English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کورونا ویکسین زندگی کی ضمانت نہیں، آفتاب عثمان بھی نہ بچ سکے

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین بھی ڈیلٹا وائرس ویرئینٹ سے بچانے میں ناکام دیکھائی دے رہی
ہے۔ پچھلے چند ماہ کے دوران باالخصوص چند ہفتوں میں ویکسنیشن کروانے والے بھی موت کی آغوش
میں جارہے ہیں۔

پاکستان میں ٹیلی ویژن چینلز انڈسٹری کھڑی کروانے میں‌ مدد دینے والے آفتاب عثمان بھی 6 اگست کو
کراچی کے اسپتال میں زندگی کی بازی ہار گئے۔ ان کی اہلیہ بھی کورونا کا شکار ہیں۔

انہوں نے کورونا ویکسین کی دونوں ڈوز لگائی ہوئی تھیں لیکن پھر کئی روز اسپتال کے انتہائی
نگہداشت کے وارڈ میں رہنے کے بعد خالق حقیقی سے جاملے۔

آفتاب عثمان پاکستان کے بیشتر ٹی وی چینلز جیو سے لے کر ہم نیٹ ورک کنسلٹینسی فراہم کی اور
کورونا کا شکار ہونے سے پہلے تک اسلام آباد میں رئیل اسٹیٹ کے ایک بڑے گروپ کے ساتھ ٹی وی
کی لانچنگ میں مصروف تھے۔ بدقسمتی سے زندگی نے ان کے ساتھ وفا نہ کی۔

آفتاب عثمان ہی نہیں متعدد آس قریب کے متعدد لوگ ایسے ہیں جو عالمی ادارہ صحت سے منظور شدہ
ویکسین لگوانے کے باوجود کورونا کا شکار ہو رہے ہیں۔ متعدد افراد دو سے تین بار کورونا کی وجہ سے
قرنطینہ کرچکے ہیں۔

پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی تازہ ترین تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ویکسنیشن والے افراد بھی ڈیلٹا وائرس
ویرئینٹ پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔ برطانیہ کی 75 فیصد آباد کورونا کی دو ڈوز لگوا چکی ہے لیکن
پھر بھی کورونا کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔

اسپتال داخل ہونے والے افراد میں ویکسنیٹیڈ تعداد بھی زیادہ ہے۔ پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے خبردار کیا ہے کہ
کورونا ویکسین خطرات ضرور کم کر دیتی ہے لیکن انسان کو مکمل طور پر اس وائرس سے محفوظ رکھنے
میں اب تک ناکام رہی ہے۔

موجودہ صورت حال اور ویکسنیشن والے افراد کی اموات کو دیکھتے ہوئے لوگوں کو چاہیے کہ وہ معمولات
زندگی میں احتیاط برتیں۔ سماجی سرگرمیوں میں فاصلہ برقرار رکھ کر ہی اسپتال تک کے سفر سے محفوظ
رہا جاسکتا ہے۔

No related posts.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے