بلوچستان کے شہر گوادر میں صحافیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جہاں انہیں ملٹری اور سول حکام کی جانب سے سی پیک کے زیرانتظام مختلف ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کرایا جا رہے ہے۔ اس دوران گوادر میں صحافیوں کی لڑائی پیش آئی جہاں اینکر پرسن ارشد شریف نے صحافی صدیق جان پر بدترین تشدد کیا۔
تفصیلات کے مطابق معروف اینکر پرسن ارشد شریف نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر نوجواں صحافی صدیق جان کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق معروف اینکر پرسن کے ساتھیوں نے صدیق جان کی ٹانگیں اور بازوں پکڑے لیے، ارشد شریف نے نوجوان پر گھونسوں کی برسات کر دی- اینکر پرسن ارشد شریف، عدیل راجہ اور ان کے ٹیم ممبرز کے صحافی صدیق جان پر تشدد کے دوران ان کا موبائل فون بھی توڑ ڈالا گیا۔
صدیق جان اور ارشد شریف کے درمیان کافی عرصے سے سوشل میڈیا پر چپقلش چل رہی تھی۔ گوادر میں صدیق جان اور ارشد شریف کا سامنا ہوا تو ارشد شریف، ان کے پروگرام پاور پلے کے پروڈیوسر عدیل راجہ اور ان کی ٹیم کے دو افراد نے صدیق جان پر حملہ کر دیا۔ ارشد شریف اور ان کے ساتھیوں نے صدیق جان کو نیچے گرا کر گھونسوں اور لاتوں سے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔
موقع پر موجود زرائع کے مطابق صدیق جان کو شدید چوٹیں آئی ہیں اور وہ زخمی ہیں۔ گوادر سے اردو پوائنٹ کے زرائع کے مطابق عدیل راجہ اور ان کے 2 اور ساتھیوں نے صدیق جان کے بازو اور ٹانگیں پکڑے رکھیں اور ارشد شریف خود صدیق جان کو مارتے اور غلیظ گالیاں دیتے رہے۔ ارشد شریف اور اس کے ساتھیوں نے صدیق جان پر تشدد کے ساتھ ان کا موبائل فون بھی توڑ دیا۔ جس کی وجہ سے صدیق جان کا مؤقف ابھی سامنے نہیں آ رہا۔
دوسری جانب معروف اینکر پرسن اسد اللہ خان نے اس واقعے کے حوالے سے بتایا کہ دونوں صحافیوں کی سوشل میڈیا پر پہلے ہی سے کافی تکرار ہو چکی ہے، جبکہ ارشد شریف نے موقع دیکھ کر صدیق جان پر حملہ کر دیا اور ان کا موبائل بھی توڑ دیا- انہوں نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیا- واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے گوادر دورے سے پہلے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد گوادر میں موجود ہے جہاں ان کو ملٹری اور سول حکام کی جانب سے سی پیک کے زیرانتظام مختلف ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کرایا جا رہے ہے۔
![]()
