تحریر: عمید اظہر
دور حاضر میں گلوبل وارمننگ، قحط سالی اور کورونا وائرس نے دنیا کی فیصلہ ساز قوتوں کو باور کروا دیا ہے کہ انسانیت کی بقا کا دارومدار امن اور یکجہتی سے جڑا ہے۔ اگر انسانیت کو بچانا ہے کہ تمام مسائل کو حل کرکے ایک میز پر بیٹھنا ہوگا۔ سوچنا ہوگا کہ کس طرح نئے وائرس، بیماریوں، گلوبل وارمننگ، قدرتی آفات اور قحط سالی جیسے معاملات پر جامع حکمت عملی بنانا ہوگی۔
دنیا کی سپرپاور امریکا بین الاقوامی امن کے لیے دنیا کو لیڈ کر رہا ہے۔ افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا مکمل ہونے کے قریب ہے، مشرق وسطی میں بھی امریکا اپنے محاذ بند کر رہا ہے۔ کوشش کی جارہی ہے کہ عرب دنیا کے ایران کے ساتھ تعلقات بہتر ہوجائیں اور مشرق وسطی میں دیر پا امن قائم ہوسکے۔ اسی سلسلہ میں امید کی جارہی ہے ایران کے نومنتخب صدر کی تقریب حلف برداری میں سعودی شخصیات بھی شرکت کریں۔
ادھر دنیا کے مختلف مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کرچکے ہیں اور چند ممالک مستقبل قریب میں اسرائیل کو تسلیم کرسکتے ہیں۔ عالمی فیصلہ ساز قوتیں کوشش کررہی ہیں کہ مسلہ فلسطین کا دیرپا حل جلد ممکن ہو جو دونوں فریقوں کو قبول ہو۔
تاہم دنیا کے نقشے پر ایک ایسا خطہ ابھی بھی موجود ہے جس کے مسائل ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتے جارہے ہیں۔ بھارت میں مودی حکومت کی ہندتوا نواز پالیسی کے بعد ایل او سی کے پار مقبوضہ کشمیر ہے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔
آج سے دوسال قبل وہ سیاہ دن تھا جب بی جے پی حکومت نےمقبوضہ کشمیر کی بھارتی آئین میں موجود خصوصی حیثیت ختم کی تھی۔ مودی حکومت نے اس سازش کے تحت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر کو زور زبردستی بھارت میں شامل کرنا اور مقبوضہ کشمیر میں موجود مسلمانوں اور کشمیریوں کی آبادی کا تناسب کم کرنے کے لیے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں بسانا تھا۔
ان دو سالوں میں ایل او سی کے اُس پار کیا ہو رہا ہے اور اس پار حالات کیسے ہیں یہ دنیا کے سامنے روز روشن کی طرف عیاں ہیں۔ ایل او سی کے اس پار بھارت کی طرف آئے روز نوجوانوں کو قابض بھارتی افواج شہید کررہی ہیں۔ خواتین کی عصمت دری جاری ہے اور معصوم بچوں پر پیلٹ گن سے آگ برسا کر ان کی بینائی چھینی جارہی ہے۔
گزشتہ دوسالوں میں مقبوضہ کشمیر میں صورت حال اس قدر خراب ہوگئی ہے کہ بھارت نواز کٹھ پتلی سیاسی قیادت کو حریت قیادت کے ہمراہ نظر بند کیا جارہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں حالات اس قدر خراب کردیے گئے ہیں کہ وہاں نہ تو نام نہاد انتخابات ہوسکے ہیں اور نہ ہی سیاسی قیادت کو باہر نکلنے کی اجازت ہے۔ مودی حکومت دہلی سے مقبوضہ کشمیر کے فیصلے کر رہی ہے جس میں عوام کی مرضی شامل نہیں۔
وادی کے اُس پار مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ سروس دو سالوں سے بند ہے، بین الاقوامی کو مقبوضہ وادی میں جانے کی اجازت نہیں اور بیشتر علاقوں میں دو سال سے حالات کشیدہ ہیں اور کرفیو نافذ ہے۔
اب ایک نظر ایل او سی کے اس پار آزاد کشمیر کی جہاں عوام خوشی سے زندگی گزار رہے ہیں۔سیاحت فروغ پا رہی ہے۔ دنیا بھر کے سیاح آزاد کشمیر کے سرسبزو شاداب پہاڑ اور نیلے پانیوں کو دیکھنے کے لیے کشمیر کا رخ کر رہے ہیں۔ آزادکشمیر میں نہ تو انٹرنیٹ بند ہے اور نہ ہی کسی کو آنے سے روکا جارہا ہے۔ دفتر خارجہ متعدد بار بین الاقوامی صحافیوں کو آزاد کشمیر کا دورہ کروا چکا ہے اور ایل او سی پر بھارتی جارحیت کا مشاہدہ کروا کرچکا ہے۔
آزادکشمیر میں پرامن انداز میں عام انتخابات بھی حال میں ہوئے جس میں عوام نے بھرپور انداز میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور اپنے نمائندوں کا انتخاب کیا۔ آزادکشمیر میں ایک اور بڑا ایونٹ جس پر پوری دنیا کی نظریں ہیں وہ کشمیر پریمئر لیگ ہے کہ جس کا انعقاد اسی ماہ ہو رہا ہے۔ اس کرکٹ لیگ سے آزادکشمیر سے کرکٹ کا ٹیلٹ نکھر کر سامنے آئے گا۔
حکومت پاکستان ماضی کی طرح گزشتہ دو سال سے مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ بھرپور انداز سے لڑ رہی ہے۔ ہر بین الاقوامی فورم پر مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کو اجاگر کیا جارہا ہے اور عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑا جارہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادون کے مطابق کشمیریوں کوان کا حق خود ارادیت دیا جائے۔
عالمی فیصلہ ساز قوتوں اور بڑے ممالک کو دیکھنا ہوگا کہ کہیں مودی کی ہندتوا کا سرخ رنگ دنیا کے اس گنجان آباد خطے کو ایٹمی جنگ میں نہ دھکیل دے۔ کیوں کہ اگر پاکستان اور بھارت سمیت پوری دنیا اس ایٹمی جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔
دنیا کو ایل او سی کے اُس پار حالات ٹھیک کروانے ہوں گے، کشمیریوں کے مرضی کے مطابق مسلہ کشمیر کو حل کرنا ہوگا۔
