اسلام آباد میں پچھلے کچھ وقت سے بڑی بڑی انٹرنیشنل فوڈ اور کافی شاپس کی چینز کھل رہی ہیں۔ جس
کی وجہ سے دارلحکومت کا ماحول ہی تبدیل ہو گیا ہے۔

لوگوں کو کھلی فضا اور بہتر ماحول میں دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ بیٹھنے کا اچھا ماحول میسر آرہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بیرون شہر سے آنے والے بھی سپر یا کوہسار کا رخ کرتے ہیں۔
پانچ اگست کی شام سپر مارکیٹ کی سیکنڈ کپ کافی کمپنی میں کراچی سے سیر پر آیا ہوا ایک جوڑا گیا۔
صادق رضوی نے خبر والے کو بتایا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ اوپر کھلی فضا میں موسم اور کافی سے
لطف اندوز ہو رہے تھے۔

کافی پیتے ہوئے ان کی اہلیہ کی زبان پر کوئی شے آئی جب انہوں نے انگلی سے باہر نکالی تو وہ کیڑا نکلا۔
اس کے ساتھ ہی انہیں الٹیاں شروع ہو گئیں۔ کچھ دیر بعد حالت سنبھلی تو انہوں نے سروس پر موجود
عملے سے کہا یہ ہے؟
عملے نے جواب دیا کہ ہوا تیز چل رہی ہے اور بارش بھی ہے تو یہ کیڑا کپ میں گر گیا ہوگا۔ حالانکہ کافی
کپ اوپر سے بند تھا۔

صادق رضوی کا کہنا ہے کہ کافی شاپ کا عملہ معزرت کے بجائے مسلسل یہی کہتا رہا کہ تیز ہوا کی وجہ
سے کیڑا کپ میں گرا ہو گا۔ اس وقت وہاں دیگر لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ کئی بار منیجر یا مالک کا
نمبر مانگا لیکن نہیں دے اور گھنٹے تک گھماتے رہے۔
زیادہ تکرار پر کافی کا بل نہ لینے کی پیش کش کر دی اور کہا بس چھوڑیں آپ بل ادا نہ کریں کوئی بات نہیں۔
اس رویے نے مجھے بہت پریشان کیا کہ اسلام آباد جیسے بین الاقوامی شہر میں ایسا ہورہا ہے۔ بہتر ماحول
اور مہنگی قیمت پر کس طرح کیڑے لوگوں کو کافی کے ساتھ پلائے جارہے ہیں۔
صادق رضوی نے اسلام آباد کی انتظامیہ باالخصوص ڈی سی حمزہ شفقات سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکنڈ
کپ کافی کمپنی کے خلاف کارروائی کریں۔ اس عمل پر کمپنی کے مالک کا معزرت کرتے ہوئے متعلقہ
عملے کے خلاف ایکشن لینا ہوگا۔
No related posts.
