تحریر ایم آئی ملک
کشمیر خوبصورتی میں جنت نظیر ہے۔۔ بے نظیر خوبصورتی والی یہ وادی اور یہاں کے مکین نہ جانے کس
کی جرم کی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔
سر سبز و شاداب وادی آئے روز کسی نہ کسی باپ ، بیٹے کے خون سے سرخ ہوجاتی ہے۔
ان وادیوں چڑیا اور بلبل کی چہچہاہٹ کے بجائے صبح شام گولیوں کی تڑ تڑاہٹ سنائی دیتی ہے۔
کشمیر کے ساتھ آخر ہوا کیا ہے؟
بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کو تحریک آزادی کی صدا کو دبانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے قانون میں تبدیلی کی اور کشمیریوں پر ظلم و ستم کے نئے دور کا آغاز کیا، ویسے تو کشمیریوں پر ظلم و ستم برسوں پہلے شروع ہوا تھا اور کشمیر کی تقسیم اور بندر بانٹ اونے پونے داموں کرنے کا آغاز کیا گیا تھا مگر ان سب کے باوجود کشمیریوں کی صدائے حریت بھی برسوں سے ہی گونج رہی ہے۔
کشمیریوں نے جدوجہد آزادی کا آغاز 1931 میں کیا تھا جس کی حمایت علامہ اقبال نے بھی کھلے بندوں کی تھی 13 جولائی 1931 کو سری نگر کی سینٹرل جیل کے باہر مظاہرین پر پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 17 کشمیری شہید ہوئے اور یوں کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
تحریک پاکستان، مسلم لیگ کے بینر تلے چل رہی تھی تو اس موقع پر سری نگر میں کشمیریوں نے آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
اس حوالے سے آل انڈیا کشمیر کمیٹی بھی بنائی گئی جس کے زیر انتظام 14 اگست 1931 کو سیالکوٹ میں جلسہ ہوا، کہتے ہیں اس جلسے میں کم و بیش ایک لاکھ افراد نے شرکت کی تھی اور کشمیریوں کی حریت کی حمایت کا اعلان کیا تھا جبکہ 14 اگست 1931 کا دن یوم کشمیر کے طور پر بھی منایا گیا تھا۔
بھارت کی ماضی کی حکومتوں، چاہے کانگریس ہو یا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، نے اپنے آئین کے آرٹیکل 35 اے اور 370 کے تحت کشمیر کی متنازع حیثیت کو کبھی نہیں چھیڑا، یہ الگ بات ہے کہ مقبوضہ علاقے میں فوج، پولیس اور دیگر نوعیت کے ظلم و ستم بدستور جاری رہے لیکن کشمیریوں کی خصوصی حیثیت ختم نہیں کی گئی مگر 2019 میں نریندر مودی کی حکومت نے وزیر داخلہ امیت شاہ کی سرکردگی میں اس تار کو بھی چھیڑا دیا اور گزشتہ 5 اگست کو 80 لاکھ سے زائد آبادی کا حامل یہ خطہ متنازع طور پر تقسیم کرکے رکھ دیا گیا، جہاں تعلیمی ادارے مسلسل6 ماہ سے بند ہیں، غذائی اجناس کی صورت حال سے دنیا ناواقف ہے، ہسپتالوں میں ڈاکٹر نہیں بلکہ وہاں پر بھارتی فوج کا بسیرا ہے، کسی کو نہیں معلوم لیکن پاکستان سمیت پوری دنیا کو یہ معلوم ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اسلحے کے زور پر ظلم و جبر کا نیا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔
5 اگست سے آج تک کشمیر میں انسانی حقوق کا چراغ گل ہے اور روشنیوں کے اس خطے میں جبر کی گھنگور گھٹائیں تڑ تڑا رہی ہیں۔
5 اگست
بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کیا اور لاک ڈاؤن کے دوران موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی اور پارلیمنٹ سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرکے کشمیر کو تقسیم کرنے کا فارمولا پیش کیا اور قرار داد اکثریت کی بنیاد پر منظور کرلی گئی۔
بھارتی صدر نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے لیے آرڈیننس پر دستخط کیے تاہم اس کا نفاذ گزشتہ سال ہی اکتوبر میں کردیا گیا۔
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی حکومت نے جولائی کے آخر میں عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے دوران مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے دعوؤں کے بعد ماہ اگست شروع ہوتے ہی جبر کا بدترین سلسلہ شروع کیا اور مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کردی، ٹرمپ کے انکشاف کے بعد نریندر مودی کو بھارت کے میڈیا میں سخت تنقید کا سامنا تھا اور انہوں نے امریکی صدر کو ثالثی کی پیش کش سے متعلق خبر کو غلط قرار دیا تھا لیکن تنقید اس قدر بڑھ گئی تھی کہ انہیں اپنے دفاع میں مشکل پیش آرہی تھی لیکن اپنے انتخابی منشور پر عمل شروع کرتے ہوئے متنازع اقدامات کیے اور اپنے ملک میں جاری بحث کا رخ ہی بدل دیا لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاوہ بھارت میں بھی بڑے پیمانے پر آرٹیکل 370 کے خاتمے میں لاک ڈاؤن کی مخالفت کی گئی۔
بھارتی حکومت نے 5 اگست کے اقدام سے دو روز قبل دہشت گردی کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے تمام غیر ملکی اور ملکی سیاحوں کو جموں و کشمیر چھوڑنے کی ہدایت کی اور ساتھ ہی 10 ہزار اضافی فوج بھی وادی میں بھیج دی جبکہ مزید 25 ہزار نفری کو بھی طلب کیا گیا، بھارتی حکومت کے اس اعلان کے ساتھ ہی سیاحوں نے بھی مقبوضہ وادی سے واپسی شروع کی، دہشت گرد حملے کے خطرات کی وارننگ جاری کرنے پر وادی میں موجود ہزاروں سیاح اور طلبا میں خوف و ہراس پھیل گیا اور واپسی کے لیے قطاریں لگ گئیں، ہزاروں سیاحوں نے سری نگر ایئرپورٹ کا رخ کیا جن میں سے اکثریت کے پاس ٹکٹ بھی نہیں تھے۔
اس موقع پر بھارتی فوج نے کشمیریوں پر ریاستی تشدد بھی جاری رکھا اور 3 اگست کو ضلع بارامولا اور شوپیاں میں محاصرہ کرکے آپریشن کے دوران 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا، بھارتی فوجی نے ایک روز قبل ہی اسی علاقے میں نوجوان زینت الاسلام کو بھی قتل کیا تھا، یہ کارروائی اگست میں پھیلنے والے اندھیرے کی نوید بھی تھی جو طویل جبر کی رات کا پیش خیمہ بنی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے راجیا سبھا میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے لیے بل پیش کیا اور کہا کہ صدر نے بل پر دستخط کر دیے ہیں۔
آرٹیکل 370 کو ختم کرکے وہاں کانسٹی ٹیوشن (ایپلی کیشن ٹو جموں و کشمیر) آرڈر 2019 خصوصی آرٹیکل نافذ کردیا گیا، جس کے تحت اب بھارتی حکومت مقبوضہ وادی کو وفاق کے زیر انتظام کرنے سمیت وہاں پر بھارتی قوانین کا نفاذ بھی کرسکے گی۔
مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا، لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی، اپوزیشن کی جانب سے امیت شاہ کے خطاب کے دوران شدید احتجاج اور شور شرابہ کیا گیا۔
26 اکتوبر 1947 کو مہاراجا ہری سنگھ اور بھارت کی حکومت کے درمیان معاہدہ ہوا تھا جس میں یہ طے پایا تھا کہ کشمیر کو آئینی طور پر خصوصی حیثیت دی جائے گی، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے 17 اکتوبر 1949 کو آرٹیکل 370 نافذ کردیا گیا حالانکہ اس وقت بھارت کا وفاقی آئین ابھی تیاری کے مراحل میں تھا جو بعد ازاں 26 جنوری 1950 کو نافذ ہوا اور اسی کی مناسبت سے بھارت میں ہر سال 26 جنوری کو ری پبلک ڈے منایا جاتا ہے۔
بھارت کے آئین میں کشمیر کے حوالے سے دو بنیادی آرٹیکل شامل تھے جن میں آرٹیکل ون کہتا ہے کہ جموں وکشمیر بھارت کی ایک ریاست ہے اور دوسرا آرٹیکل 370 تھا جس کی حیثیت عارضی قرار دی گئی تھی لیکن وہ مقبوضہ ریاست کو خصوصی حیثیت دیتا تھا، بعد میں 14 مئی 1954 کو ایک صدارتی آرڈیننس نافذ کیا گیا جس کو دی کانسٹی ٹیوشن ایپلی کیشن ٹو جموں و کشمیر 35 اے کا نام دیا گیا اور بھارتی آئین میں شامل کردیا گیا، اس وقت بھارت کے صدر ڈاکٹر راجندر پرشاد تھے۔
آرٹیکل 35 اے کے تحت جموں و کشمیر کو بھارت کی دیگر ریاستوں کے شہریوں کو کشمیر میں مستقل شہریت سے محروم کردیا گیا اور اسی کے تحت واضح کیا گیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کا مستقل شہری کون ہے اور کون زمین خرید سکتا ہے۔
بھارت نے 17 نومبر 1956 کو جموں و کشمیر کا آئین نافذ کیا تھا اور آرٹیکل 35 اے کو اس کا حصہ بنایا گیا، جموں و کشمیر کا آئین بھی ریاست کو بھارت کا حصہ قرار دیتا ہے، بھارتی حکومت نے 1990 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ لاگو کیا تاہم نمائندہ جماعتوں کے بائیکاٹ کے باوجود ریاستی انتخابات ہوتے رہے اور بھارت نواز جماعتیں انتہائی کم ٹرن آؤٹ کے باوجود انتخابات جیتنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کرتی رہیں۔
