر پارٹیاں اور رہنما پہلے ریاست اور اس کے بعد انتخابات چاہتے ہیں، حکومت کا جواب پہلے انتخابات اور اس کے بعد اسٹیٹ ہڈ ہے۔’
انہوں نے دوسرے ٹویٹ میں لکھا: ‘گھوڑا کارٹ (چھکڑا)کھینچتا ہے۔ ایک ریاست کو لازمی طور پر انتخابات کرانے ہوں گے۔ ریاستی الیکشن کمیشن کے تحت صرف ایسے انتخابات آزاد اور منصفانہ ہوں گے۔ حکومت سامنے کارٹ اور پیچھے گھوڑا کیوں چاہتی ہے؟ یہ عجیب بات ہے۔
القمرآن لائن کے مطابق جون 24 کو وزیر اعظم نریندر مودی کی 7 لوک کلیان مارگ کی رہائش گاہ پر کل جماعتی اجلاس ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہا۔ اس میں سینئر سیاستدان اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ سمیت 14 رہنماوں نے شرکت کی۔زیادہ تر رہنماوں نے وادی میں سیاسی عمل کی بحالی پر زور دیا۔
