اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے مستقل آزاد کمیشن برائے انسانی حقوق کے وفد نے مقبوضہ کشمیر پر
پانچ اگست کو بھارتی حکومت کی جانب سے شب خون مارے جانے کو دو سال ہونے پر پاکستان کا اہم دورہ
کیا ہے۔ وفد اب اسلام آباد سے دو روزہ دورہ پر مظفر آباد چلا گیا ہے۔

کمیشن کے 13 ممبران یومِ استحصالِ کشمیر پر پاکستان اور آزاد کشمیر کے خصوصی دورہ پر ہے۔ یہ دورہ
پاکستان کی کامیاب سفارت کاری اور عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے زندہ ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
او آئی سی کے وفد کی یوم استحصال کشمیر پر پاکستان آمد
وفد میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، ترکی ، تیونس ، مراکش ، آذربیجان ، ملائشیا ، گیبن ، نائیجیریا
اور یوگنڈا کے ارکان شامل ہیں۔ وفد صدر آزاد کشمیر ، آل پارٹیز حریت کانفرنس کے ارکان، کشمیری مہاجریں
اور اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے عہدیداران سے ملاقاتیں کرے گا۔
روانگی سے قبل آذربائجان کے ڈاکٹر ایدین صفی خانلی نے روانگی سے قبل کہا کہ ہم کشمیری بھائیوں اور
بہنوں کو یہ بتانے جا رہے ہیں کہ وہ اکیلے نہیں، بلکہ تمام اسلامی ممالک ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے اس افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انہیں دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اگلے
دن وفد لائن آف کنٹرول کا بھی دورہ کرے گا۔ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں فرق صاف ظاہر ہے۔ دو سال
سے او آئی سی نے اپنے انسانی حقوق کے کمیشن کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے اور زمینی حقائق جاننے کا
کام سونپ رکھا ہے لیکن بھارت مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم کو دورہ
کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ حتی کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کے بعد اپنے سیاست دانوں کو بھی مقبوضہ
وادی کا دورہ کر نے سے روک دیا تھا۔

اس کے برعکس پاکستان کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں۔ اس سے پہلے بھی متعدد بار غیر ملکی صحافی
اور سفارتکار آزاد کشمیر کے دورے کرچکے ہیں۔ دنیا کو بھارت کے دوغلے پن اور منافقت کا پتہ چل چکا
ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں دنیا سے چھپانے سے قاصر ہے۔
بھارت دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں ناکام ہو چکا ہے عالمی میڈیا میں مقبوضہ کشمیر کی
متواتر کوریج اس بات کا ثبوت ہے۔
