امریکہ کے صدر جو بائڈن نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی مشن 31 اگست کو ختم ہو جائے گا۔
افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء سے متعلق منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب میں بائڈن نے کہا ہے کہ امریکہ نے افغانستان پر اس کی قومی تعمیر کے لئے قبضہ نہیں کیا تھا۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہم، 11 سمتبر کے حملوں کے ذمہ داروں اور اسامہ بن لادن کے لئے افغانستان میں داخل ہوئے تھے۔ افغانستان میں ہمارا کام 31 اگست کو مکمل ہو جائے گا۔ ملک میں زیادہ دیر ٹھہرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
بائڈن نے کہا ہے کہ ابھی آپ اور کتنے امریکی عورتوں اور مردوں کو خطرے میں ڈالنے کے لئے تیار ہیں۔ آپ وہاں اور کتنا عرصہ ٹھہرنا چاہتے تھے۔ اس وقت ہمارے پاس ایسے فوجی موجود ہیں کہ جن کے ماں باپ بیس سال قبل افغانستان میں جنگ لڑ چکے ہیں۔ یہ فوجی بھی اس وقت افغانستان میں ہیں۔ کیا آپ ان کے بچوں اور پھر ان کے بچوں کو بھی وہاں بھیجیں گے؟
بائڈن نے کہا ہے کہ 20 سال بعد افغانستان قومی سکیورٹی و دفاعی فورسز کی تربیت اور انہیں مسلح کرنے کے لئے خرچ کئے گئے ایک ٹریلین ڈالر، ہلاک ہونے والے 2 ہزار 448 امریکیوں، زخمی ہونے والے 20 ہزار 722 فوجیوں اور ذہنی بیماریوں کے ساتھ وطن واپس آنے والے ہزاروں فوجیوں کے بعد میں نئی نسل کو کسی مختلف نتیجے کی معقول توقع کے بغیر جنگ لڑنے کےلئے افغانستان نہیں بھیجوں گا۔
