English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اکثرامریکی افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ کی طوالت کے مخالف: سروے رپورٹ

امریکہ میں صدر بائیڈن کے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے امور سے نمٹنے کے بارے میں اگرچہ بڑے پیمانے پر لوگوں میں اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم لوگوں کی ایک بڑی اکثریت اب بھی اس بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہے کہ آیا افغانستان میں جنگ سود مند تھی۔

اس کا اندازہ ایسوسی ایٹڈ پریس اور این او آر سی، سینٹر فار پبلک افئیرز ریسرچ کے رائے عامہ کے ایک جائزے سے ہوا ہے۔

جائزے میں بتایا گیا ہے کہ اندازاً دو تہائی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ کی طویل ترین جنگ اتنی سود مند تھی کہ اتنی دیر تک لڑی جاتی۔

اس سروے میں 47% امریکیوں نے داخلی امور جب کہ52% نے بین الاقوامی امور سے نمٹنے میں بائیڈن کی اہلیت کو سراہا۔

رائے عامہ کا یہ جائزہ اس سال 12 سے 16اگست کے دوران لیا گیا۔ جب افغانستان کی 20 سالہ جنگ ختم ہوئی اور طالبان اقتدار پر دوبارہ قابض ہو گئے۔ اس میں 1729 لوگوں کی رائے لی گئی اور غلطی کی شرح 3.2% بیان کی گئی ہے۔



کابل سے امریکی شہریوں کو نکالنے کے آپریشن کے مناظر

طالبان کی پیش قدمی کی رفتار سے لاعلم رہنے اور افغانستان میں پیدا ہونے والے انسانی زندگی کے بحران سے نمٹنے کے لئے صدر بائیڈن کی تیاری نہ ہونے کے باعث انہیں واشنگٹن میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔

صدر بائیڈن افغانستان سے انخلاء کے اپنے فیصلے پر سختی سے قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ جنگ غیر معینہ عرصے تک جاری رہنے نہیں دینا چاہتے تھے اور یہ کہ امریکی لوگوں کو ان کی اس بات سے اتفاق کرنا چاہئیے۔

مارک سول ان لوگوں میں سے ہیں جو صدر سے اتفاق کرتے ہیں۔ کنساس کے شہر ٹوپیکا کے 62سالہ ڈیموکریٹ کہتے ہیں کہ یہ اس قابل نہیں تھی کہ مزید امریکی جانیں اس گڑبڑ کی نذر کی جاتیں۔ 20 سال بعد آپ کو الگ ہونا ہی تھا۔

بعض لوگ جنگ کے مخالف ہونے کے باوجود، افغانستان سے آنے والے انتہائی افسوس ناک مناظردیکھنے کے بعد اس سے اختلاف کرتے نظر آئے۔

'مجھے کابل ایئرپورٹ کے باہر مسلسل فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں'





please wait



No media source currently available

ایک منظر وہ بھی تھا جب لوگ افغانستان سے نکلنے کے لئے امریکہ کے فوجی طیارے کے ساتھ ساتھ بھاگ رہے تھے اور کچھ اس سے چمٹ گئے تھے۔

رائے عامہ کے اس جائزے میں دو تہائی لوگوں کا خیال ہے کہ حتیٰ کہ عراق کی جنگ بھی ایک غلطی تھی۔ تاہم یہ کہنے والوں میں کہ دونوں ملکوں میں جنگ سود مند تھی، ڈیموکریٹس کے مقابلے میں ریپبلکنز کی تعداد زیادہ رہی۔

پیبلو، کولوراڈو کی 62 سالہ ڈیبورا فلکرسن کا خیال ہے کہ دانش مندی ہوتی اگر امریکہ افغانستان میں موجود رہتا اور حالات کو زیادہ غیر جانبدار اور محفوظ رکھتا، نہ صرف اپنے لوگوں کے لئے بلکہ وہاں کے لوگوں کے لئے بھی۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ قدامت پسند ہیں اور ان کی نظرافغانستان سے زیادہ اپنے معاشرتی مسائل اور ضروریاتِ زندگی پر رہتی ہے۔ اور جن چیزوں پر ان کا بس نہیں ہے وہ ایک مسیحی کی حیثیت سے ان کے لئے صرف دعا کر سکتی ہیں۔

کابل ایئرپورٹ کا ایک منظر، 17 اگست 2021

کابل ایئرپورٹ کا ایک منظر، 17 اگست 2021

سروے میں شامل لوگوں کی نصف تعداد کا کہنا تھا کہ انہیں بیرونِ ملک سے امریکہ پر کسی انتہا پسند گروپ کے دہشت گرد حملے کے خطرے سے متعلق سخت تشویش ہے۔ ایک تہائی نے قدرے کم تشویش کا اظہار کیا جب کہ دس میں سے صرف ایک نے کہا کہ انہیں کوئی تشویش نہیں ہے۔

امریکہ پر 11 ستمبر کے دہشت گرد حملوں کے تقریباً 20سال بعد امریکیوں کی زیادہ تعداد یہ کہنے لگی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اب قومی سلامتی کو خطرات اندرونِ ملک سے زیادہ ہیں۔

ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز یکساں طور پر سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو بیرونِ ملک قائم انتہا پسند گروپوں سے خطرہ زیادہ ہے جب کہ ریپبلکنز کی نسبت ڈیموکریٹس کی زیادہ تعداد نے اندرونِ ملک دہشت گردی کو بڑا خطرہ قراردیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے