English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ترکی نہ تو افغانستان کا ہمسایہ ہے اور نہ ہی مہاجرین کی کوئی نئی لہر قبول کرے گا

القمر

ترکی نے کہا ہے کہ ہمیں آسٹریا کے چانسلر سبسٹیان کرس کے اس بیان پر کہ ترکی افغان مہاجرین کے لئے "زیادہ بہتر جگہ ہے” نہایت حیرت ہے۔

موضوع سے متعلق سوال کے تحریری جواب میں ترکی وزارت خارجہ کے ترجمان تانجو بِلگچ نے کہا ہے کہ ” غیر قانونی نقل مکانی پوری دنیا کو متاثر کرنے والا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے مشترکہ کوشش اور باہمی تعاون کا مظاہرہ کرنے کی بجائے یہ کہنا کہ "مہاجرین یہاں نہ آئیں کسی اور جگہ جائیں” نہ صرف خودغرضانہ روّیہ ہے بلکہ اس کا کسی کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی علاقے میں کسی اجتماعی ہجرت کے نتائج  برداشت نہیں کرے گا اور نہ ہی مہاجرین کی کسی نئی لہر  کی ذمہ داری قبول کرے گا۔ ہم اس موقف کو ہر وسیلے اور ہر سطح پر اپنے مخاطبین تک پہنچا رہے ہیں۔ ہم اس پہلو پر خاص طور پر زور دے رہے ہیں کہ ترکی یورپی یونین کا سرحدی محافظ یا پھر مہاجر کیمپ نہیں بنے گا”۔

بِلگچ نے تحریری جواب میں کہا ہے کہ” آسٹریا کے چانسلر سبسٹیان کرس کا، ایک اخبار کے لئے انٹرویو میں، افغان مہاجرین کے لئے ترکی کو زیادہ بہتر جگہ قرار دینا ہمارے لئے باعث حیرت ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ ترکی چانسلر کے بیان کے برعکس افغانستان کا ہمسایہ ملک نہیں ہے”۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے