English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

طالبان نے افغانستان کے 15 صوبوں کے دارالحکومتوں پر قبضہ کرلیا

القمر

بارہ اگست جمعرات کے روز طالبان نے بڑے ڈرامائی انداز میں افغانستان کے یکے بعد دیگرے کئی شہروں پر قبضہ کر لیا اور اس طرح اب وہ ملک کے 34 میں سے 12 دارالحکومتوں پر قابض ہو چکے ہیں۔ اس میں سب سے اہم قندھار ہے جو ملک کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔

طالبان نے افغانستان کے دو بڑے شہروں قندھار اور ہرات پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ دونوں شہر کابل کے بعد افغانستان کے دوسرے اور تیسرے بڑے شہر ہیں۔ خدشہ ہے کہ اس قبضے سے ایک ایسے وقت میں افغان حکومت کا دائرہ مزید محدود ہو جائے گا جب امریکی افواج کے انخلا کے مکمل ہونے کی تاریخ قریب آرہی ہے۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق جمعرات کی شب قندھار اور ہرات پر قبضے سے طالبان افغانستان کے 34 میں سے 12 صوبائی دارالحکومتوں پر قابض ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے جمعے کو رپورٹ کیا ہے کہ افغان حکام نے قندھار شہر پر طالبان کے قبضے کی تصدیق کی ہے۔

اگرچہ اب تک افغان دارالحکومت کابل خطرے کی زد میں نہیں آیا تاہم دیگر مقامات پر باغیوں سے لڑائی میں نقصانات اور افغانستان کے لگ بھگ دو تہائی علاقے پر قبضے طالبان کو مضبوط بنا رہے ہیں۔

افغانستان کی حکومتی سیکیورٹی فورسز ایک ہفتے سے عسکریت پسندوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے سخت مشکلات سے دوچار ہے۔

امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ ہم ایک مرتبہ پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر شہروں پر حملوں کا سلسلہ ترک کرتے ہوئے سیاسی مصالحت کے راستے کا انتخاب کیا جائے۔

انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں خبردار کیا کہ بزور طاقت مسلط ہونے والی حکومت کو کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔

سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال میں امریکہ نے کابل کے امریکی سفارت خانے کے عملے کو بحفاظت نکالنے کے لیے تین ہزار مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان سے برطانوی شہریوں کے انخلا کے لیے 600 برطانوی فوجی مختصر عرصے کے لیے افغانستان روانہ کرے گا۔

افغان قانون ساز سیمیں بارکزئی نے ہرات شہر پر طالبان کے قبضے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ بعض سرکاری عہدیدار شہر سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

ہرات گزشتہ دو ہفتوں سے طالبان کے حملوں کی زد میں تھا۔ ایک مقامی جنگجو سردار اسماعیل خان اور ان کی فورسز نے طالبان کے خلاف مزاحمت بھی کی تاہم جمعرات کی سہ پہر طالبان شہر کا دفاع توڑنے میں کامیاب ہو گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے