امریکی صدر جو بائیڈن نے طالبان جنگجوؤں کو تنبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سفارتی عملے کو نقصان پہنچنے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا جبکہ مستقبل میں بھی طالبان سے نمٹنے کے لئے نگرانی جاری رکھی جائے گی۔
بتایا گیا ہے کہ جنرل میکنزی افغانستان میں امریکی مشن کے سربراہ مقرر ہوئے ہیں جنہیں بائیڈن نے 36 گھنٹے میں اپنے سفارتی عملے کو افغانستان سےنکالنےکامشن سونپا ہے۔
امریکی صدرنے مزید پانچ ہزار نفری افغانستان بھیجنے کی اجازت دی ہے جہاں سے دو دہائیوں میں امریکی فوج کی مدد کرنیوالے کو بھی محفوظ طریقے سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
صدر جوبائیڈن نے کہا کہ امریکی فوج اور خفیہ اداروں کومستقبل کےخطرات سےنمٹنے کیلئے حکمت عملی مرتب کرنے کا کہا ہے۔
واضح رہے کہ طالبان افغانستان کے اہم شہروں پر قبضے کے بعد دارالحکومت کابل کا گھیراو کر رہے ہیں، عالمی برادری افغانستان کی مسلسل بگڑتی صورتحال پر تشویش کا شکار ہے۔
قطر کے وزیر خارجہ نے طالبان کے سربراہ ملا عبد الغنی برادر سے اہم ملاقات کی اور ان سے تشدد ختم کر کے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے
۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ طالبان اپنے زیر قبضہ علاقوں میں آباد شہریوں پر سخت پابندیاں نافذ کر رہے ہیں اور افغان خواتین کے حقوق محدود کر دیئے ہیں۔
