رپورٹ علیم عثمان
تین سال کے لیے نگران سیٹ اپ بنا نے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور شروع ہو گیا ھے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو سابق وزیراعظم نواز شریف کے مطالبے کی روشنی میں “سی پیک” اتھارٹی کے چیئرمین کے عہدہ سے ہٹا دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ھے ، جنہیں سفیر تعینات کیا جارہا ہے
ذرائع کے مطابق اپوزیشن پارٹیوں کی احتجاجی تحریک سے پیدا شدہ غیر یقینی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کیلئے یہ تجویز سنجیدگی سے فیصلہ کن کردار کی حامل قوتوں کے زیرِ غور ہے کہ آئین کے آرٹیکل 5 کی روشنی میں وحدتِ پاکستان اور ریاست کو محفوظ کرنے کی غرض سے عدالت میں آئینی ریفرنس دائر کیا جائے اور عدلیہ سے استدعا کی جائے کہ کوئی آئینی راہ نکالتے ہوئے ملک میں آئندہ تین سال کے لیے نگران سیٹ اپ بنا کر ملک میں آئندہ شفاف الیکشن کی راہ ہموار کی جائے ، تاکہ ملک کو فوری طور پر انتشار‘ خلفشار‘ سازشوں‘ ملکی اور بین الاقوامی ریشہ دوانیوں سے محفوظ کیا جاسکے اور پاک چین راہداری معاہدوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جاسکے .
ذرائع کے مطابق اس نوعیت کا ریفرنس سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر کرنے کی غرض سے آئینی و قانونی ماہرین سے مشاورت کی جارہی ہے جبکہ یہ مشق اس وقت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ھے جب متحدہ اپوزیشن قوتوں کا “پی ڈی ایم” کے پلیٹ فارم سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دھرنا جاری ہوگا . ذرائع کا کہنا ھے کہ اسٹیبلشمنٹ کی مبینہ سرپرستی میں ملک میں اس وقت جو متنازعہ پارلیمانی جمہوری سیٹ اپ قائم ھے ، اس کے خلاف پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک سے نمٹنے کی غرض سے موجودہ سیٹ اپ کی “جوابی حکمت عملی” پر مبنی اس اقدام کی کامیابی کی صورت میں مرکز میں فوری نگران حکومت تشکیل دینے کے لئے ھوم ورک شروع کر دیا گیا ہے .
ذرائع کے مطابق مجوزہ 3 سالہ نگران سیٹ اپ سیاست دانوں اور ٹیکنو کریٹس پر مشتمل ہوگا جس کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں جبکہ ایک روز قبل داخلہ کی اھم وفاقی وزارت پر وزیراعظم عمران کی سیاسی ٹیم کے ایک کھلاڑی شیخ رشید کا تقرر اس سلسلے کی پہلی کڑی ھے . ذرائع کا کہنا ہے کہ طاقت کے مراکز میں باور کیا جاتا ھے کہ مجوزہ طویل المدتی نگران سیٹ اپ میں بلوچستان اور سندھ سمیت تمام صوبوں اور مختلف سیاسی قوتوں کی نمائندگی موجود ہوگی ، جن میں نہ صرف ایم کیو ایم اور “قاف لیگ” جیسی پی ٹی آئی کی اتحادی بلکہ مولانا فضل الرحمن کی جماعت “جے یو آئی (ف) جیسی اپوزیشن جماعتیں بھی شامل ہوں گی .
سیاسی مبصرین کا خیال ھے کہ چونکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 2022 میں عہدہ سے فارع ہو رہے ہیں جبکہ دوسرا طاقتور جرنیل اگلے آرمی چیف (عہدہ) کا امیدوار بتایا جاتا ھے ، اس لئے ہوسکتا ھے اس ساری مجوزہ ایکسر سائز کا ایک مقصد عسکری قیادت کے حوالے سے پیدا ہونے والی امکانی صورتحال سے “حسب منشاء” اور بہترین انداز میں نمٹنا ھو .
دریں اثناء مقتدرہ نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو چیئرمین “سی پیک اتھارٹی” جیسے اھم عہدہ سے بھی فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ھے ، اور یہ قدم اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت اور اپوزیشن الائنس “پی ڈی ایم” کی روز بروز زور پکڑتی سیٹ اپ مخالف احتجاجی تحریک کی مؤثر ترین رکن “نون لیگ” کے قائد نواز شریف کی “خواہش” کا احترام کرتے ہوئے اٹھایا جارہا ھے جو آئے روز جنرل عاصم باجوہ کے خلاف انکوائری اور کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں . ذرائع کے مطابق جنرل عاصم سلیم باجوہ کو دوسرے عہدہ سے بھی ہٹا کر بیرون ملک بطور سفیر تعینات کر دیا جائے گ۔
