
کابل(آن لائن+صباح نیوز) افغان طالبان نے کہا ہے کہ حکومت سازی میں تمام افغانوں کو موقع دیں گے جو عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سمیت تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں ہیں۔طالبان کی جانب سے کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد منگل کو طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پہلی بار منظرعام پر آکر پریس کانفرنس کی ۔انہوں نے ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ اور خواتین کو تمام شرعی حقوق دینے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ اب افغانستان آزاد ہے ،غیر ملکی سفارتکاروں کو سیکورٹی کی مکمل ضمانت دیتے ہیں، آزادی ہمارا حق تھا جسے ہم نے حاصل کرلیا، ہم میں 20 سال پہلے کے مقابلے میں بہت تبدیلی آئی ہے،سربراہ کے حکم پر سب کو معاف کر دیا ،امارات اسلامی کسی سے انتقام نہیں لے گی، افغانستان کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا ، دشمنیاں ختم ہو گئی ہیں ہم کوئی داخلی و بیرونی دشمن نہیں چاہتے،ہم نہیں چاہتے کوئی بھی ملک چھوڑے، افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، افغانستان منشیات سے پاک ملک بنے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میڈیا کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم ہمارے ثقافتی ڈھانچے میں رہتے ہوئے میڈیا کی آزادی کے لیے پرعزم ہیں۔‘ ’پرائیوٹ میڈیا آزاد اور غیر جانبدار انداز میں کام جاری رکھ سکتا ہے، ہمارے ملک میں اسلام بہت اہم ہے، اس لیے میڈیا کو اپنے پروگرام بناتے ہوئے اسلامی اصولوں کو مدِنظر رکھنا ہوگا،میڈیا کی غیر جانبداری بہت اہم ہے، وہ ہمارے کام پر تنقید کر سکتے ہیں تاکہ ہم بہتر ہوسکیں مگر انہیں ہمارے خلاف کام نہیں کرنا چاہیے۔ ‘ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ کسی کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا،ہم عالمی برادری کے ساتھ کسی قسم کے مسائل نہیں چاہتے،ہمارے پاس اپنے مذہبی اصولوں کے تحت عمل کرنے کا حق ہے، دیگر ممالک کی دیگر حکمت عملی ہو سکتی ہے، افغان لوگوں کے اپنی روایات کے مطابق قواعد و ضوابط ہیں،ہم شرعی نظام کے تحت خواتین کے حقوق کا عہد کرتے ہیں، وہ ہمارے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کریں گی،ہم عالمی برادری کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ کوئی تفریق نہیں ہوگی۔انہوںنے کہا کہ ہم یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ افغانستان اب مزید عرصہ میدانِ جنگ نہ رہے، ہمارے خلاف لڑنے والے تمام لوگوں کو معاف کر دیا ہے، دشمنیاں ختم ہو گئی ہیں، ہم کوئی داخلی و بیرونی دشمن نہیں چاہتے۔طالبان ترجمان کے مطابق ’ملک بھر میں مکمل سیکورٹی ہے، کوئی کسی کو اغوا نہیں کرے گا، ہم ہر دن کے ساتھ سیکورٹی بڑھا رہے ہیں،ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بھی ملک چھوڑے،عام معافی دے دی گئی ہے، کسی سے دشمنی مزید نہیں پالی جائے گی۔‘القاعدہ سے متعلق سوال کے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہمسائیوں اور خطے سمیت دیگر عالمی برادری کو یقین دلاتا ہوں کہ ہماری سرزمین ان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، حکومت بنائی جارہی ہے اور اگلے چند دن میں ہر چیز کا اعلان کر دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ 2001ء میں ہم نے منشیات کی پیداوار بند کر دی تھی، بعد میں حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیدار تک اس میں ملوث ہوگئے مگر اب سے کوئی منشیات کی اسمگلنگ نہیں ہوگی،افغانستان منشیات سے پاک ملک بنے گا،کابل میں جگہ جگہ منشیات کے عادی نوجوانوں کو دیکھ کر دکھ ہوا، عالمی برادری منشیات کے خاتمے میں ہماری مدد کرے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ کام کرنے والے مترجمین اور ٹھیکیداروں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کہا کہ کسی سے انتقام نہیں لیا جائے گا، افغانستان میں کشیدگی میں کمی ہوئی ہے، وہ نوجوان جو یہاں بڑے ہوئے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ وہ چھوڑ کر جائیں۔ نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں،کوئی بھی اْن کے دروازے کھٹکھٹا کر یہ نہیں پوچھے گا کہ وہ کس کے لیے کام کرتے رہے ہیں،وہ محفوظ رہیں گے، کسی سے تفتیش نہیں کی جائے گی نہ پیچھا کیا جائے گا۔ ترجمان کے بقول تمام سفارتخانوں اور اداروں کو مکمل یقین دہانی کرواتا ہوں کہ آپ کے عہدیداروں کو مکمل سیکورٹی فراہم کی جائے گی اور کسی کو امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ذبیح اللہ کا کہنا تھا کہ انتقال اقتدار کا عمل مکمل ہوگیا ہے، بدقسمتی سے گزشتہ حکومت نے امارات اسلامی کو بدنام کرنے کے لیے مختلف جگہوں پر ہمارے نام پر ڈکیتوں اور چوروں کو بھیجا جس کی وجہ سے طالبان کے جنگجووں کو کابل میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہہم نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور ہمارا حق ہے کہ ہم اپنے مذہب اور اپنی روایات پر عمل کریں گے،عالمی اصولوں کے مطابق تعلقات استوار کریں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سازی کے لیے سنجیدہ ہیں اور مشاورت کی تکمیل کے بعد اس عمل کو مکمل کرلیا جائے گا۔صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مضبوط اسلامی حکومت ہوگی جس سے لوگوں کو مسائل نہیں ہوں گے، بہت جلد حکومتی ادارے فعال ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی مختلف محکموں اور شعبوں میں ضرورت ہوگی، تعلیم، صحت، عدالت اور دیگر شعبوں میں خواتین کا کردار ہوگا ،مستقبل کی حکومت کے قوانین ترتیب دیے جارہے ہیں اور اس کے مطابق خواتین سمیت سب کو کام کرنے کے لیے ایک فریم ورک بنایا جا رہا ہے۔پڑوسیوں اور دیگر ممالک سے تعلقات کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھاکہ افغانستان کے چین ،پاکستان ،روس سب کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں، اب ہمیں اپنی معیشت کو بحال کرنا ہے تاکہ استحکام ہو اور موجودہ بحران سے باہر نکل سکیں، جس کے لیے ہمسائیوں اور دیگر ممالک سے اچھے تعلقات کو یقینی بنائیں گے لیکن ہماری ترجیح افغانستان ہے ہم کسی بلاک کا حصہ نہیں ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم عالمی سفارتی اصولوں کے مطابق ہمسایہ ممالک کے ساتھ دو طرفہ احترام کا تعلق رکھیں گے، دنیا کو تعلقات استوارکرنے کی پیشکش کرتے ہیں۔علاوہ ازیں طالبان کی جانب سے عام معافی کے اعلان کے ساتھ ہی کابل میں معمولات بحال ہونے لگے،متعدد سرکاری ملازمین اور ڈاکٹرز کام پر واپس آگئے ہیں،افغان ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے ذمے داریاں سنبھال لی ہیں، سڑکوں پر رش آہستہ آہستہ بڑھنے لگا ہے، مزید دکانیں بھی کھل گئیں۔طالبان نے سرکاری ملازمین سے کہا کہ کابل میں حالات معمول پر آرہے ہیں، کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں، تمام ملازمین معمول کی زندگی کا اعتماد کے ساتھ آغاز کریں اور کام پر واپس آ جائیں، انہیں ان کی تنخواہیں دی جائیں گی اور کچھ نہیں کہا جائے گا۔طالبان کی طرف سے سرکاری ملازمین کے نام پیغام میں کہا گیا کہ اپنے اداروں میں نئے سرے سے کام پر آئیں تاہم اپنے خیالات کو 20سال پہلے کے حالات کے مطابق بحال کریں، رشوت، غبن، تکبر، بدعنوانی، سستی کاہلی اور بے حسی سے بچیں، جو پچھلے 20 سال سے کسی وائرس کی طرح سرکاری اداروں میں پھیلی ہوئی ہے۔ امریکی سفارت خانے اور مختلف وزارتوں سمیت تمام اہم سرکاری عمارتوں کی حفاظت بھی طالبان کر رہے ہیں۔ افغان میڈیا کے مطابق کابل میں محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔عالمی میڈیا اور مقامی صحافیوں کی طرف سے کابل کی صورتحال کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ جاری ہے۔ افغان نیوز چینل طلوع کے ہیڈ آف نیوز مراقہ پوپل کے مطابق خاتون اینکر نے طالبان میڈیا ٹیم کے رکن کا انٹرویو کیا۔طالبان کابل کے تھیم پارک میں ڈوجنگ کار سے لطف اندوز ہونے لگے۔
