English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اولمپک سرفنگ کا مقابلہ برابر، گولڈ میڈل شیئر کرنے کا فیصلہ

القمر

اولمپک گیمز کے دوران سرفنگ کا فائنل مقابلہ اس وقت غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو گیا جب مقابلے میں حصہ لینے والے اٹلی اور قطر کے کھلاڑیوں کے درمیان مقابلہ ٹائی بریکر کے لئے دیے گئے تین موقعوں کے بعد بھی فیصلہ کن ثابت نہ ہو سکا۔ اس موقع پر دونوں کھلاڑیوں نے گولڈ میڈل کا واحد حقدار بننے کے لئے مزید کھیل کھیلنے سے انکار کرتے ہوئے گولڈ میڈل شیئر کا فیصلہ کیا۔

اس سال ہونے والے اولمپکس مقابلوں میں جہاں دماغی صحت موضوع بحث رہی وہیں ہمدردی کے غیر معمولی واقعات نے ان کھیلوں کو لازوال بنا دیا۔ دنیا بھر سے آنے والے بہترین اتھلیٹس ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور گرم جوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ دوسروں کے ساتھ خوشی مناتے، ایک دوسرے کو حوصلہ دیتے اور دوسروں کے مایوسی کے آنسو پونچھتے نظر آئے۔

اولمپکس میں سرفنگ کے مقابلے میں پہلی بار حصہ لینے والے جاپان کے کانوا ایگراشی اپنے برازیلین حریف اٹالو فریرا سے ہار کر بہت مایوس تھے۔ بچپن سے سرفنگ کرنے والے کانوا جہاں گولڈ میڈل ہاتھ سے جانے سے مایوس تھے وہیں انہیں آن لائن نسل پرست ٹرولز کا نشانہ بھی بننا پڑا۔

جاپانی نژاد امریکی سرفر اپنی ہار پر خاموش رہ سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنے حریف فریرا سے کئے جانے والے سوالات کا پرتگالی زبان میں ترجمہ کر کے جواب دینے میں ان کی مدد کی۔

ایسی ہی صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب اٹلی کے گیانمارکو تمبری اور قطر کے مطعم برشم کے درمیان مقابلہ کھیل ختم ہونے کے بعد بھی جیت کا تعین نہ ہو سکا۔

ہائی جمپ میں 2.37 میٹر چھلانگ لگا کر دونوں کے درمیان مقابلہ ٹائی ہو گیا۔ جیت کے فیصلے کے لئے دونوں کو 2.39 میٹر چھلانگ لگانے کا نیا ہدف دیا گیا، جو دونوں تین، تین کوششوں کے باوجود پار نہ کر سکے۔ فاتح کا تعین ہونے تک دونوں مقابلہ جاری رکھ سکتے تھے، لیکن انہوں نے سونے کا تمغہ شیئر کرنے کا فیصلہ کیا۔

قطر کے مطعم برشم کا کہنا تھا کہ "میں نے جو کارکردگی دکھائی اس کے لئے میں سونے کے تمغے کا اہل تھا۔ اس (گیانمارکو تمبری) نے بھی ایسی ہی کارکردگی دکھائی۔ لہذا، میں جانتا ہوں کہ وہ بھی سونے کے تمغے کا اہل ہے۔ لیکن یہ موقع کھیل سے بڑھ کر کچھ کر دکھانے کا ہے، وہ یہ کہ ہم اپنی اگلی نسل کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔”

تمغہ شیئر کرنے کے فیصلے کے بعد دونوں کھلاڑیوں نے ہاتھ ملایا اور تمبری نے اچھل کر مطعم کو گلے لگا لیا۔ تمبری کا کہنا تھا کہ "جیت کو ایک دوست کے ساتھ بانٹنے کی اپنی ہی خوبصورتی ہے۔ یہ ایک طلسماتی نوعیت کا سا احساس ہے۔”

اس ٹریک پر ایسا ہی ایک اور واقعہ اس وقت پیش آیا جب دوڑ کے دوران امریکہ کے ایشایا جویٹ اور بوٹسوانا کے نجیل اموس آپس میں ٹکرا کر گر پڑے۔ ایک دوسرے سے ناراضی کا اظہار کرنے کی بجائے دونوں نے ایک دوسرے کو اٹھنے میں مدد کی اور ہاتھ تھامے فنش لائن کو پار کیا۔

کرونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث تاخیر سے ہونے والی اولمپکس گیمز میں انسانی ہمدردی کے جذبات کو بڑی جگہ ملی ہے۔ وبا کے دوران دیگر انسانوں سے دور رہنے کے تجربے سے اکثر لوگوں میں مل جل کر رہنے کی خواہش کو بڑھاوا ملا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے