ویب ڈیسک —
طالبان کے خوف سے ملک چھوڑنے والے ایسے افغان شہریوں کا، جو امریکی افواج کی مدد کر چکے ہیں، پہلا گروہ امریکہ پہنچ گیا ہے۔ واشنگٹن کے قریب ڈیلس ایئرپورٹ پر اترنے والے ان افغان مہاجرین کو امریکی ریاست ورجینیا کے ہوٹلوں میں عارضی رہائش مہیا کی گئی ہے۔
ایک امریکی ٹی وی چینل 7 نیوز نے بدھ کے روز شمالی ورجینیا کے ہوٹلوں میں قیام پذیر کئی پناہ گزینوں سے بات کی۔ ان سب نے تقریباً ایک جیسے خدشات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک چھوڑنے تک انہیں یہ خوف تھا کہ اگر وہ افغانستان میں رہے تو طالبان انہیں مار ڈالیں گے، اور اب انہیں خدشہ ہے کہ طالبان پیچھے رہ جانے والے ان کے خاندانوں کو ہلاک کر دیں گے۔
کچھ لوگوں نے اسی خدشے کے پیش نظر اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی درخواست کی۔
کابل سے ڈیڑھ سو میل دور ایک گاؤں کے رہائشی نے امریکہ پہنچنے پر بتایا کہ میں اس لیے یہاں آیا ہوں کہ اگر وہاں رہ جاتا تو طالبان قتل کر دیتے۔
اس کا کہنا تھا کہ اس نے افغان فوج میں خدمات انجام دی تھیں اور طالبان کو نشانہ بنایا تھا اس لیے اب اسے ملک چھوڑنا پڑا۔ اس نے طالبان پر الزام عائد کیا کہ وہ پرامن حکمرانی کا اپنا وعدہ توڑ رہے ہیں۔
کئی لوگوں نے بتایا کہ واشنگٹن میٹرو ایریا کے علاقے میں ان کا قیام عارضی ہے۔ بعد میں انہیں امریکی ریاست ٹیکساس اور کیلیفورنیا وغیرہ منتقل کر دیا جائے گا۔
واشنگٹن میٹرو ایریا میں افغان مہاجرین کو عارضی رہائش اور بنیادی ضرورت کی چیزیں فراہم کرنے کے لئے چند غیر سرکاری تنظیمیں بھی بے حد متحرک نظر آ رہی ہیں۔

ادھر خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی افواج کے اہل کار ان افغان فوج کے اہل کاروں کی مدد کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جن کے ساتھ انہوں نے مشترکہ طور پر افغانستان میں خدمات سرانجام دی ہیں۔
افغانستان میں ایک اہم پولیس افسر محمد خالد وردک کا ملک چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن حکومت کے انہدام کے بعد سے وہ روپوشی کی حالت میں ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ امریکہ کے لئے ان کی خدمات کے صلے میں ملک سے نکلنے میں ان کی اور ان کے خاندان کی مدد کی جائے۔
لیکن امریکی پالیسی اس وقت صرف امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے مترجموں کو نکالنے تک محدود ہے۔ امریکہ کی جانب سے سپیشل امیگرنٹ ویزا کے لیے افغان فوج اور پولیس کے افسران درخواست دینے کے اہل نہیں۔ خالد کو افغانستان سے نکالنے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کو فوری طور پر ملک سے نکالا جانا چاہئے۔
اس سلسلے میں امریکی فوج میں ان کے دوستوں کا کہنا ہے کہ خالد ان کے بھائی ہیں اور بہت سی جانیں بچانے میں مددگار رہے ہیں۔ یہ اہل کار کانگریس، محکمہ دفاع اور خارجہ سے اس سلسلے میں مدد کی اپیل کر رہے ہیں کہ خالد، ان کی اہلیہ اور ان کے چار بچوں کو کابل ائیرپورٹ تک پہنچایا جائے اور انہیں ملک سے نکالا جائے۔
امریکی فوج کے سپیشل فورسز کے اہل کار اور کئی موجودہ اور سابقہ امریکی فوج کے ممبران میں سے ایک سارجنٹ میجر کرس گرین نے، جو خالد کے ساتھ کام کر چکے ہیں، اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ امریکی قوم کا فرض ہے کہ جن لوگوں نے ہماری مدد کی اور ہم سے اور اپنے ملک سے طویل عرصے تک وفادار رہے، اب جب کہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچا، ہم ان کی مدد کریں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا فرض ہے اور ’’اس وقت تو ہم یہ چاہتے ہیں کہ انہیں زندہ رہنے میں مدد کریں۔‘‘
کرس گرین کے مطابق خالد اور ان کے خاندان نے امریکہ میں ریفیوجی اسٹیٹس کے لئے درخواست دے رکھی ہے۔
اے پی کے مطابق جن لوگوں نے خالد کے ساتھ کام کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس مقصد کے لیے امریکی ایوان نمائندگان میں سے دو ممبران کی حمایت حاصل ہے۔
وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اب تک دس امریکی ریاستوں کے گورنروں نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی ریاست میں ان 22 ہزار افغان مہاجرین کو خوش آمدید کہیں گے جنہوں نے افغانستان کے مشن میں امریکہ کی مدد کی تھی۔


No media source currently available
یاد رہے کہ ابتدائی طور پر 2 ہزار افغان مہاجرین کو ورجینیا میں قائم امریکی فوجی اڈے فورٹ لی میں عارضی رہائش فراہم کی گئی ہے۔
امریکی ریاست میری لینڈ کے ری پبلکن گورنر لیری ہوگن نے ایک بیان میں افغانستان سے انخلا کے امریکی انتظامیہ کے فیصلے کو ‘جلد بازی پر مبنی’ اور ‘غیر ذمہ دارانہ’ قرار دیا اور کہا کہ پچھلے چند روز کے دوران افغانستان میں پیش آنے والے واقعات دل دکھانے والے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے افغان شہریوں نے، جو امریکہ کے حلیف تھے، بہادری سے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر افغانستان میں امریکی کوششوں کی حمایت اور مدد کی ہے، ان میں مترجم اور مددگار سٹاف شامل ہیں اور ان کے مطابق، یہ امریکہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے افراد کی مدد کے لئے ضروری اقدامات کرے۔
(اس رپورٹ کے لیے کچھ مواد ایسوسی ایٹڈ پریس ، سے لیا گیا ہے۔)

